ترکی ہی ترکی – مستنصر حسین تارڑ

آج کل میں ترکی سے بہت تنگ آیا ہوا ہوں۔۔۔ ترکی نے مجھ پر یلغار کی ہوئی ہے۔ اب ساری عرب دنیا خاموش ہے بلکہ خوش ہے کہ اسرائیل غزہ کے بچوں کو ہلاک کر رہا ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں مار رہا ہے اور مجھے وہ زمانے یاد آ رہے ہیں جب فرعون کے نجومیوں نے اسے اطلاع کی کہ تمہاری رعایا بنی اسرائیل میں ایک پہلا بچہ پیدا ہونے کو ہے جو کل تمہاری سلطنت کو ملیامیٹ کر دے گا تو فرعون حکم دیتا ہے کہ بنی اسرائیل کے ہر خاندان کے بڑے بچے کو ہلاک کر دیا جائے اور پھر گلیوں، بازاروں میں معصوم بچوں کے لاشے تڑپنے لگے اس لیے حضرت موسٰیؑ کی والدہ نے انہیں ایک پالنے میں لٹا کر نیل کی لہروں کے حوالے کر دیا تھا اور آج ذرا ملاحظہ کیجئے کہ یہ بنو اسرائیل ہیں جو فرعون کے جانشین ہو کر غزہ کے بچوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔ شاید انہیں بھی کسی نجومی نے بتایا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک بچہ ہو گا جو بڑا ہو کر تمہاری باسٹرڈ ایمپائر کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا اور وہ بے شک سب کو قتل کر دیں لیکن ان میں سے جس نے ایک اور موسٰیؑ ہونا ہے اور ایسا لکھا جا چکا ہے کہ ہونا ہے تو وہ ایک بچہ اللہ کی عافیت میں رہے گا، ان کے جہازوں اور ٹینکوں کی یلغار سے بچ نکلے گا ار ایک روز ان جدید فرعونوں سے ٹکر لے گا اور ان کی سلطنت کو پاش پاش کر دے گا۔۔۔ تو جب ساری دنیا خاموش ہے، عرب دنیا خوش ہے تو یہ صرف ترکی کا طیب اردگان ہے جو غزہ کے قتل عام پر احتجاج کر رہا ہے اس کے باوجود کہ وہ امریکہ کا حلیف ہے۔ اور یہ ترکی تھا، دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کیا کہ یہ عرب تھے جنہوں نے انگریزوں کی مدد سے سلطنت عثمانیہ کو زوال آشنا کیا اور اس کے باوجود یہ ترکی ہے جو غزہ کے محصور مجبور لوگوں کے لیے خوراک، دوائیوں اور رضاکاروں سے لدا ایک بحری جہاز روانہ کرتا ہے جس پر اسرائیلی حملہ آور ہو کر متعدد ترکوں کو ہلاک کر دیتے ہیں اور اسرائیل تاریخ میں پہلی بار ترکی سے معافیاں مانگتا پھرتا ہے۔۔۔ ایک پہلو تو یہ ہے ترکی کی تصویر کا اور میں جو تنگ آیا ہوں ہوں ترکی سے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میرا چھوٹا بیٹا سمیر اپنے خاندان سمیت دو ہفتوں کے لیے ترکی کے طول و عرض میں آوارگی میں مبتلا رہا، اس لیے بھی کہ میرے سفرناموں ’’نکلے تری تلاش میں‘‘ اور ’’خانہ بدوش‘‘ میں ترکی بہت ہے اور وہ ابّا جی کے نقش قدم پر سفر کرنا چاہتا تھا اور اس لیے بھی کہ اس کے بڑے بیٹے کا نام یاشار ہے جو ایک ترک نام ہے اور یہ کارستانی بھی میری ہے کہ میں نے اپنے پہلے پوتے کا نام اپنے پسندیدہ ترک ناول نگار یاشار کمال کے نام پر رکھا۔۔۔ سمیر نے ایک دو روزے ترکی میں رکھے اور سلطان احمد چوک میں براجمان سیکڑوں ترک خاندانوں کے ساتھ افطار کیے اور پھر عید کی نماز نیلی مسجد میں ادا کی. حضرت ایوب انصاری کے مزار پر حاضری دی تو ان دنوں میرا پوتا طلحہ مجھ سے پوچھتا ہے۔۔۔ دادا آپ نے نیلی مسجد میں نماز پڑھی تھی، میں نے پڑھی تھی۔ دادا، آپ انطالیہ گئے تھے، سمندر میں نہائے تھے۔۔۔ میں گیا تھا۔۔۔ دادا آپ نے۔۔۔ چنانچہ میں ان دنوں ترکی سے بہت تنگ آیا ہوا ہوں۔۔۔ گھر میں ہر جانب ترکی ترکی ہو رہی ہے اور تازہ ترین افتاد یہ آن پڑی ہے کہ میری بیگم میمونہ نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ میں اگلے مہینے خواتین کے ایک گروپ کے ساتھ ترکی جا رہی ہوں۔ بیگم ایک زمانے میں نہایت گھریلو نوعیت کی پیسے پیسے کا حساب رکھنے والی، بچوں کی بہتری کی خاطر اپنی ضرورتوں کو کم کرنے والی خاتون ہوا کرتی تھی۔۔۔ اور پھر جب بچے برسرروزگار ہو گئے، بیاہے گئے، اپنے اپنے گھروں میں ماشاءاللہ خوش اور آسودہ زندگی گزارنے لگے تو بیگم نے یک دم علم بغاوت بلند کر دیا کہ اب میں دنیا دیکھوں گی۔۔۔ تم تو دیکھ چکے اب میں دیکھوں گی چنانچہ وہ ان دنوں پاکستان میں کم ہوتی ہے۔۔۔ چین، سوئٹزرلینڈ، آسٹریلیا وغیرہ میں زیادہ ہوتی ہے اور اب وہ ترکی جا رہی ہے تو میں اگر ترکی سے تنگ نہ آؤں تو اور کیا کروں۔۔۔ اور پھر وہ کیا محاورہ ہے کہ مرے کو مارے شاہ مدار۔۔۔ اس دوران فرخ سہیل گوئندی کے ترکی کے بارے میں لکھے گئے ’’نئی بات‘‘ میں شائع ہونے والے کالموں کا مجموعہ ’’ترکی ہی ترکی‘‘ ظہور میں آ گیا۔۔۔ گوئندی گویا میرے لیے ایک شاہ مدار ثابت ہوا، مجھے مار ڈالا۔۔۔ میں اس کا شکرگزار ہوں کہ وہ ان سفری کالموں میں میرا تذکرہ بھی ایک خاص محبوبیت سے کرتا ہے، اقرار کرتا ہے کہ ’’نکلے تری تلاش میں‘‘ نے اسے ترکی کا سفر اختیار کرنے پر مجبور کیا اور اس نے ترک ناول نگار یاشار کمال کو میرے ذریعے دریافت کیا اور اس کا شہرہ آفاق ناول اُردو میں ترجمہ کر کے جو کہ ’’محمت مائی ہاک‘‘ تھا یعنی ’’محمد میرا عقاب‘‘ شائع کیا اور گوئندی نے مجھے پہلی بار اس حقیقت سے آشنا کیا کہ ترک محمد رسول اللہؐ سے اتنی عقیدت رکھتے ہیں کہ اپنے بچوں کے نام محمدؐ نہیں رکھتے بلکہ محمت رکھتے ہیں تاکہ بے ادبی نہ ہو اور نہ ہی احمد رکھتے ہیں بلکہ احمت پکارتے ہیں۔ گوئندی کا یہ کالمی ترک سفرنامہ ایک تاریخی دستاویز ہے۔۔۔ بے شک پاکستان میں کوئی اور ایسا ادبی اور سیاسی دانشور نہیں ہے جو ترکی کی سیاسی، نفسیاتی، تاریخی روح میں گوئندی کی مانند اترا ہو۔۔۔ اس کی نشست و برخواست۔۔۔ شب و روز اور زندگی کا ہر سانس ترکی میں ہی سانس لیتا ہے۔۔۔ مجھے گمان ہے کہ کسی پچھلی حیات میں وہ ایک ترک تھا۔۔۔ اتاترک کے ہریاول دستے میں تھا، گیلی پولی کے معرکے میں انگریزوں کو شکست دینے والی سپاہ میں وہ بھی شامل تھا۔۔۔ توپوں کے گولوں سے بہرے ہو چکے غازی عصمت انونو کے کانوں میں گوئندی سرگوشیاں کیا کرتا تھا۔۔۔ ویسے ان دنوں وہ اپنی پُروپار اور پُرکشش لبنانی بیگم ریما کے کانوں میں ہی سرگوشیاں کرتا ہے۔ یہ صرف ریما ہے جس نے گوئندی کے اندر جو خوبصورت اور بے چین روح ہے اسے دریافت کر لیا ہے۔ ’’فرخ سہیل گوئندی میرے ان دوستوں میں سے ہیں جن کے ساتھ سیاسی موضوعات پر گفتگو کرنے پر لطف آتا ہے۔۔۔ ترکی کے بارے میں وہ کسی ترک دانشور سے کم نہیں۔۔۔ وہ ترکی کی تاریخ، سیاست، ثقافت پر حیرت انگیز گرفت رکھتے ہیں‘‘۔ ’’بلند ایجوت، سابق وزیراعظم ترکی‘‘ اگر بلند ایجوت ایسا عظیم ترک گوئندی کو اپنا ذاتی دوست قرار دیتا ہے بلکہ کہتا ہے کہ گوئندی میں تمہاری شادی کروں گا اور اسے ایک ترک دانشور قرار دیتا ہے تو اگر ان دنوں میں ترکی سے تنگ آیا ہوا تو کیا آپ مجھے موردالزام ٹھہرا سکتے ہیں؟


”ترکی ہی ترکی“، کتاب کا دوسرا اور ترمیم و اضافہ شدہ ایڈیشن فرخ سہیل گوئندی کے ترکی کے سفروسیاحت، سیاسی و سماجی حالات، تہذیب وثقافت اور تاریخ پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے جو وقتاً فوقتاً روزناموں میں شائع ہوتے رہے۔ کتاب میں مصنف سے کیے جانے والے انٹرویوز کو بھی شامل کیا گیا ہے جن میں انہوں نے ترکی کے سیاسی اور سماجی حالات، خطے میں اس کے کردار اور ماضی و مستقبل پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ ترکی موضوع پر ایک جامع اور معلومات افزا کتاب ہے۔ کتاب کے مصنف فرخ سہیل گوئندی ملکی سیاست اور سیاسی تاریخ کے علاوہ عالمی سیاست کے بارے بھی گہرا درک رکھتے ہیں۔ ترکی ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔ وہ ترکی کا متعدد بار دورہ کر چکے ہیں، جب کہ ترکی کے مختلف حصوں اور طبقوں کے بارے اسی طرح گہرائی سے جانتے ہیں، جس طرح ترکی کے رہنے والے۔ 216 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 480 روپے ہے اور اسے ”جمہوری پبلیکیشنز، لاہور‘‘ نے شائع کیا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں