مطالعہ کیوں… کیا … اور کیسے؟؟؟ – مولوی فاروق اعظم عاجز قاسمی

ایک شہسوارِ قلم کے لیے مطالعہ اتنا ضروری ہے جتنا انسانی زندگی کی بقاء کے لیے دانا اور پانی کی ضرورت ہے. مطالعہ کے بغیر قلم کے میدان میں ایک قدم بھی بڑھانا بہت مشکل ہے. علم انسان کا امتیاز ہی نہیں؛ بلکہ اس کی بنیادی ضرورت بھی ہے، جس کی تکمیل کا واحد ذریعہ یہی مطالعہ ہے. ایک پڑھے لکھے شخص کے لیے معاشرہ کی تعمیر و ترقی کا فریضہ بھی اہم ہے؛ اس لیے مطالعہ ہماری سماجی ضرورت بھی ہے۔ اگرانسان اپنے اسکول و مدرسہ کی تعلیم مکمل کرکے اسی پر اکتفا کرکے بیٹھ جائے تو اس کے فکر و نظر کا دائرہ بالکل تنگ ہوکر رہ جائے گا۔ مطالعہ استعداد کی کنجی اور صلاحیتوں کو بیدار کرنے کا بہترین آلہ ہے۔ یہ مطالعہ ہی کا کرشمہ ہے کہ انسان ہر لمحہ اپنی معلومات میں وسعت پیدا کرتا رہتا ہے اور زاویہٴ فکر ونظر کو وسیع سے وسیع تر کرتا رہتا ہے۔

مطالعہ ایک ایسا دوربین ہے جس کے ذریعے انسان دنیا کے گوشہ گوشہ کو دیکھتا رہتا ہے. مطالعہ ایک طیارے کی مانند ہے جس پرسوار ہوکر ایک مطالعہ کرنے والا دنیا کے چپہ چپہ کی سیر کرتا رہتا ہے اور وہاں کی تعلیمی، تہذیبی، سیاسی اور اقتصادی احوال سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ شورش نے کہا: ”کسی مقرر کا بلامطالعہ تقریر کرنا ایسا ہی ہے جیسا بہار کے بغیر بسنت منانا، یالو، میں پتنگ اڑانا“ (۱) یہ تو ایک مقرر کے سلسلے میں بات تھی؛ لیکن ٹھیک یہی صورت ایک قلم کار کی بھی ہے۔ مولانا نورعالم خلیل امینی صاحب فرماتے ہیں: ”آج لوگ لکھنے والے زیادہ اور پڑھنے والے کم ہوگئے جس کے نتیجے میں تحریر کی اثر آفرینی ختم ہوگئی؛ اس لیے تحریر کو موثر بنانے کے لیے ضرورت ہے کہ ایک صفحہ کو لکھنے کے لیے سو صفحات کا مطالعہ ہو“(۲) پروفیسر عبدالمغنی کہتے ہیں: ”مطالعہ کی غرض علم کا حصول اور راہ عمل کی تلاش ہے“(۳)

شیشی کے اندراگر مشک ہوتو کھولنے کے بعد خوشبو ضرور پھیلتی ہے اسی طرح جب ایک قلم کار کا مطالعہ وسیع اور گہرا ہوتا ہے تو اس کی تحریر میں قوت اور اثر ہوتا ہے؛ ورنہ تحریر کمزور، پھسپھسی اور بے جان ہوتی ہے۔

عربی کا ایک مشہور محاورہ ہے: ”زمانے کا بہترین دوست کتاب ہے“ اسی کو شورش مرحوم نے اس طرح کہا ہے: ”کتاب سا مخلص دوست کوئی نہیں“۔ اسی طرح ایک مفکر کہتا ہے: ”کتابوں کا مطالعہ انسان کی شخصیت کو ارتقاء کی بلندمنزلوں تک پہنچانے کا اہم ذریعہ، حصول علم ومعلومات کا وسیلہ اور عملی تجربانی سرمایہ کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے اور ذہن وفکر کو روشنی فراہم کرنے کا معروف ذریعہ ہے۔“(۴)

کتابوں سے جہاں معلومات میں اضافہ اور راہ عمل کی جستجو ہوتی ہے وہیں اس کا مطالعہ ذوق میں بالیدگی، طبیعت میں نشاط، نگاہوں میں تیزی اور ذہن ودماغ کو تازگی بھی بخشتا ہے۔

مطالعہ کن کتابوں کا ہو؟

مطالعہ ایسی کتابوں کاہو جو نگاہوں کو بلند، سخن کو دل نواز اور جاں کو پرسوز بنادے، اگر مطالعہ فکر کی سلامت روی، علم میں گیرائی اور عزائم میں پختگی کے ساتھ ساتھ فرحت بخش اور بہار آفریں بھی ہوتو اسے صحیح معنوں میں مطالعہ کہاجائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ آج کا دور انتہائی ترقی پذیر اور مسابقہ کا دور ہے. ذرائع ابلاغ و ترسیل کی بہتات ہے اور سہولیات کی بھی کمی نہیں ہے؛ ایسے ہی طرح طرح کے اخبارات و رسائل اور کتابوں کی بھی فراوانیاں ہیں۔ اب ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کتابوں کی اس ریل پیل اور جنگل میں کن کا مطالعہ کیاجائے اور کن کو چھوڑا جائے؟ اس کا سیدھا سا جواب یہی ہے کہ یہ ممکن نہیں؛ اس لیے کہ نہ ہر کتاب قابل مطالعہ ہے اورنہ ہی تمام کتابوں کے مطالعہ کرنے کی انسانی زندگی میں گنجائش۔ اس لیے انتہائی چھان پھٹک کر کتابوں کا انتخاب ہونا چاہیے۔ یہ بات بھی انتہائی ضروری ہے کہ کتاب ایمان سوز اوراخلاق سوز نہ ہو؛ اس لیے کہ مطالعہ ہی کے غلط رخ نے عبدالماجد کو ارتداد کے گڈھے میں دکھیل دیا تھا؛ لیکن بعد میں اسی شخص کے مطالعہ کی سمت جب درست ہوئی تو عبدالماجد مولانا عبدالماجد ہوگئے اور مفسرِ قرآن اس شخص کے نام کا جزولاینفک بن گیا. صحت مند مواد اور مستند مصنّفین کی کتابوں کے مطالعہ ہی کا کرشمہ کہنا چاہیے کہ امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی رحمة الله عليه (نومسلم) دس بارہ سال ہی کی عمر میں اسلام کی طرف مائل ہوگئے تھے۔ اسلیے معتبر و مستند مصنّفین ہی کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ کتابوں کے انتخاب کے سلسلے میں مولانا یعقوب رحمة الله عليه کے حوالہ سے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه شاہ ولی اللہ رحمة الله عليه کا ایک مقولہ نقل کرتے ہیں: ”جب کسی کتاب کے مطالعہ کا ارادہ کرو تو پہلے اس کے نام کو دیکھو، اگر نام ہی اصل مضمون کے مناسب نہ ہو تو اس کو چھوڑ دو، پھر تمہید کو دیکھو، اگر وہ کتاب کے مضمون کے مناسب نہیں ہے تو چھوڑدو، اس کے مطالعہ میں وقت ضائع نہ کرو، جب نام اور تمہید میں مناسبت دیکھ لو تب آگے بڑھو۔“(۵)

اس سلسلے میں ایسے اساتذہ کی رہنمائی بھی بڑی کارآمد ہوتی ہے جن پر مطالعہ کرنے والے کو مکمل اعتماد ہو. رہنما ایسا ہونا چاہیے جو بذات خود ہر اعتبار سے ایک پیاسے کی تشنہ لبی کو دور کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہو۔ مفکراسلام ممتاز عالم دین مولانا علی میاں ندوی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ”مطالعہ وسیع کیجئے! اور اس کے لیے اساتذہ سے، خاص طورپر مربی الاصلاح سے اور ان اساتذہ سے جن سے آپ کا رابطہ ہے، ان سے مشورہ لیجئے“۔(۶) اسی طرح اس پگڈنڈی پر انتہائی سبک روی سے چلنے کی ضرورت ہے۔ مولانا ندوی رحمة الله عليه مزید فرماتے ہیں: ”یہ ایک پل صراط ہے اس پر سبک روی اور بہت احتیاط کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے“۔ (۷) یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر رضى الله تعالى عنه جیسے عظیم شخص کو حضور صلى الله عليه وسلم نے توریت جیسی عظیم المرتبت، آسمانی کتاب کے مطالعہ سے منع فرما دیا تھا۔

مطالعہ کے بنیادی مواد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر یٰسین مظرصدیقی ندوی کہتے ہیں: ”مطالعہ میں ہدایت نبوی کے مطابق سب سے اچھی چیزیں لے لیں اور بری چیزیں چھوڑدیں، اس میں انصاف سے کام لیں کہ یہی خیر کا دروازہ ہے“۔(۸) ایسے ہی انسانی زندگی کے محدود ہونے کی وجہ سے تمام موضوعات کا احاطہ مشکل ہے؛ البتہ ہر موضوع سے کچھ نہ کچھ واقفیت ضروری ہے۔ چناں چہ نعیم صدیقی صاحب رقم طراز ہیں: ”بنیادی طور پر قرآن و حدیث اور ان سے متعلق علوم پر جس حد تک ممکن ہو، نگاہ ہونی چاہیے… پھر حضور نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی سیرت اور صحابہ كرام رضوان الله تعالى عليهم اجمعين کے سیر پر نظر ہونی چاہیے… ضروری ہے مطالعہ کا سفر کرنے والا ہر شخص کم از کم اپنے ملک اوراپنی قوم؛ بلکہ اپنی تہذیب کے ادبیات سے واقف ہو“۔(۹) جس طرح کتابوں کے انتخاب کا مرحلہ بڑا نازک ہے اسی طرح مطالعہ میں ترتیب کی رعایت بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے، اس لیے مطالعہ کے معیار کو بتدریج بڑھایا جائے، ایسا نہ ہو کہ نورانی قاعدہ تو پڑھی نہیں اور قرآن شریف ہی پڑھنا شروع کردیا۔

طریقہٴ کار

مطالعہ ایک خوبصورت گلشن کی مانند ہے، اس میں خوشبو بھی ہے، دل آویزی بھی ہے، اور خاردار شاخیں بھی ہیں۔ ایک طرف جہاں مطالعہ کی اہمیت مسلم اور افادیت قابل ذکر ہے، ساتھ ہی ساتھ اس کے مواد میں انتہائی چاق و چوبندی ناگزیر ہے۔ اسی طرح اس کے طریقہ کار سے بھی واقفیت بہت ہی ضروری ہے؛ اس لیے کہ کسی بھی کام کو اگر اس کے اصول وضابطہ سے کیا جائے تو وہ کارآمد ثابت ہوتا ہے؛ ورنہ نفع تو درکنار نقصان ضرور ہاتھ آتا ہے، فرض کیجئے! آپ کے پاس وقت بھی ہے، کتابیں بھی اچھی ہیں؛ لیکن ذہن پریشان، آنکھوں میں درد اور روشنی بھی مدہم تو آپ مطالعہ نہیں کرسکتے، اگر اسی صورت حال میں مطالعہ کی کوشش کریں گے تو صحت پر اس کا بہت برا اثر پڑے گا۔ اس لیے صحت کا خیال بھی بہت ضروری ہے، بطور خاص آنکھوں کا خیال۔

یہ بھی قابل ذکر بات ہے کہ اس خیال سے مطالعہ کو ہرگز ترک نہیں کرنا چاہئے کہ یاد نہیں رہتا؛ بلکہ مطالعہ ضرور کرے کہیں نہ کہیں اس کافائدہ ضرور ظاہر ہوتا ہے؛ اس لیے کہ مہندی میں سرخی پتھر پر بار بار گھسنے کے بعد ہی آتی ہے۔ مولانا عبدالسلام خاں لکھتے ہیں: ”مطالعہ جتنا زیادہ ہوگا اتنا ہی جلد محفوظ ہوگا اور تیز ہوگا؛ اس لیے کتب بینی کو سست روی یا یاد نہ رہنے کی وجہ سے ترک نہ کرنا چاہئے۔“

حاصل مطالعہ

مطالعہ کے ساتھ ساتھ حاصل مطالعہ کو ذہن نشین کرنے کی تدبیر بھی ضروری ہے۔ علم ومعلومات کی مثال ایک شکار کی سی ہے؛ لہٰذا اسے فوراً قابو میں کرنا چاہیے۔ امام شافعی رضى الله تعالى عنه فرماتے ہیں: ”علم ایک شکار کی مانند ہے، کتابت کے ذریعے اسے قید کرلو“۔ اس لیے مطالعہ کے دوران قلم کاپی لے کر خاص خاص باتوں کو نوٹ کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے؛ ورنہ بعد میں ایک چیز کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور وہ نہیں ملتی ہے۔ اب یا تو سرے سے بات ہی ذہن سے نکل جاتی ہے یا یاد تو رہتی ہے لیکن حوالہ دماغ سے غائب ہوجاتا ہے. ڈاکٹر صمت جاوید کا کہنا ہے کہ : ”یاد رکھنے کے قابل بات ہمیں دورانِ مطالعہ معلوم کتابوں پر دوران مطالعہ اہم مقامات پر نشان لگانے اور کتاب کی پشت پر سادہ اوراق میں اہم نکات کے خلام ہوا سے کاپی یا کسی کاغذ کے پرزے پر ہی نوٹ کرلیں“۔ اسی طرح ڈاکٹر احمد سجاد کہتے ہیں: ”ذاتی صے اور بعض صفحات کے نمبروں کو لکھنے کی عادت ہنوز قائم ہے“۔ مطالعہ کے معاً بعد بعض کتابوں پر ذاتی تاثرات تبصرے بھی اختاصر کے ساتھ لکھنے کی عادت ہے۔“ حاصل مطالعہ کیسے ذہن نشین ہو یہ بھی ایک اہم عنصر ہے۔ اس سلسلے میں نعیم صدیقی رقم طراز ہیں: ”میری ذہنی ساخت یوں بنی کہ میں حاصل مطالعہ کو دماغ میں ڈال دیتا اور میرے اندراس پر غور و بحث کا ایک سلسلہ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، کھانا کھاتے جاری رہتا یہاں تک کہاس کا مثبت یا منفی اثر میرے عالم خیال پر رہ جاتا“۔

معلوم ہوا کہ مطالعہ کے بعد حاصل مطالعہ کی بھی بڑی اہمیت ہے؛ ورنہ تو بات لاحاصل ہی رہے گی۔ مطالعہ کے دوران جہاں اچھی کتابوں، خوشگوار فضا، مناسب مقام، موزوں روشنی اور وقت کی تنظیم ضروری ہے وہیں صحت کا بھی خاص خیال رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔

حواشی:
(۱) فن خطابت، ص:۳۷۔
(۲) ایک تقریر سے ماخوذ۔
(۳) ماہنامہ رفیق منزل مطالعہ نمبر۔
(۴) رفیق منزل مطالعہ نمبر، ص:۱۰۔
(۵) ذاتی ڈائری، ص:۱۱۔
(۶) استاذ و شاگرد کے حقوق، ص:۷۸۔
(۷) پاجاسراغ زندگی،ص:۵۸۔
(۸) میرا مطالعہ، ص:۲۰۱، بحوالہ رہنمائے مطالعہ۔
(۹) میرا مطالعہ بحوالہ رہنمائے مطالعہ، میرا مطالعہ ص:۱۶۵۔

اپنا تبصرہ بھیجیں