مشہور و معروف قلم کاروں اور مدیروں کی آپ بیتیاں

بلاشبہ ایک اچھے ادیب کی لکھی ہوئی آپ بیتی کو ادب و انشا اور تاریخ و تذکرہ کے اصناف میں سب سے زیادہ دلچسپ، دل آویز، خوش گوار اور شوق انگیز صنف کہا جا سکتا ہے اور اس کی وجہ بالکل واضح ہے کہ آپ بیتی ہی اُردو ادب کی ایک ایسی صنف ہے جس میں مصنف اپنی زندگی کے حالات و واقعات، تجربات، مشاہدات، محسوسات، نظریات اور عقائد کی ایک مربوط داستان بیان کرتا نظر آتا ہے۔
ہمارے زیر ِمطالعہ آج ایک ایسی ہی کتاب ہے جس میں مختلف قلم کاروں اور مدیران نے بے کم و کاست اور راست راست اپنی آپ بیتیاں تحریر کی ہیں جنہیں پڑھ کر نہ صرف ان کی زندگیوں کے نشیب و فراز معلوم ہوتے ہیں بلکہ ان کی زندگیوں کے نہاں خانوں کے پردے اٹھ جاتے ہیں اور ہم ان کی خارجی زندگی کے ساتھ ساتھ انکی داخلی زندگی کے تجربات میں بھی جھانک سکتے ہیں۔

334 صفحات پر مشتمل اس خوبصورت اور معیاری کتاب کو مرتب کرنے کا سہرا ہمارے بہت پیارے بھائی، ممتاز ادیب اور ماہنامہ انوکھی کہانیاں، کراچی کے مدیرِ اعلیٰ جناب محبوب الٰہی مخموراور نوشاد عادل کے سر ہے۔ دونوں اصحاب نے انتہائی محنت اور جاں فشانی سے اس مشکل کام کو عملی جامہ پہنایا۔ بقول محبوب الٰہی مخمور: ”ایک طویل عرصہ سے کسی ایسی کتاب کی کمی محسوس ہو رہی تھی جس میں مختلف شعبوں خصوصاً اُردو ادب سے تعلق رکھنے والے افراد کی سرگزشت شامل ہو، جنہوں نے اپنی محنت اور لگن کے بل بوتے پر اپنے شعبہ میں کوئی نمایاں کام کیا ہو۔‘‘

”آپ بیتیاں‘‘ عنوان کے تحت شائع ہونے والی سیریز کی اس پہلی کتاب میں جن ہستیوں کی خود نوشت شامل ہیں ان میں شہید پاکستان حکیم محمد سعید، مسعود احمد برکاتی، حنیف سحر، پروفیسر ڈاکٹر سیّد مجیب ظفرانوارحمیدی، محبوب الٰہی مخمور، ڈاکٹر طارق ریاض خاں (سائنسی بابو)، عبد اللہ نظامی، احمد عدنان طارق، ڈاکٹر ظفر احمد خان، محمد ندیم اختر، محمد طاہر عمیر، رضوان بھٹی، رابعہ حسن اور ببرک کارمل جمالی شامل ہیں۔ ظاہری طور پر ان تمام ادیبوں کے مزاج، افکار و خیالات اور اندازِ فکر و نظر الگ الگ نظر آتے ہیں تاہم ایک بات مشترک ہے اور وہ یہ کہ یہ آپ بیتیاں اصلاحِ اخلاق کے جذبے کے تحت لکھی گئی ہیں اور ادیبوں نے کوشش کی ہے کہ وہ قارئین کو اپنے تجربات و مشاہدات سے روشناس کرا سکیں تا کہ وہ اپنی زندگیوں کو بہتر اور کار آمد انداز میں گزار سکیں۔

”آپ بیتیاں‘‘ کا آغاز جس ہستی کی سوانح عمری سے کیا گیا ہے وہ ہیں شہید پاکستان حکیم محمد سعید۔ مسیحائے ملت، سابق گورنر سندھ اور دانشور، شہید حکیم محمد سعید کی اس سوانح عمری کا وصف یہ ہے کہ اس کے مطالعہ سے ہمیں شہید پاکستان کی زندگی کے جملہ پہلوئوں سے شناسائی حاصل ہوتی ہے اور اس شخصیت سے حد درجہ محبت اور عقیدت کے جذبات بھی نمایاں ہوتے ہیں. اس سوانح عمری میں ہمیں کہیں کہیں غیر رسمی انداز و بیان کی وجہ سے خاکہ نگاری کا تاثر بھی ملتا ہے جو تحریر کے حسن کو دوبالا کرتا ہے۔ اس تاثراتی نوعیت کی وجہ سے ہلکے پھلکے انداز میں حکیم محمد سعید کی شخصیت کے تمام اوصاف قارئین کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح انسان عزمِ صمیم، جہدِ مسلسل اور قوت ایمانی کے ذریعہ اپنی مشکل سے مشکل ترین منزل بھی حاصل کر سکتا ہے۔ یہ دلچسپ سوانح عمری ہمیں حکیم صاحب کی ہجرت سے لے کر شہادت تک کا تفصیلی منظر دکھاتی نظر آتی ہے۔ عزم و ہمت اور بہادری کی اس داستان کے ذریعے اندازہ ہوتا ہے کہ حکیم سعید کس قدر پائیدار جذبے اور عزم صمیم کے ساتھ اس نئے ملک میں ہجرت کر کے آئے۔ جب انہوں نے کراچی کی سڑکوں پر پیدل سفر کیا، معلم کا فریضہ سرانجام دیا اور کیسے ہمدرد مطب کا سلسلہ شروع کیا، وہ بھی خالصتاً جذبۂ خدمت کے تحت۔ اور پھر ہمدرد کے پھلتے پھولتے کاروبار کو انہوں نے والدہ کی خواہش اور بڑے بھائی کی تقلید میں قوم کے نام وقف کر دیا۔

حکیم محمد سعید کے دل میں نونہالانِ پاکستان کی تربیت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا جس وجہ سے انہوں نے بچوں کی تفریح، تعلیم اور تربیت کے لیے ”ماہ نامہ ہمدرد نونہال‘‘ کے نام سے ایک رسالہ بھی جاری کیا جو آج بھی اسی آب و تاب سے شائع ہو رہا ہے۔ ادارہ حکمت و تحقیقاتِ طب اور ہمدرد طبیہ کالج سمیت، جامعہ ہمدرد کا قیام اور تعمیرِ ملت کے دیگر بے شمار علمی و فلاحی منصوبے۔
اس بات میں ذرہ بھر مبالغہ نہیں کہ ایسے لوگ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ بلاشبہ شہید پاکستان حکیم محمد سعید نے اسیر ذہنوں میں تعمیری سوچ بھرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
تمہیں خبرہی نہیں کیا گنوا دیا لوگو
کہ اپنے گھر کا دیا خود بجھا دیا لوگو
تمہارے بچوں میں بانٹتا تھا علم کا نور
اسی منارۂ دانش کو ڈھا دیا لوگو

مسعود احمد بر کاتی مرحوم ہمارے عہد کی ایک ایسی شخصیت تھیں کہ جن کی نظیر ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ وہ ”بابائے ادبِ اطفال‘‘ تھے۔ نصف صدی سے زائد عرصہ تک اُن کے زیرِ نگرانی جاری ”ماہ نامہ ہمدرد نونہال‘‘ ایک نسل ساز رسالہ رہا ہے۔ اب تک تین چار نسلوں کی ذہنی تربیت، تعلیم و تربیت اور معیاری و صحت مند تفریح کا ضامن رسالہ اب بھی بڑے بھرپور انداز میں اپنے مقاصد کی تکمیل کرتا نظر آتا ہے۔ برکاتی صاحب کی زندگی ”ہمدرد نامہ‘‘ بھی ہے۔

ہمدرد کی عالی شان کامیابی میں اُن کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ اُن کی آپ بیتی اِس حوالے سے ہمیں کئی نئے اورروشن پہلوئوں سے روشناس کراتی ہے۔

جناب حنیف سحر مشہور صحافی، ادیب، شاعر (اب شاعری کم کم کرتے ہیں)، مدیر اور ڈرامہ نگار ہیں۔ اُن کی آپ بیتی ”نقش فریادی ہے‘‘ کے نام سے ماہنامہ انوکھی کہانیاں کی زینت بنی تھی۔حنیف سحر اب بچوں کے لیے نہیں لکھتے۔ وہ قلم سے روزی کماتے ہیں اور معاش کے غم انہیں صحافت، ادارت، فیچر نگاری اور ڈرامہ نگاری کی طرف لے گئے۔ بچوں سے ان کی محبت ختم نہیں ہوئی۔ ان کی آپ بیتی، جگ بیتی ہے۔ وہ ایک محنتی اور سیلف میڈ انسان ہیں۔ انہوں نے زندگی میں ملنے والے تمام دوستوں کا ذکر بڑی محبت سے کیا ہے۔ جناب محمود شام، قاسم محمود، مظہر یوسف زئی، محبوب الہیٰ مخمور اور مصطفٰی ہاشمی کا ذکر بارہا اور بڑے قابلِ قدر انداز میں کیا ہے۔ رنگ بھری البیلی کہانی پڑھنے کے لائق ہے۔ بچوں کے ادب کے لیے اُن کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

پروفیسر ڈاکٹر سیّد مجیب ظفرانوارحمیدی کی زندگی کی کہانی بڑے عمدہ اور دلکش انداز میں پیش کی گئی ہے۔ بدھ اُن کی پیدائش کا دن ہے اور ان کا بیان ہے کہ وہ بدھو نہ بن سکے۔

انہوں نے اپنے پہلے ہی تعلیمی سال میں فیل ہونے کا ذکر بڑے مزے دار انداز میں کیا ہے اور پھر کامیابیوں کے سفر کا ذکر بھی کم دلچسپی کا حامل نہیں ہے۔ ایک دفعہ شروع کرنے کے بعد آپ بیتی ختم کیے بغیر آپ کو چین نہیں آئے گا۔

محبوب الہیٰ مخمور عزیز دوست اور انتہائی نفیس و وضعدار شخصیت کے مالک ہیں۔ اُن کا اک حوالہ تو ”ماہنامہ انوکھی کہانیاں‘‘ ہے جسے وہ پچھلے اٹھائیس سالوں سے تن تنہا اور ہر قسم کے مسائل سے نبرو آزما ہوتے ہوئے، کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ اُن کی زندگی کا دوسرا پہلو حق و سچائی کے حصول کی کوشش میں جان کھپانا ہے۔ وہ ٹریڈ یونین کا معاملہ ہو یا بچوں کے لکھاریوں کے حقوق کی جنگ ہو، وہ سب کو ”گائیڈ‘‘ کرتے نظر آتے ہیں۔

ماہنامہ انوکھی کہانیاں اُن کی زندگی کے اٹھائیس بہترین سالوں کی کِتھا ہے۔ یہ ایک سفرِ مسلسل ہے جس میں نہ تھکنے کا احساس ہے اور نہ آبلہ پائی کا ڈر آگے بڑھنے سے روکتا ہے۔ ان کی زندگی کے کئی اور پہلو بھی اُن کی آپ بیتی کا حصہ ہیں۔

اُن کی آپ بیتی طوالت کی وجہ سے ماہنامہ انوکھی کہانیاں کے دو شماروں کی زینت بنی تھی اور اب ایک ہی طویل نشست میں پڑھنے سے ”کہانی‘‘ کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔

ہم سب کے ہر دلعزیز بھائی جان اور سائنسی بابو ڈاکٹر طارق ریاض خاں ینگ رائٹرز ایسوسی ایشن کے ایڈوائزر اور پاکستان رائٹرز پوائنٹ کے مرکزی سینئروائس چیئرمین ہیں۔ آپ 19نومبر1964ء کو لاہور شہر میں پیدا ہوئے۔ پی ایچ ڈی تک تعلیم حاصل کی۔ بی ایڈ کے علاوہ سول ڈیفنس، صحافت، زراعت اور بچوں کی نگہداشت کے حوالہ سے متعدد کورسسز کیے۔ پنجاب “پبلک سروس کمیشن” کے ذریعے آپ کی گریڈ 17میں محکمہ تعلیم میں سلیکشن ہوئی۔ پھر حکومت پنجاب کی جانب سے گریڈ 18 میں بطور سینئر ماہرِمضمون ترقی ہوئی۔ آپ کی تمام تحاریر کی تعداد کل ملا کر 500 سے زائد بنتی ہے. علاوہ ازیں سیکڑوں تبصرے اور خطوط شائع ہو چکے ہیں، جب کہ سائنسی کہانیوں اور تحاریر کی تعداد 300 کے لگ بھگ ہے۔ آپ کی زیرِ قیادت ”ینگ رائٹرز ایسوسی ایشن‘‘ کا قیام 16اکتوبر 1992ء کو لاہورمیں عمل میں آیا۔ یہ ایک خالصتاً ادبی تنظیم ہے جو نوجوان لکھاری خواتین و حضرات کو ایسے مواقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنی ذہانت، فہم و فراست اور زورِقلم سے معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ اپنے قیام کے ایک سال بعد 1993ء میں تنظیم کے ادبی مجلہ ”گلدستۂ ادب‘‘ کی باقاعدہ اشاعت کا اہتمام کیا گیا جو کہ ینگ رائٹرز ایسوسی ایشن کا ادب اور ادیب سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اپنی اس آپ بیتی میں ڈاکٹر طارق ریاض نے زندگی کے مختلف ادوار کو بلا کسی تکلف اور تصنع کے دوسروں کے سامنے پیش کردیا ہے۔ بلا شبہ اس آپ بیتی کا اصل مقصد انکشافِ ذات ہے۔ جس میں حالات و واقعات شروع سے آخر تک تسلسل اور ربط کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور ایک واقعے کے بعد ترتیب سے دوسرا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔

عبداللہ نظامی یار دوست اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔ وہ ادیب بھی ہیں اور کالم نگاری سے بھی تعلق ہے۔ صحافت روزگار مہیا کرتی ہے تو ادارت کا شوق ”تعمیرِ ادب‘‘ سے پورا ہو جاتا ہے جو بذاتِ خود ایک اہم مقصد بھی ہے۔ شاعری اور وہ بھی سرائیکی زبان میں دل کے تار چھیڑ جاتی ہے۔ انہوں نے اپنی آپ بیتی کو جگ بیتی بنا دیا ہے۔

وہ دوستوں کا ذکر بے حد محبت سے کرتے ہیں۔ محبت ایک اہم استعارہ ہے جو عبداللہ نظامی کی شخصیت کے جگمگاتے رنگوں کا حصہ ہے۔

احمد عدنان طارق، جن کا ایک حوالہ تو بطور پولیس آفیسر کے ہے اور وہ بچوں کے ایک بہت اچھے ادیب بھی ہیں۔ کہنے کو تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ اُن کی دوسری ”ادبی زندگی‘‘ ہے۔جس رفتار سے وہ لکھ رہے ہیں اُسے دیکھتے ہوئے یہ کہنا مُشکل ہو جاتا ہے کہ وہ ادب میں دوبارہ وارد ہو ئے ہیں۔

اُن کی ایک اور خوبی دنیا بھر کے ادب سے بچوں کے لیے خوبصورت کہانیوں کا انتخاب اور پھر اُسے اُردو کے قالب میں ڈھالنا ہے۔ یوں بچوں کا عالمی ادب عام قارئین تک پہنچ جاتا ہے۔ اُن کی آپ بیتی بے حد متاثر کرتی ہے۔ جب آپ اُسے پڑھ لیں گے تو میری بات سے ضروراتفاق کریں گے۔

ڈاکٹر ظفر احمد خان بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے لکھتے ہیں۔ بچوں کے ادب سے عملی وابستگی اب محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ وہ ہومیو پیتھ ڈاکٹر بھی ہیں اور اس حوالے سے انسانیت کی خدمت اُن کے پیشِ نظر رہتی ہے۔ ڈاکٹر ظفر اپنے بیٹوں کو اپنی کامیابی کی وجہ گردانتے ہیں۔ ”ظفر نامہ‘‘ دراصل ”حقیقت نامہ‘‘ ہے۔ سیدھے سچے انداز میں انہوں نے زندگی کے سفر کو قلم بند کیا ہے۔

محمد ندیم اختر کی آپ بیتی بھی ہمیں زندگی کے شب و روز اور نشیب و فراز سے روشناس کرواتی ہے۔

زیست کے سفر کے واقعات سُنا کر وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ابھی کئی واقعات تشنگی کا شکار ہیں۔ ابھی بہت کُچھ کہنا باقی ہے۔ ”ان کہی‘‘ بھی تو بہت کُچھ کہہ جاتی ہے۔

محمد طاہر عمیر خوبصورت کہانیاں لکھتے ہیں۔ اُن کا منفرد انداز دل موہ لیتاہے۔ اُن کی تحریریں پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ اُن میں قدرتی طور پر لکھنے کی صلاحیت ہے اور یہ اللہ کریم کی کسی پہ خاص عنایت ہی ہوتی ہے۔

وہ اِس بات پہ محبوب الہیٰ مخمور کے شکر گزار ہیں کہ آپ بیتی لکھنے کی وجہ سے انہیں اپنی زندگی کا جائزہ لینے کا موقعہ مل گیا۔

رضوان بھٹی نے زندگی کے سفر کا ابھی آغاز ہی کیا ہے۔ وہ اچھا لکھ رہے ہیں اور ہم اُمید کر سکتے ہیں کہ اگر مستقل مزاجی نے ساتھ دیا تو اُن سے مستقبل میں بہت سی توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں۔ وہ اپنی آپ بیتی میں جنون اور جذبات کا اظہار خوبصورت پیرائے میں کر رہے ہیں۔ پڑھیے اور آپ جان جائیں گے کہ ایک نوجوان ادیب کی آپ بیتی زندگی کے زندگی ہونے کا احساس کیسے دلاتی ہے۔

آزاد کشمیر کی فضائوں سے ایک نازک اندام مگر چٹانوں سے مضبوط حوصلہ رکھنے والی ادیبہ رابعہ حسن کی آپ بیتی بھی اس کتاب میں شامل ہے جنہیں 2005ء کا زلزلہ بھی متزلزل نہ کر سکا۔ ہمہ جہت شخصیت کی مالک رابعہ حسن نے متعدد شعبوں میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔ ادیب بنی تو شاہکار کہانیاں تخلیق کیں، تقریر کی تو بہترین مقررہ قرار پائیں، کالم لگاری کی تو ان کے قلم کی کاٹ نے معاشرے کو جھنجھوڑ دیا حتیٰ کہ تعلیم کے میدان میں بھی ہمیشہ نمایاں کامیابی حاصل کی۔

رابعہ حسن نے اپنی اس آپ بیتی میں اپنی زندگی کے جذباتی و نفسیاتی تجربات و مشاہدات اور سماجی و معاشرتی عوامل و عناصر کا تذکرہ اپنے مخصوص انداز سے بیان کیا ہے۔

اس کتاب میں شامل آخری آپ بیتی جس کو مصنف نے اپنی سچ بیتی کا بھی نام دیا ہے، ببرک کارمل جمالی کی ہے۔ بچوں کے ادب سے محبت کرنے والے ببرک کارمل جمالی کا تعلق صوبہ بلوچستان سے ہے۔ بحیثیت ادیب آپ نے بہت کم عرصہ میں بچوں کے ادب میں اپنا نام نمایاں کیا اور کٹھن حالات کے باوجود ببرک کارمل جمالی اُردو ادب کے فروغ میں ہمہ وقت کوشاں نظر آتے ہیں۔ آپ کی یہ آپ بیتی پڑھنے والے کو آئینہ دکھاتی ہے کہ مصنف کی طرف سے نظر ہٹا کر قارئین خود اپنی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔

اس کتاب میں آسان، عام فہم اور قاری دوست زبان اختیار کی گئی ہے اور آپ بیتیاں ایسے لہجہ میں بیان کی گئی ہیں جیسے قاری کے سامنے ہی مصنف بیٹھا اپنے گزرے ہوئے ایام کی داستانیں سنا رہا ہے۔ تمام آپ بیتیاں یادگار اور دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ جامع اور مکمل بھی ہیں اور مصنفین کی زندگی کے اہم ترین واقعات کو بہت عمدہ انداز میں بیان کرتی نظر آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شروع سے آخر تک قاری کی دلچسپی برقرار رہتی ہے۔


نوٹ: اس مضمون میں شامل ادیبوں کے تعارف کے سلسلہ میں برطانیہ میں مقیم ادیب ڈاکٹر عمران مشتاق کی تحریرسے استفادہ کیا گیا ہے جس کے لیے ادارہ ان کا شکرگزار ہے۔

الٰہی پبلیکیشنز، کراچی کی دیگر مطبوعات:

10 تبصرے “مشہور و معروف قلم کاروں اور مدیروں کی آپ بیتیاں

  1. بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    ’’آپ بیتی ‘‘ لکھوانا اور’’خودپربیتی‘‘لکھنا،کچھ سہل عمل نھیں!
    بیشک،یہ عمدہ ادبی کاوش ہے اور’’ادبِ اطفال‘‘کے حوالوں سے ’’وقیع‘‘بھی،
    سراہاجاناچاہئیے!
    شکریہ!!!
    ____ پروفیسرڈاکٹرسیّدمجیب ظفرانوارحمیدی

  2. آپ بیتی پر کام کرنا بلاشبہ بہت مشکل کام تھا ،مگر جس انداز سے محبوب الہی مخمور نے ہمیں یہ تحریک دی اس کی مثال پاکستانی ادب میں نہیں ملتی ،محبوب بھائی کمال کر دیا ،مختصر مدت میں اتنے سے نامور لکھاریوں کی آپ بیتیاں قبل ازیں انوکھی کہانیاں میں شائع کیں بعد ازاں کتابی شکل میں شائع کر کے تاریخ رقم کر دی ،جس کا سہرا محبوب الہی مخمور اور انکی پوری ٹیم کو جاتا ہے ۔

    1. نظامی صاحب آپ کے پیغام کا بہت شکریہ۔ بلاشبہ محبوب الہیٰ مخمور کا شمار اُردو ادب کے بے لوث اکابرین میں ہوتا ہے۔

  3. Kitaabnama kay unwan say Saqib Butt Sahab nay ak bohat accha aqdam keya hay jes man digar adeebon kay sat sat mari bhe kitaban shamil ki gai han es web ka layout bohat shandar hay or es ka mazamim bhe ummda han kafi arrsay bad koi jandar wed site dekhi hay es kay allawa es man shamil mazamin bhe kafi maiyari or mustanad han. man es per unko dilli mubarak bad dayta hon or ummed krta hon kay saqib butt sahab apni mahnat or tavajah say es ko or shaandar or jandar bana aayan gay. mehboob elahi Makhmoor, writer-editor, monthly anokhi kahaniayn, karachi

    1. محبوب بھائی، آپ کی حوصلہ افزائی ہمارے لیے آکسیجن کا کام کرتی ہے۔ یہ سب آپ جیسے بھائیوں کا فیض ہے کہ “کتاب نامہ” 2012ء سے ادب اور کتاب بینی کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔انشاء اللہ ہمیشہ آپ کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کی جائے گی۔

  4. اردو ادب میں بہت اچھا اضافہ ہے۔ نئےادیبوں کےلئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں