میں کراچی لٹریچر فیسٹول میں انتظار حسین کو تلاش کررہا تھا۔
پہلے دن وہ ہمیشہ مرکزی پنڈال میں دکھائی دیتے تھے۔
وہاں نہیں ملے۔
خیال آیا کہ مہمان خانے میں چائے پی رہے ہوں گے۔
وہاں کوئی نہیں تھا۔
میں نے سوچا کہ کسی سیشن میں گفتگو کررہے ہوں گے۔
وہ کسی ہال میں نظر نہ آئے۔
پریشان ہوکر میں نے افضال احمد سے پوچھا،
’’انتظار صاحب کہاں چلے گئے؟‘‘
افضال صاحب نے ایک کتاب اٹھاکر کہا،
’’ایک وقت آتا ہے جب ادیب خود افسانہ بن جاتا ہے۔
انتظار حسین اب ادبی میلوں میں نہیں، اپنی کتابوں میں ملیں گے۔‘‘
اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام اقامتی منصوبے کے تحت ایک بھرپور اور یادگار ادبی نشست
’’نیشا پور سے کوالالمپور‘‘ ایک مطالعہ – ڈاکٹر ایمان شکری
”100 دِن امریکا میں‘‘: حسنین نازشؔ کی سفرنامہ نگاری کا انفرادی رنگ – محمد اکبر خان اکبر
الطیب الصالح کے ناول کا اردو ترجمہ ”زین کی شادی‘‘ – محمد عمران اسحاق
”چاک‘‘ کے شاعر، احمد وقاص کا سفرِ سخن – سجاد حیدر
دبئی کا سفر — ریت، روشنیوں اور رنگوں کی دنیا – عدنان اقبال
صاحبِ اسلوب ادیب، شاعر اور کالم نگار محمد اظہار الحق کی خودنوشت ”بکھری ہے میری داستاں‘‘ – محمد عمران اسحاق
نامور ادیب اور صحافی، راجہ انور کا کالمی مجموعہ ”ماضی کا حمام‘‘ – محمد عمران اسحاق
”آجڑی دا خاب‘‘، پاؤلو کوئیلو کے ناول ”الکیمسٹ‘‘ کا سرائیکی ترجمہ — ایک ادبی و فکری شاہکار – حسنین نازشؔ
منفرد لب و لہجہ کے شاعر، سید طاہر کا مجموعہ کلام، ”زرِ بینائی‘‘ کی کھوج میں – محمد اکبر خان اکبر











