سفر ہے شرط – رضا علی عابدی

جو لوگ ملکوں کے سفر پر نکلتے ہیں ان کی ترجیحات الگ الگ ہوتی ہیں۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ وہ کسی غیر ملک میں جاکر کیا دیکھنا پسند کریں گے تو بہت مزے مزے کے جواب ملیں گے۔ میں نے بارہا ایسے سفر کیے اور ہر بار مجھ سے میرے میزبانوں نے ایسے ہی سوال کیے۔ میں نے جواب میں اپنا سوال پیش کردیا۔ یہ بتائیے آپ کے ہاں کون کون سی دیکھنے کی جا ہے۔مجھے بتایا گیا کہ عمدہ عجائب گھر ہیں، شاندار مساجد ہیں، لق و ق صحر ا ہیں، شاپنگ پلازہ ہیں، کتب خانے ہیں اور تعلیمی ادارے ہیں۔ اب بتائیے آپ کیا چاہتے ہیں؟ میرا ایک ہی جواب ہوتا ہے، مجھے لوگوں سے ملوائیے۔ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے احباب سے ملاقات کرائیے، پڑھے لکھے لوگ ہوں، سادہ محنت کش ہوں، کوئی بڑا کام کر گزرے ہوں، ان سے ملوائیے۔ اور ہاں، حکام اور حکمرانوں کو جانے ہی دیجئے، ان سے ملنے کے لیے میرے پاس وقت نہیں ہے۔ اس پر یاد آیا کہ چند برس پہلے مجھے مصر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں بہت اچھا وقت گزارا۔ عمدہ کیمرا کاندھے پر لٹک رہا تھا۔ انسان مصر جائے اور تصویریں نہ اتارے، یہ کیونکر ممکن ہے۔ میں نے بھی جی بھر کر فوٹوگرافی کی اور واپس آکر اپنی فلمیں دھلوائیں تو عمارتوں کی کم اور مصری باشندوں کے چہروں کی تصویریں زیادہ نکلیں۔ تو میری اس ترجیح کے پیچھے کون سا جذبہ چھپا ہے۔ سیدھی سی بات ہے، مجھے انسان سے دلچسپی ہے۔ عمارتوں کی تصویریں مجھے خاموش اور سپاٹ نظر آتی ہیں۔ انسان کے چہرے پر لکھی داستا نیں کہیں زیادہ بولتی ہیں۔ بس،میرا کیمرہ اپنے دامن میں ایسے ہی عکس سمیٹے اور انہیں سینے سے لگائے ان کی حفا ظت کرتا ہے۔
مگر حال ہی میں بڑا خسارہ ہوا۔ میں کویت گیا اور اپنا کیمرہ ساتھ لے جانا بھول گیا۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ملنے، گرمجوشی سے مصافحہ کرنے اور گھل مل کر باتیں کرنے کا موقع خوب خوب ملا لیکن ان کی تصویریں اتارنے کی سعادت سے محروم رہا۔ ایک اور عجب بات یہ ہوئی کہ دوسرے احباب تصویریں اتار رہے تھے اور وہ بھی بے حساب۔ میں نے چند سے درخواست کی کہ کچھ تصویریں مجھے بھیج دیں۔ کمپیوٹر کے آنے سے یہ کام بہت سہل ہوگیا ہے۔ بڑے وعدے بھی ہوئے اور یقین دہانیاں بھی ہوئیں۔ مگر پھر حوصلہ ہار کر یہی کہنا پڑا کہ مصروفیت کا دور ہے۔ لوگوں نے مجھے اور اس کچھ دیر کی رفاقت کو یاد رکھا، یہی غنیمت ہے۔
مگر کویت کے اس سفر کے بارے میں ایک اعتراف ضرور کروں گا۔ بے شمار لوگوں سے ملا، سارے کے سارے نہایت نفیس، اعلیٰ ظرف، خوش طبع اور باذوق نکلے۔ وہ جو گرمجوشی کا ایک اپنا ہی لطف ہوتا ہے، وہ کویت میں خوب خوب بٹورا۔ انسانی رشتے اور تعلق کا ایک الگ ہی جذبہ اور احساس ہوتا ہے، اُس قربت اور اپنے پن کی کیفیت سے مالا مال ہوا۔ ایک امدادی تنظیم نے جو ایس او ایس کے نام سے مختلف علاقوں میں یتیم اور نادار بچّوں کی دیکھ بھال کرتی ہے، اس سے تعلق رکھنے والے کویتی احباب میرے میزبان تھے۔ ان کے ساتھ کئی محفلیں ہوئیں اور ایک بڑے ہوٹل میں ضیافت ہوئی جہاں مجھے کچھ اپنی زندگی کی کہانیاں سنانے کا موقع دیا گیا۔ وہاں اپنے قیام کے دوران ملنے والے کچھ لوگ بہت یاد رہیں گے۔ خاص طور پر عبید الرحمان آرائیں صاحب جو سرکردہ پاکستانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ مشرق وسطیٰ کی بہت بڑی انجینئرنگ کمپنی گلف کنسلٹنٹ کے سربراہ ہیں۔ ان کے ادارے میں آٹھ سو سے زیادہ ملازمین کام کرتے ہیں جن میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد ہے۔ پاکستان سے ان کو بہت شغف ہے۔ بہت طویل عرصے برطانیہ اور امریکہ میں رہنے کے باوجود انہوں نے اپنی پاکستانی شناخت بر قرار رکھی اور مجھے یقین ہے کہ اس بات پر نازاں ہوں گے۔ کراچی کے تعلیم یافتہ ہیں اور امریکہ سے اسٹرکچرل انجینئرنگ کی ڈگری لی ہے۔ عجب اتفاق ہوا کہ وہیں عبید صاحب کے رفیق کار عزیز ماموجی سے ملاقات ہوئی۔ بڑی عمرکینیا میں گزاری ا ور عمارت سازی میں مہارت حاصل کی۔ بوہری ہیں، اُردو مادری زبان نہیں لیکن اس سے لگاؤ ہے۔ خود انگریزی اور اردو دونوں زبانیں بولتے ہیں۔ میں جو اپنی سادہ اور سہل اردو میں تقریر کر رہا تھا، دیکھ رہا تھا کہ میری گفتگو سے عزیز ماموجی بہت لطف اندوز ہو رہے تھے۔ نہایت پر خلوص اور مہمان نواز شخصیت ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر ظفر امان شیخ صاحب ملے ایسے جیسے پرانے واقف کار ہوں۔ معالج ہیں اور وہ بھی انسان دوست معالج۔ کویت کے مبارک اسپتال سے وابستہ ہیں، فرینڈز ویلفیئر ٹر سٹ کے سربراہ ہیں اور راولپنڈی کا اسپتال انہی کی کوششوں سے تعمیر ہوا۔ کویت کے اس دورے میں شمیم مظفر صاحب کے ساتھ بھی وقت گزرا۔ پیشے کے اعتبار سے سول انجینئر ہیں۔ میرا ان کا تعلق یوں بھی قریبی رہا کہ کویت کی ادبی سرگرمیوں میں پیش پیش ہیں۔ پڑھنے لکھنے سے شغف ہے اور شعر بھی کہتے ہیں۔ دلچسپ گفتگو کرتے ہیں جو پڑھے لکھوں کی شان ہے۔ جو اور احباب یاد رہیں گے ان میں جناب فخر عالم شامل ہیں۔ وہ بھی سول انجینئر ہیں اور فن تعمیر سے گہرا تعلق ہے۔ جس محفل میں بھی شریک ہوئے اس کو خوشگوار بنائے رکھا۔ پتہ چلا کہ لکھتے بھی ہیں اور وہ بھی طنز و مزاح جو بڑا مشکل کام ہے۔ دوسر ے احباب نے بتایا کہ فخر عالم صاحب بہت اچھی تقریر بھی کرتے ہیں۔ یہ ساری خوبیاں یکجا ہونا بڑی بات ہے۔ اورآخر میں ذکر میرے میزبان محمد حنیف اور ان کی بیگم ثروت فاطمہ کا جنہوں نے میرے چار دن کے قیام میں میری دیکھ بھال اور دلجوئی کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کیا۔ ان کی دو بیٹیوں اور ایک نواسے سے بھی ملاقات ہوئی۔ پیار بھرا گھرانا ہے جس سے میرا تعلق نیا نہیں۔ حنیف یوں تو آئی ٹی کے پیشے سے وابستہ ہیں لیکن میرا اور ان کا ایک شوق مشترک ہے، پرانے گانے جمع کرنے کا مشغلہ۔ ان کی ایک ویب سائٹ پر پاکستانی گانوں کا بڑا ذخیرہ ہر خاص و عام کےفیض اٹھانے کے لیے کھلا ہے۔ خوش رہیں، یہی دعا ہے میری۔

(جنگ)

اپنا تبصرہ بھیجیں