میں نے بھنڈیوں کی دو بوریاں خریدیں اور بیٹے کے حوالے کرکے کہا،
’’انہیں شام تک فروخت کرکے منافع کماؤ۔‘‘
بیٹا دن بھر میں دو بوری بھنڈی نہیں بیچ سکا۔
اگلے دن میں نے لوکی کی دو بوریاں خریدیں اور بیٹے کے حوالے کردیں۔
وہ شام تک چند کلو سے زیادہ مال نہیں بیچ سکا۔
تیسرے دن میں نے آلوؤں کی دو بوریاں خریدیں۔
اس شام میں نے حساب کتاب کیا اور فیصلہ سنایا،
’’بیٹے! تم نا کام تاجر ہو۔‘‘
بیٹے نے مودب لہجے میں کہا،
’’ابا جی! کامیاب تاجر تب بنوں گا جب خریداری مجھے کرنے دیں گے۔‘‘
تہذیب کی کہانی: جلد اول تا ششم، مختصر تعارف – یاسر جواد
نامور سفرنامہ نگار حسنین نازشؔ کی نئی کتاب ”100 دن امریکا میں‘‘ کی تقریبِ رونمائی
ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کا اولین سفرنامہ: ”دیو سائی‘‘، ایک ماہرِ معالج کا دلچسپ سفرنامہ – محمد اکبر خان اکبر
”خاموش فضا‘‘ محمدراشد فرہاد کے سفر سخن کی منزلِ چہارم – محمد اکبر خان اکبر
”بلوچستان میں اسٹیج ڈرامہ‘‘، ایک اعلٰی تحقیقی مقالہ – محمد اکبر خان اکبر
اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام اقامتی منصوبے کے تحت ایک بھرپور اور یادگار ادبی نشست
’’نیشا پور سے کوالالمپور‘‘ ایک مطالعہ – ڈاکٹر ایمان شکری
”100 دِن امریکا میں‘‘: حسنین نازشؔ کی سفرنامہ نگاری کا انفرادی رنگ – محمد اکبر خان اکبر
الطیب الصالح کے ناول کا اردو ترجمہ ”زین کی شادی‘‘ – محمد عمران اسحاق
”چاک‘‘ کے شاعر، احمد وقاص کا سفرِ سخن – سجاد حیدر











