کیا آپ اُردو رسائل کا مطالعہ کرتے ہیں؟ – تالیف حیدر

میں اِدھر ادھر سے کئی ایک علمی اور ادبی مضامین تلاش کر کے پڑھتا ہوں، جس میں نئے، پرانے کی تخصیص نہیں، کبھی تو کوئی بالکل ہی تازہ اور ابھی ابھی پریس کی بھٹی سے پک کر نکالا ہوا پرچہ میرے مطالعے کی غذا بنتا ہے اور کبھی سڑا گلا، کتابوں کی الماریوں میں کئی برسوں سے دبا بوسیدہ رسالہ۔ میں ان رسائل کو پورا نہیں پڑھتا، درمیان، شروع یا آخر سے جو مضمون دلچسپ لگتا ہے اسے پڑھنے لگتا ہوں۔ بہت کم پرچے ایسے ہیں جن کا پورا اور باقاعدہ مطالعہ میرا معمول ہے۔ دراصل اس طرح کے مطالعے سے مجھے کئی ایک اچھی چیزیں مل جاتی ہیں، جو ہمارے بڑوں نے، اگلوں نے اور بعد والوں نے لکھی ہیں۔ نئے اور دلچسپ خیالات، جس میں کبھی علمی اور تحقیقی مسائل موجود ہوتے ہیں تو کبھی ادبی اور سماجیاتی۔ اس کو عام اصطلاح میں جرنل اسٹڈی بھی کہا جا سکتا ہے۔

اس جرنل اسٹڈی کی عادت مجھے قاضی عبدالودو کے اس مشغلے کا علم ہونے کے بعد پڑی جس کے تحت وہ کسی بھی کتاب یا رسالے کو مضمون کی قید سے آزاد ہو کر پڑھتے تھےاور میری دانست میں یہ ایک ایسی خوش گوار عادت ہے جس سے ہمیں اپنے اطراف کی بوجھل فضا سے نکلنے کی راہ ملتی ہے۔ پرانے پرچوں اور رسالوں میں ایسا بہت کچھ ہوتا ہے جس سے ہم بے خبر ہوتے ہیں اور ان کا مطالعہ نہ کرنے کی وجہ سے ہم اکثر ایسی غیر ذمہ دارانہ باتیں کہہ جاتے ہیں جن کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ مثلاً بہت سے ایسے موضوعات ہوتے ہیں جن پر رسائل و جرائد میں تحریریں مل جاتی ہیں، لیکن باقاعدہ کوئی کتاب موجود نہیں ہوتی، لہذا رسائل کا مطالعہ نہ کرنے کی بابت ہم ایسے موضوعات پر مواد کی غیر موجودگی کا اپنے تئیں احتمال پیدا کر بیٹھتے ہیں، ساتھ ہی کچھ نئے پرانے موضوعات کا مطالعہ نہ کر پانے کی وجہ سے بہت ہی سطحی موضوعات سے گھرے رہتے ہیں۔

اردو میں موجود رسائل و جرائد کا مطالعہ کرو تو علم ہوتا ہے کہ کیسے کیسے مضامین اور افکار یہاں موجود ہیں، جن میں کئی حیرت انگیز دنیائیں آباد ہیں اور یہ دنیا ئیں بھی صرف کسی ایک خطے یا کسی خاص خطہ زمین سے متعلق ادیبوں کی آباد کی ہوئی نہیں ہیں، بلکہ اس میں دنیا بھر کے اذہان شریک نظر آتے ہیں۔ میں نے اپنے رسائل و جرائد کے مطالعے سے بہت سے ایسے نئے ادیبوں اور شاعروں کو کاغذ کے آتش کدوں میں زندہ محسوس کیا ہے جن کا عام طور پر ہماری محفلوں میں ذکر تک نہیں ہوتا۔ بہت سے ایسے لکھنے والے بھی انہیں رسائل و جرائد کے جہان میں نظر آتے ہیں جنہوں نے بہت کم لکھا مگر جو لکھا وہ ایسا سجا، بنا، اچھا اور گہرا لکھا جس کے مطالعے سے میری بصیرت میں اضافہ ہوا۔ بہت سی تحریریں ایسی ہیں جن کے معنی کی گتھیاں الجھی ہوئی ملیں، لیکن اس کے باوجود ان کے افکار کی بلندی کو میں محسوس کر سکا۔ بکھری ہوئی، مختلف النوع موضوعات پر لکھی جانے والی لاکھوں، ہزاروں تحریریں ان رسائل و جرائد میں موجود ہیں۔ جن سے ہمیں نئے ذہن کو تشکیل دینے میں معاونت ملتی ہے۔ نئے موضوعات تک رسائی ہوتی ہے اور نئی تخلیقی، تنقیدی اور تحقیقی دنیاؤں کا سراغ ملتا ہے۔

میں نے رسائل و جرائد میں اردو میں موجود بہت سے ایسے ادیبوں کو بھی دیکھا جو ہزاروں دیگر زبانوں کے ادیبوں سے جو کہ آج دنیا میں مشہور ہیں اور ان کے نام سے کئی کئی علمی ادارے چل رہے ہیں بدرجہ بہتر ہیں۔ مگر ان کے نام تک سے کوئی واقف نہیں۔ بہت سے ایسے ہیں جن کو لکھنے میں ایسی مہارت حاصل ہے کہ اگر ان سے ہم لکھنے کا سبق لیں تو بہت بہتر لکھنا سیکھ جائیں۔ کئی ادیب ایسے انہیں رسائل میں موجود ہیں جو اپنے کئی مختلف تحریری کاموں سے مشہور و معروف ہیں مگر ان کی بعض نابغہ تحریریں پردہ اخفا میں ہیں اور خاک چاٹ رہی ہیں اور بہت سی ایسی ادیبائیں بھی ان رسالوں کے اوراق سے اپنی تحریروں سمیت لپٹی ہیں جن کی تحریر سے تخیل کا معیار بلند ہوتا ہے اور ابہام کی گرہیں کھولنے کا ہنر پیدا ہوتا ہے۔

مشرق و مغرب سے نکلنے والے ان رسائل و جرائد میں ادب صرف شاعری اور کہانیوں تک محدود نہیں اس میں باتیں ہیں، اشارے ہیں اور معنیاتی سطحیں ہیں۔ بہت سے بولے ہوئے ایسےتاریخی، سماجیاتی، تہذیبی اور مذہبی جملے ہیں جن میں ادب کی بوباس موجود ہے۔ بہت سی ایسی حکایات ہیں جن میں فلسفے کا اعلی معیار جذب ہے۔ بہت سے خاموش اشارے جن میں سناٹوں کا لامحددود روشن خلا موجود ہے اور بہت سے ایسے احتسابی کلامیے جن میں داستانوی رنگ پایا جاتا ہے۔ ادب کی دنیا کی وسعت کو اگر صحیح معنی میں کہیں دیکھا جا سکتا ہے تو وہ کسی ایک شاعر کا دیوان یا کسی ایک افسانہ نگار یا ناول نگار کا مرقع سخن نہیں، بلکہ یہی رسائل و جرائد ہیں، جن میں ہاتھ باندھے، سر جوڑے کئی ادیب مختلف النوع باتوں پر رائے اظہار پیش کر رہے ہیں، کئی باتوں کو سمجھنے کی سعی میں لگے ہیں اور بہت سے کہے ہوئے جملوں کو بساط ادب سے القط کرنے میں کوشاں ہیں۔ ادب کا کام کتنا بڑا اور اس کا جہان کتنا پیچیدہ ہے اس کا احساس کسی ایک کتاب کو پڑھ کر نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے مستقل طور پر مختلف النوع رسائل کے مطالعے کی ضرورت ہے۔ کوئی علم جہاں صرف علم کی صورت میں نمودار نہیں ہوتا، جہاں کوئی بحث خالص بحث نہیں۔ جن کے بیان میں صرف بیان شامل نہیں اور جن کی ادائیگی میں صرف برائے ادا کا کوئی نکتہ نہیں۔

رسائل ہمیں بصیرت بخشتے ہیں اور وہ کچھ سکھاتے ہیں جن کو سیکھنے اور سمجھنے تک ہماری عقل اور ہماری آنکھیں نہیں پہنچتی۔ ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ رنگ برنگے افکار کو ہم الگ الگ آنکھوں سے دیکھ سکیں اور مختلف تہذیبوں کو اپنے تہذیبی پس منظر سے۔ میں نے بہت سے ادیبوں کو ان رسائل کی نگاہ سے دیکھ کر بہت کچھ سیکھا ہے، مثلاً مجھے یہ معلوم ہوا کہ کسی ایک ادیب کی کوئی ایک شناخت نہیں ہوتی، سوچتا ہوا ذہن کسی ایک مسئلے پر صرف ایک طرح سے نہیں سوچتا، کسی خاص معاملے پر کسی بھی ذہین شخص کی رائے میں کتنا تنوع ہوتا ہے اور قبولیت کی حد تحقیق، تنقید اور تخلیق میں کتنی زیادہ بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ رسائل ہمیں سکھاتے ہیں کہ آنکھیں کھول کے اور دماغ کو روشن رکھ کر کس طرح جیا جاتا ہے۔ ماضی کے ادیبوں نے مختلف حالتوں میں کس طرح کے فیصلے لیے تھے، کسی متن کو انہوں نے کس طرح اپنے طرز حیات کو بے ترتیب اور غیر محدود بنانے کے ذریعے کے طور پر اپنایا تھا اور کس طرح شاعری سے نئی قوموں کی آبیاری کا سامان اکھٹا کیا تھا۔

رسائل میں نئے پرانوں کا امتراج ہمیں ماضی اور مستقبل دونوں کا درس بیک وقت دیتا ہے۔ اچھی اور بری تحریر کا سبق بھی ایک ساتھ پڑھاتا ہے اور انکار کے ساتھ اقرار کی کیا نہج ہونی چاہیے اس کا بھی سبق سکھاتا ہے۔ زندگی کے لگے بندھے اصولوں سے آزاد ہونے اور زندگی کے لامحدود نظام عمل کو پڑھانے میں رسائل بڑی حد تک معاون ثابت ہوتے ہیں۔ رسائل میں موجود دس، بارہ یا بیس تحریروں کو پڑھنے سے ہمیں مطالعے کے انتخاب کا شعور آتا ہے، کیا پڑھنا ہے اور کیا نہیں پڑھنا اس کا علم ہماری راہ کا تعین کرنے میں ممد ثابت ہوتا ہے اور ساتھ ہی افکار کے ارتباط کا فن بھی حاصل ہوتا ہے۔

میں نے اپنے مطالعہ رسائل کے ذریعے مشرق ومغرب کے انسانوں کو جانا اور بہت سے بڑوں کی چھوٹی حرکتوں کو دیکھااور بہت سے گمناموں کے کارناموں کو۔ فکر کی حقیقت کے سراغ کا پتہ لگایا اوراچھے لکھنے والے کون ہوتے ہیں اس کا ادراک حاصل کیا۔ مجھے رسائل سے ادب کو موضوعات کے خانوں سے جدا زندگی کے کینوس پر بکھرے ہوئے رنگوں کی طرح دیکھنے کا ہنر آیا اور میں نے جانا کہ ادب صرف برائے نام ادب سے نہیں، بلکہ ان مکالموں سے بھی اپنا رشتہ استوار رکھ سکتا ہے جن کے غیر ادب ہونے میں کسی کو کلام نہیں۔ حیران ہونے کا عمل اگر مطالعے کی دنیا میں سب سے زیادہ کہیں موجود ہے تو وہ ادبی رسائل و جرائد ہی کی دنیا ہے۔ رسائل ہمیں مسلمات کو توڑنے کا ہنر سکھاتے ہیں اور قاعدوں سے قاعدے وضع کرنے کا علم عطا کرتے ہیں۔ مختلف اذہان کی ایک موضوع پر لکھی ہوئی تحریریں ہمیں فرسودہ نظام فکر سے آگہی بخشتی ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھے ہوئے ایک ادیب کے مضامین ہمیں اس کے افکار کے بکھراؤ کے راز سے آشنا کرتے ہیں۔

رسائل ہمیں بولنا سیکھاتے ہیں، محفلوں میں تخصیص بخشتے ہیں اور پڑھنے کا نیا ڈھنگ عطا کرتے ہیں۔ کون سا رسالہ اچھا ہے اور کون سا خراب اس کی تمیز کیے بنا ہمیں رسائل و جرائد کے مطالعے کی عادت ڈالنی چاہیے کیوں کہ اچھے اور برے کی پہچان وقت کے ساتھ ساتھ خود ہی ہو جاتی ہے۔ تعصب سے پاک ہو کر بہت سی باتوں سے جن سے ہمیں ذاتی طور پر دلچسپی نہیں ہوتی ان کی خرابی کاا علان کیے بنارسائل کا مطالعہ کرنا چاہیے، کیوں کہ اسی سے قبولیت کا اور عدم قبولیت کی تمیز ہم میں پیدا ہوتی ہے۔ اس کی بہت سامنے کی مثال یہ ہے کہ میں جب آج کے دوسرے شمارے کا مطالعہ کررہا تھا اور اس میں موجود ایک شاعر احمد فواد کی نظموں کے اقتباس میری سمجھ میں نہیں آ رہے تھے تو مجھے ان کو خراب کہہ دینا آسان معلوم ہورہا تھا، مگر میں نے اس خیال سے قطع نظر جب مستقل طور پر ان کا جبری مطالعہ کیا تو انہیں میں سے بہت سے اقتباسات مجھے خاصے معیاری اور با معنی معلوم ہونے لگےاور میں ایک نوع کی سطحیت سے بچ گیا۔

ادب کے متن کا معاملہ اسی طرح کا ہے کہ اس پر فیصلے دینے کا رجحان بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ کسی بھی ایک متن پر کسی بھی نوع کا کوئی فیصلہ حرف آخر کے طور پر تسلیم کر لیا جاتا ہے اور اس کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ لیکن رسائل کے مستقل مطالعے سے ہم میں اس بات کی تمیز پیدا ہوتی ہے کہ کسی بھی متن پر کس وقت اور کس طرح کی رائے کا اظہار کیا جائے، اس کو کس سیاق میں دیکھنا ہےیا کسی سیاق میں دیکھنا ہے بھی یا نہیں۔ کس ادبی متن سے کس طرح کا رشتہ قائم کرنا ہے اور کون سی تحریر کو بنا کسی خانے میں فٹ کیے اپنے ذہنی ارتقا کے کام میں لانا ہے۔ رسائل کا مطالعہ ایک دلچسپ عمل ہے اور اس کی ابتدا کرنے کا راستہ بھی دلچسپی کے اعمال کے ذریعے بنانا چاہیے۔ کسی کے متعلق فیصلہ کیے بنا کہیں سے کوئی بھی تحریر پڑھنے کے انداز سے بے تکلف ہونے کی کوشش کرنا چاہیے اور مختلف نوعیتوں کے مضامین کو پڑھ کر اس سے ہم نے کیا کچھ حاصل کیا، اس کو سمجھتے ہوئے اگلی تحریر کی طرف بڑھ جانا چاہیے۔

(ہم سب)

اپنا تبصرہ بھیجیں