محبوب الٰہی مخمور کی قائد اعظم محمد علی جناح پر لکھی گئی کتب

قائد اعظم محمد علی جناح قوم کے ایک مخلص لیڈر ہی نہیں تھے بلکہ جانثار سپاہی بھی تھے۔ انہوں نے اپنے ملک کے وجود کے لیے ہر سیاسی محاذ پر دانش مندی کا مظاہرہ کیا جن کی بدولت ہمیں آزاد ملک ملا اور سکون سے زندگی بسر کرنا نصیب ہوا۔ آزادی پاکستان کے لیے قائد اعظم نے جو کارنامے سرانجام دیے ان سے پاکستان کی تاریخ مکمل ہوئی۔ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت اور سیاسی کارناموں پر بے پناہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ آج ہمارے زیر نظر بچوں کے ہر دل عزیز مصنف اور صحافی جناب محبوب الٰہی مخمور کی لکھی ہوئی چار کتب ”قائد اعظم محمد جناح، ایک جہد مسلسل‘‘، ”عظیم قائد، عظیم راہنما، محمد علی جناح‘‘، ”محمد علی جناح سے قائدِ اعظم تک‘‘ اور ”خالقِ پاکستان، قائد اعظم محمد علی جناح‘‘ شامل ہیں. ان مفید کتابوں کو فروغِ کتب کے قومی ادارے، ”نیشنل بک فائونڈیشن، اسلام آباد‘‘ سمیت مخلتف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے بچوں کے لیے بہترین کتب کے ایوارڈ مل چکے ہیں.

محبوب الٰہی مخمور کا شمار پاکستان کے بلند پایہ مدیران میں ہوتا ہے۔ آپ نے صحافت اور اُردو میں ایم اے تک تعلیم حاصل کی. 1975ء میں لکھنے کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اب تک آپ کی بے شمار تحاریر بچوں اور بڑوں کے میگزین و رسائل میں شائع ہو چکی ہیں۔ محبوب الٰہی مخمور نے اگست 1991ء میں بچوں کے خوبصورت رسالہ ”ماہنامہ انوکھی کہانیاں‘‘ کی اشاعت کا آغاز کراچی سے کیا۔ ماضی میں آپ پندرہ روزہ ریشم، کراچی اورہفت روزہ اسپورٹس راؤنڈ اپ، کراچی کے مدیر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ آج کل آپ معیاری کتب شائع کرنے والے ادارے ”الٰہی پبلیکیشنز، کراچی‘‘ کے نگران اعلیٰ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کے نونہالوں کے لکھاریوں کی ملک گیر تنظیم ”پاکستان چلڈرن رائٹرز گائیڈ‘‘ کے صدر کی حیثیت سے فرائض نبھا رہے ہیں۔ محبوب الٰہی مخمور، نیشنل بک فاؤنڈیشن ، دعوة اکیڈمی اسلام آباد اور یونیسیف پاکستان سے متعدد ایوارڈز، تعریفی اسناد اور انعام یافتہ مصنف ہیں۔

پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت پر تحریر کردہ ان چارکتب کے علاوہ اب تک بچوں کے لیے آپ کی تحریر کردہ اور زیرِ ادارت متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں جن میں ”امن مشن‘‘، ”سوہنی دھرتی‘‘، ”ستاروں سے آگے‘‘، ”بھُوت‘‘،”رب چاہی‘‘، ”پتھر کے آنسو‘‘ اور ”پھول کہانیاں‘‘ کے نام سے جب کہ ”شکست شب‘‘ اور ٹوٹا ہوا آنسو‘‘ کے نام سے بڑوں کے لیے کتب شامل ہیں۔

ملت ِاسلامیہ کا مسیحا، عالم اسلام کا سب سے بڑا محسن اور اس صدی کا عظیم مدبر۔ فہم و فراست میں لاثانی ، خلوص و دیانت میں یکتا اور بلند کردار انسان قائد اعظم محمد علی جناح جو اسلامیانِ برصغیر کی سوئی ہوئی قسمت کا ستارہ بن کر طلوع ہوئے! کفر و الحاد کی تاریکیوں میں اسلام کا پرچم بلند کیا۔ جابر انگریز کے استبداد اور عیار برہمن کی مکاریوں کا مقابلہ کرتے ہوئے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن حاصل کر کے انہیں آزاد قوموں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں میں خودی اور خودداری کو بیدار کیا۔ اپنی مسیحا نفس قیادت سے مسلمانوں کی بکھری ہوئی قوم میں عدیم المثال اتحاد و اتفاق پیدا کیا اور ان میں توانائی اور خود اعتمادی کی ایک نئی لہر دوڑا دی۔

قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت نے ہم میں ملی تشخص اور قومی وحدت کا شعور پیدا کیا۔ ہمیں علاقہ پرستی، صوبائی، لسانی، گروہی عصبیت اور فکری انتشار کی بھول بھلیوں سے نکال کر اسلامی قومیت کی بنیاد پر متحد کیا. ہم میں وحدت فکر و عمل پیدا کی، ہمیں خود آگاہ و خود شناس بنایا. بمبئی میں جناح ہال کی تعمیر میں رسم افتتاح کے موقع پر مسز اینی بسنت نے خود کہا تھا کہ ”جناح جیسی شخصیت بنی نوع انسان کی آزادی کے گلے کا ہار ہے، جس کی یاد ہمیشہ تازہ رہے گی۔‘‘

وہ آزادی کے گلے کا ہار تھے اور آزادی ان کے گلے کا ہار، ان کی منزلِ مقصود تھی۔ اسی کے سہارے انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو نئی ڈھارس دی، ایک علیحدہ مملکت کی تشکیل دی اور دس کروڑ مسلمانوں کے لیے عزو شرف کی نئی سرزمین مرحمت فرمائی تھی ۔ یہ قائد اعظم کا بہت بڑا کارنامہ اور ان کی بہت بڑی سیاسی فتح تھی۔ شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال کی بصیرت بھی بے نظیر تھی۔ ان کی مردم شناس نظروں نے بہت پہلے دیکھ لیا تھا کہ جو سیلاب رستا خیز برصغیر میں آنے والا ہے اس میں مسلمانوں کی کشتی کا ملاح جناح ہی ہوگا! مصورِ پاکستان علامہ اقبال نے دیکھ لیا تھا کہ قائد اعظم سے زیادہ مناسب پورے ہندوستان میں کوئی بھی مسلمان لیڈر نہیں ہے جو اتنی صلاحتیں رکھتا ہواور جو کشتی ملت کا ناخدا بن کر قوم کو ساحل آزادی تک پہنچا دے۔ اس لیے انہوں نے 11 جون 1937ء کو ایک خط میں انہیں تحریر فرمایا کہ:
” آج ہندوستان میں آپ ہی واحد مسلمان ہیں جن کی جانب مسلم قوم اس طوفان بلا میں جو شمال مغربی ہندوستان میں آرہا ہے، محفوظ رہنمائی کے لیے نظریں اٹھائے دیکھ رہی ہے اور اسے ایسا کرنے کا حق ہے ۔‘‘

یہ قائد اعظم محمد علی جناح کی مسلسل محنت، ان کی سیاسی بصیرت ، عزم صمیم اور دور اندیشی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان پستی سے نکل کر ترقی و عروج تک پہنچے۔ قائد اعظم کی عظمت کا راز اس بات میں بھی پوشیدہ ہے کہ انہوں نے بغیر جنگ کے ایک انقلاب برپا کیا حالاں کہ اگر تاریخ ِعالم کا مطالعہ کیا جائے تو بادی النظر میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ عہد جدید و قدیم دونوں میں قوموں کی آزادی ہمیشہ ایک خونیں انقلاب اور جنگ کے بعد ہی عمل میں آتی ہے لیکن اس سلسلے میں قائد اعظم کا کردار عدیم النظر ہے کہ انہوں نے آزادی کے لیے بے پناہ جدوجہد کی لیکن یہ جدوجہد پرامن اور آئینی تھی۔

کتاب ”قائد اعظم محمد علی جناح ، ایک جہد مسلسل” کے حوالے سے مصنف محبوب الٰہی مخمور رقم طراز ہیں:
”قائد اعظم محمد علی جناح پر یوں تو بے شمار کتابیں لکھی جا چکی ہیں جس کے ذریعے انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح پر ہر نئی کتاب میں کچھ نہ کچھ ایسی باتیں بھی ہوتی ہیں جنہیں پڑھ کر قارئین کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے اور قارئین کو قائد اعظم کی زندگی کے نئے پہلو سے آگاہی ہوتی ہے۔ قائد اعظم کی زندگی اصول پسندی کے نام رہی اور پھر تحریک پاکستان اور آپ لازم و ملزوم ہو گئے۔ آپ کی انتھک جدوجہد نے آزاد ملک کے حصول میں وہ کام سرانجام دیا کہ دنیا حیران رہ گئی۔ آپ کی پوری زندگی قوم کے نام ہو گئی اور آپ نے اپنا سب کچھ پاکستان کے نام نچھاور کر دیا۔ حد تو یہ ہے کہ اپنی زندگی بھی۔
قائد اعظم کی زندگی اور کردار حقیقی تھا، اس میں نمائشی جاذبیت نہ تھی۔ وہ کھرے اور سچے رہنما تھے جنہوں نے اپنی زندگی قوم کے لیے وقف کر دی۔ میں سمجھتا ہوں کہ طلبا کے لیے یہ کتاب مفید اور سود مند ثابت ہو گی خاص کر ان طلبا کے لیے جو مطالعہ پاکستان میں دلچسپی رکھتے ہوں ۔‘‘

یہ حقیقت ہے کہ حضرت قائد اعظم برِ صغیر کی ملتِ اسلامیہ کے سب سے بڑے سیاسی مسیحا ہیں۔ باشعور قومیں اپنے اکابر اور اسلاف کی تعلیمات کو زندہ رکھنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتی ہیں۔ قائد اعظم نے حصولِ پاکستان کے لیے جو عظیم جدوجہد کی اسکو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا اس سے بہتر کوئی انداز نہیں ہو سکتا کہ ہم اس پاک وطن کو ان کے خیالات و افکار کی عملی تجربہ گاہ بنا دیں اور نسلِ نو کے سامنے ان کے کردار اور شخصیت کے نقوش کو پوری طرح واضح کر دیں تا کہ وہ جہدِحیات میں اتحاد و تنظیم اور ایمان کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر پاکستان کا نام مزید روشن کر سکیں۔ ہم محبوب الٰہی مخمور سمیت پاکستان کے بے شمار مصنفین کے شکر گزار ہیں جو تحریکِ پاکستان کے قائدین کے کارناموں اور خدمات پر روشنی ڈالی ہے اور ان کی خدمات کو قوم کے سامنے انتہائی عمدہ طریقے سے پیش کیا ہے۔

محبوب الٰہی مخمور کی کتاب ”محمد علی جناح سے قائد اعظم تک‘‘ جناح سے قائدِاعظم بننے کے سفر کی داستان سناتی ہے۔ اس کتاب کا مقصد بچوں کو تحریکِ پاکستان کی غرض و غایت اور اہمیت سے روشناس کرانا، نیز قائداعظم محمد علی جناح سے متعارف کرانا ہے۔ بلاشبہ یہ کتاب مستقل اہمیت کی حامل ہے جو ہماری آنے والی نسلوں کے بچوں کو اپنی تاریخ سے روشناس کرانے اور قیامِ پاکستان کی طویل جدوجہد میں قائد اعظم محمد علی جناح کی ان تھک کاوشوں سے متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ”الٰہی پبلیکیشنز، کراچی‘‘ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ ادارہ اپنی مفید مطبوعات کے ذریعے نئی نسل کو نظریہ پاکستان، تحریک پاکستان اور مشاہیر تحریک پاکستان کے افکار و تصورات کے بارے میں آگہی فراہم کرنے میں کوشاں ہے تا کہ وہ مستقبل میں اپنی قومی ذمہ داریوں سے بطریق احسن عہدہ برآ ہو سکیں۔
ان تمام کتابوں کی قیمت 50 روپے فی کس مقرر کی گئی ہے۔

محبوب الٰہی مخمور کی قائد اعظم محمد علی جناح پر لکھی گئی کتب” ایک تبصرہ

  1. KHOBSURAT WEB SITE KHOBSURAT LAY OUT OR JANDAR TABSERAY PER MAN KITAABNAMA KA DIL SAY SUKRIYA ADDA KARTA HON. MEHBOOB ELAHI MAHMOOR EDITOR MONTHLY ANOKHI KAHANIYAN, KARACHI

اپنا تبصرہ بھیجیں