پاپا! ہر کلاس میں کچھ تنگ کرنے والے ہوتے ہیں۔
میری کلاس میں ایک دو نہیں، پورے آٹھ تھے۔
انھوں نے میری زندگی مشکل بنارکھی تھی۔
میں کتاب کھولتی تو ایک قہقہہ لگاتا۔
جب کچھ لکھتی تو دوسرا منہ چڑاتا۔
کبھی کچھ بولتی تو تیسرا مذاق اڑاتا۔
میں گھر آکر بھی روہانسی ہوئی رہتی تھی۔
لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔
جم کر سب کا مقابلہ کیا۔
خوب محنت کی
اور آٹھوں کو شکست دے دی۔
پاپا! آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی
کہ او لیول کا رزلٹ آگیا ہے
اور میں نے پورے آٹھ ایز حاصل کیے ہیں۔
”دبستانِ بولان، کوئٹہ‘‘ کی ماہانہ محفلِ مسالمہ – رپورٹ: پروفیسر صدف چنگیزی
”منکر نکیر‘‘، سید معین اختر نقوی کا اعلٰی و منفرد مزاحیہ شعری مجموعہ – محمد اکبر خان اکبر
تھا سراپا روح تو بزمِ سخن پیکر ترا – محمد اکبر خان اکبر
حکومت اُردو زبان کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی، وفاقی وزیر اورنگزیب خان کچھی
ثقافت – آمنہ سعید
”صنعتِ تلمیح، کل اور آج‘‘، ادبِ اردو کا ایک اہم موضوع – محمد اکبر خان اکبر
تہذیب کی کہانی: جلد اول تا ششم، مختصر تعارف – یاسر جواد
نامور سفرنامہ نگار حسنین نازشؔ کی نئی کتاب ”100 دن امریکا میں‘‘ کی تقریبِ رونمائی
ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کا اولین سفرنامہ: ”دیو سائی‘‘، ایک ماہرِ معالج کا دلچسپ سفرنامہ – محمد اکبر خان اکبر
”خاموش فضا‘‘ محمدراشد فرہاد کے سفر سخن کی منزلِ چہارم – محمد اکبر خان اکبر











