ان دنوں ہر بچے کے ہاتھ میں کیا شے نظر آتی ہے؟
کل ایک صاحب کو میرے بیٹے کے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر تعجب ہوا۔
یہ جان کر اور حیران ہوئے کہ وہ ناول اردو کا تھا۔
’’میرے بچوں کو مطالعے کا شوق نہیں۔‘‘
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔ پھر پوچھا،
’’آپ نے اپنے بچے میں کتابوں کا شوق کیسے پیدا کیا؟‘‘
میں نے کہا،
’’جب میرا بیٹا شیر خوار تھا اور روتا تھا تو میں اسے تصویروں والی کتاب دیتا تھا۔‘‘
پھر میں نے دریافت کیا،
’’آپ کا بچہ روتا تھا تو آپ اسے کیا دیتے تھے؟‘‘
ثقافت – آمنہ سعید
تہذیب کی کہانی: جلد اول تا ششم، مختصر تعارف – یاسر جواد
نامور سفرنامہ نگار حسنین نازشؔ کی نئی کتاب ”100 دن امریکا میں‘‘ کی تقریبِ رونمائی
ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کا اولین سفرنامہ: ”دیو سائی‘‘، ایک ماہرِ معالج کا دلچسپ سفرنامہ – محمد اکبر خان اکبر
”خاموش فضا‘‘ محمدراشد فرہاد کے سفر سخن کی منزلِ چہارم – محمد اکبر خان اکبر
”بلوچستان میں اسٹیج ڈرامہ‘‘، ایک اعلٰی تحقیقی مقالہ – محمد اکبر خان اکبر
اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام اقامتی منصوبے کے تحت ایک بھرپور اور یادگار ادبی نشست
’’نیشا پور سے کوالالمپور‘‘ ایک مطالعہ – ڈاکٹر ایمان شکری
”100 دِن امریکا میں‘‘: حسنین نازشؔ کی سفرنامہ نگاری کا انفرادی رنگ – محمد اکبر خان اکبر
الطیب الصالح کے ناول کا اردو ترجمہ ”زین کی شادی‘‘ – محمد عمران اسحاق











