مطالعے سے گریز کیوں؟ – ایم ابراہیم خان

جسم کی توانائی برقرار رہنے کے لیے خوراک، ہوا اور پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر بروقت خوراک نہ ملے تو جسم کمزور پڑجاتا ہے، نقاہت طاری ہو جاتی ہے اور ہم اپنے کام پوری توانائی اور توجہ سے نہیں کر پاتے۔ اسی طور اگر ہوا اور پانی کا معیار پست ہو تو ہمارے جسم میں توانائی کی شدید کمی واقع ہوتی ہے۔ تازہ ہوا میں سانس لینا اور صاف پانی پینا ہمارے جسم کے حق میں اِکسیر ثابت ہوتا ہے۔ جو لوگ بند کمروں والے مکانات میں رہتے ہیں اُنہیں تازہ ہوا نہیں مل پاتی اور اس کا نتیجہ ان کی صحت کے گرتے رہنے کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔
روشنی سے محرومی کا بھی یہی حال ہے۔ جن لوگوں کے گھروں میں روشنی (دھوپ) کا اہتمام نہیں ہوتا ان میں رفتہ رفتہ مختلف جسمانی اور ذہنی پیچیدگیاں پیدا ہوتی جاتی ہیں۔ دھوپ نہ ملنے سے انسان چستی اور پھرتی سے محروم ہوتا جاتا ہے۔ جن علاقوں میں صاف ستھرا پانی میسر نہیں ہوتا وہاں لوگ تیزی سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے جاتے ہیں۔
آپ سوچیں گے مطالعے کا پانی، ہوا، خوراک، دھوپ وغیرہ سے کیا تعلق؟ مقصود صرف یہ بیان کرنا ہے کہ جس طور جسم کے لیے خوراک، پانی، ہوا اور دھوپ ناگزیر ہیں بالکل اسی طور ہمارے ذہن کی توانائی، بلکہ بقاء کے لیے مطالعہ ناگزیر ہے۔ جو لوگ ذہن کو زندہ اور توانا رکھنا چاہتے ہیں وہ مطالعے پر خاص توجہ دیتے ہیں۔ کچھ نہ کچھ پڑھتے رہنے سے ہم میں غیر محسوس طور پر غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ مطالعہ ہی ہمیں تبدیل ہونے کی تحریک دیتا ہے۔ جو لوگ مطالعے کو عادات اور زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں وہ اپنے آپ کو بدلنے کی تحریک بھی پاتے رہتے ہیں۔
مطالعے سے مراد محض پڑھنا نہیں۔ آج کسی بھی کتاب کو پڑھنے کے ساتھ سننا بھی ممکن ہوگیا ہے۔ انٹر نیٹ پر لاکھوں کتابیں متن اور آڈیو فائل کی شکل میں موجود ہیں۔ بہت سے لوگ کار میں یومیہ سفر کے دوران کتابیں سنتے ہیں۔ آپ بھی ایم پی تھری پلیئر کے ذریعے کسی بھی کتاب کو سنتے ہوئے سفر کرسکتے ہیں۔ بسوں میں لوگ سفر کے دوران کتابیں پڑھتے رہتے ہیں۔ اس صورت میں مطالعے کے لیے الگ سے وقت نکالنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ سوال صرف یہ ہے کہ آپ مختلف موضوعات پر دوسروں کی کاوشیں کس طرح اپنے ذہن تک پہنچاتے ہیں اور کتنا اثر قبول کرتے ہیں۔ مطالعے کی صورت میں آپ دوسروں کی دانش مندی سے ہم کنار ہوتے ہیں اور بہت کچھ سیکھتے ہیں۔
دنیا بھر میں سیکھنے کا ایک اچھا طریقہ مطالعہ ہے۔ اخبارات اور جرائد پڑھنے اور باضابطہ مطالعہ کرنے میں بہت فرق ہے۔ میڈیا میں تقریباً سبھی کچھ محض سرسری انداز سے لکھا جاتا ہے۔ مضامین اور کالموں کے باقاعدہ مطالعے سے ذہن کیلئے تھوڑی بہت بالیدگی کا اہتمام ضرور ہوتا ہے تاہم ذہن کی توانائی میں حقیقی اضافہ صرف اس وقت ہوتا ہے جب ہم مستند کتابیں پڑھتے ہیں۔ برسوں کی تحقیق کے بعد جو کتابیں مرتب ، تدوین یا تخلیق کی جاتی ہیں ان میں ہمارے ذوق اور ضرورت کی تسکین کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے۔ کتاب ہمیں بہت کچھ دینے میں اس لیے کامیاب ہوتی ہے کہ بالعموم وہ بہت محنت سے لکھی جاتی ہے۔ مغربی اور دیگر ترقی یافتہ معاشروں میں لوگ اعداد و شمار کی درستی اور حقائق پر نظر رکھتے ہیں، حوالے دیتے ہیں اور ضرورت محسوس ہونے پر متعلقہ شخصیات سے رابطہ بھی کرلیتے ہیں تاکہ تمام معاملات میں سند رہے۔
دنیا بھر میں لوگ اپنی کارکردگی کا معیار بلند کرنے اور شخصیت میں اعتماد و تمکنت پیدا کرنے کے لیے مطالعے کو زندگی کا لازمی حصہ بناتے ہیں۔ جو لوگ کیریئر میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں وہ خاص دل جمعی اور تندہی سے مطالعہ جاری رکھتے ہیں۔ مطالعے کی عادت انہیں ہر قسم کی صورت حال کے لیے تیار رکھتی ہے۔ باقاعدگی سے پڑھتے رہنے کی صورت میں وہ اپنے اندر پیدا ہونے والی خامیوں اور پیچیدگیوں کو دور کرنے میں بروقت کامیاب ہو پاتے ہیں۔ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں وہ دوسروں سے بہتر ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ ایک طرف تو وہ اپ ڈیٹ اور اپ گریڈ ہوتے ہیں اور دوسری طرف ان میں اعتماد کی سطح بلند ہوتی رہتی ہے۔ دوسروں سے زیادہ جاننا ہی انسان میں حقیقی اعتماد پیدا کرتا ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے آپ میں حقیقی تبدیلی اسی وقت محسوس یا پیدا کرسکتا ہے جب متعلقہ شعبے میں اس کا مطالعہ غیر معمولی وسعت کا حامل ہو۔ مطالعے کی وسعت ہی شخصیت کی گہرائی اور گیرائی کا تعین کرتی ہے۔
ہر دور میں وہی لوگ عمومی سطح سے بلند ہو پائے ہیں جنہوں نے دوسروں سے بہت کچھ سیکھا ہے، استفادہ کیا ہے۔ سیکھنے کی کئی صورتیں اور طریقے ہیں۔ سب سے آسان، کارگر اور موثر طریقہ مطالعہ ہے۔
ہم جس معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں اس میں مطالعے کو زندگی کا لازمی جُز اب تک نہیں بنایا جاسکا۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ بچوں کو یہ بتایا ہی نہیں جاتا کہ مطالعہ کوئی اضافی قابلیت نہیں بلکہ زندگی کی لازمی ضرورت ہے۔ مطالعے کو لوگ اضافی معاملہ سمجھتے ہیں۔ ہمیں اپنے ذہن میں یہ بات اچھی طرح نصب کر لینی چاہیے کہ مطالعہ آپشن نہیں ہے ناگزیر معاملہ ہے۔ ہمیں یہ اپنانا ہی ہے۔ اگر زندگی کا معیار بلند کرنا اور کامیابی کو یقینی بنانا مقصود ہے تو لازم ہے کہ ہم مطالعے کی عادت کو رگ و پَے میں سمولیں۔ زیادہ سے زیادہ مطالعہ ہی ہمیں زیادہ سے زیادہ قابلیت سے ہم کنار کرسکتا ہے۔
ہمارا ایک بنیادی مسئلہ ہے یہ ہے کہ مطالعے کو خصوصی رجحان سمجھ لیا گیا ہے۔ ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ مطالعہ اسے نہیں کرنا ہے یا مطالعے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ سب سے پہلے تو ہمیں اپنے ذہن سے یہ بات اچھی طرح کھرچ کر پھینکنی ہے کہ مطالعہ صرف انہیں کرنا چاہیے جنہیں مطالعے کا شوق ہو۔ بہتر زندگی کیلئے مطالعہ ناگزیر معاملہ ہے۔ اگر شوق یا ذوق نہ بھی ہو تو پیدا کرلینا چاہیے۔ اس معاملے میں اپنی ذمہ داری محسوس نہ کرنا اپنے آپ سے شدید ناانصافی کے سوا کچھ نہیں۔ ہمیں مطالعے سے الرجک ہونے کی روش ترک کرکے خود کو علم کے حصول کی طرف مائل کرنا ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ مطالعہ ہی کم علمی کی موت ہے۔
ہماری کامیابی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ مطالعے کی عادت کا نہ ہونا یا مطالعے کے شوق کا پختہ نہ ہونا بھی ہے۔ جب ہم مطالعہ ترک کردیتے ہیں تو ایک مقام پر رُک جاتے ہیں۔ پھر جس طرح ٹھہرے ہوئے پانی میں کائی جم جاتی ہے بالکل اُسی طرح مطالعہ نہ کرنے سے ہمارے ذہن کو بھی زنگ لگ جاتا ہے۔
مطالعے کی عادت ہمیں فریضے کی سی عقیدت کے ساتھ اپنانی چاہیے تاکہ دنیا بھر کی عصری اور سابق دانش سے واقفیت رہے۔ جب ہم مطالعہ ترک کرتے ہیں تو ذہن کی نشو و نما رک جاتی ہے اور ہم اپنے آپ کو نئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تیار کرنے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں۔ جب ہم اپنے شعبے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ پڑھتے ہیں تو اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز سے بروئے کار لانے کا ولولہ پورے وجود میں محسوس ہوتا ہے۔
مطالعے سے بیزاری اور الرجی پر مبنی رویہ ہمیں حقائق کی دنیا سے دور لے جاتا ہے۔ جب ہم منظم مطالعہ نہیں کرتے تب بہت سے معاملات میں ہمارے اپ ڈیٹ ہونے کی راہ ہموار نہیں ہوتی۔ اگر کامیابی کو گلے لگانا ہے تو مطالعے کو گلے لگائیے۔ زیادہ پڑھنے والے ہی آگے بڑھتے ہیں۔

(روزنامہ دنیا)

اپنا تبصرہ بھیجیں