ان دنوں ہر بچے کے ہاتھ میں کیا شے نظر آتی ہے؟
کل ایک صاحب کو میرے بیٹے کے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر تعجب ہوا۔
یہ جان کر اور حیران ہوئے کہ وہ ناول اردو کا تھا۔
’’میرے بچوں کو مطالعے کا شوق نہیں۔‘‘
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ پھر پوچھا،
’’آپ نے اپنے بچے میں کتابوں کا شوق کیسے پیدا کیا؟‘‘
میں نے کہا،
’’جب میرا بیٹا شیر خوار تھا اور روتا تھا تو میں اسے تصویروں والی کتاب دیتا تھا۔‘‘
پھر میں نے دریافت کیا،
’’آپ کا بچہ روتا تھا تو آپ اسے کیا دیتے تھے؟‘‘
اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام اقامتی منصوبے کے تحت ایک بھرپور اور یادگار ادبی نشست
’’نیشا پور سے کوالالمپور‘‘ ایک مطالعہ – ڈاکٹر ایمان شکری
”100 دِن امریکا میں‘‘: حسنین نازشؔ کی سفرنامہ نگاری کا انفرادی رنگ – محمد اکبر خان اکبر
الطیب الصالح کے ناول کا اردو ترجمہ ”زین کی شادی‘‘ – محمد عمران اسحاق
”چاک‘‘ کے شاعر، احمد وقاص کا سفرِ سخن – سجاد حیدر
دبئی کا سفر — ریت، روشنیوں اور رنگوں کی دنیا – عدنان اقبال
صاحبِ اسلوب ادیب، شاعر اور کالم نگار محمد اظہار الحق کی خودنوشت ”بکھری ہے میری داستاں‘‘ – محمد عمران اسحاق
نامور ادیب اور صحافی، راجہ انور کا کالمی مجموعہ ”ماضی کا حمام‘‘ – محمد عمران اسحاق
”آجڑی دا خاب‘‘، پاؤلو کوئیلو کے ناول ”الکیمسٹ‘‘ کا سرائیکی ترجمہ — ایک ادبی و فکری شاہکار – حسنین نازشؔ
منفرد لب و لہجہ کے شاعر، سید طاہر کا مجموعہ کلام، ”زرِ بینائی‘‘ کی کھوج میں – محمد اکبر خان اکبر











