ترکی کا مختصر تفریحی سفر اور اس کی روداد – عظیم الرحمٰن عثمانی

الحمدللہ ترکی میں سات روز کی تعطیل گزار کر گزشتہ رات انگلینڈ واپسی ہوگئی. جب گیا تھا تو رنگت ایک عام پاکستانی کی مانند نیم گندمی تھی مگر اب جو لوٹا ہوں تو ویسٹ انڈیز کا کورٹنی واش نظر آرہا ہوں. گویا اصطلاحی نہ سہی مگر لغوی اعتبار سے منہ کالا کروا کر واپسی ہوئی ہے. لکھنے کو اتنا کچھ ہے کہ تفصیل سے لکھوں تو شاید ایک مختصر سفر نامہ بن جائے مگر اتنا لکھنے کا نہ ارادہ ہے نہ ہمت. البتہ یہ لکھنے میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کہ یہ میری اب تک کی زندگی کا سب سے پرسکون اور یادگار سفر رہا ہے. مجھے دور یا نزدیک سے جاننے والوں کو بجا طور پر مجھ سے یہ امید ہوا کرتی ہے کہ میں ان جگہوں پر جانا ہی پسند کرتا ہوں گا جہاں تاریخ یا فلسفے کا سامان ہو یا پھر چکا چوند کر دینے والی تعمیرات ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ میرے نزدیک مثالی و من پسند جگہیں وہ ہیں جہاں اردگرد قدرت کے فطری مظاہر ہوں، جو شہر کی مصنوعیت سے دور ہو، جہاں لوگ سادہ مزاج ہوں، جہاں ہریالی ہو، جہاں شفاف سمندر ہو، جہاں ٹھیلوں سے سجے بازار ہوں، جہاں چائے قہوے کے ڈھابے ہوں. یہی کچھ ذہن میں سجا کر میں ترکی کے ایک ایسے ہی علاقہ میں مقیم تھا جسے الانیہ انطالیہ کہا جاتا ہے. گو میرا قیام ایک خوبصورت فائیو اسٹار ریسورٹ میں تھا جو سوئمنگ پول، جکوزی، شفاف ترین نیلے ساحل سمندر، ان گنت پکوان، انواع و اقسام کے مشروب، آرام دہ کمروں جیسی بے شمار سہولیات سے لبریز تھا. مگر ہوٹل سے باہر کا علاقہ نہایت سادہ اور فطرت کے سحر انگیز مظاہر سے مزین نظر آتا تھا. ترکی واقعی ایک ایسا ملک ہے جو مجموعہ اضداد ہے. جو ایک طرف عظیم اسلامی تاریخ سے مالامال ہے تو دوسری طرف رومن امپائر کے باقیات کو پوری شان سے سموئے ہوئے ہے. جو ایک جانب مغرب کی فحش روایات کو خود میں جگہ دیے ہوئے ہے تو دوسری جانب اسلام کی شرم و حیاء کا بھی پوری شدت سے معترف ہے. جہاں ایک طرف یورپی بننے کے جنون میں ہر حد پھلانگ لینے کی خواہش ہے تو دوسری طرف فرد و معاشرے میں احیائے اسلام کی بھرپور تمنا ہے. جہاں ایک جانب فلک بوس حسین عمارتیں ہیں تو دوسری جانب گاؤں کی پرسکون زندگی بھی دھیمے سے مسکرا رہی ہے. جہاں ایک طرف آئینے کی مانند بے شمار شفاف جھرنے اور سمندر ہیں تو دوسری طرف ایسی ایسی جدید سہولیات میسر ہیں جنھیں دیکھ کر جنت کا گمان ہو. جہاں ایک جانب ہوٹلوں سے میوزک کا شور نکل رہا ہے تو دوسری جانب مساجد سے اذانوں کی دل نشین آواز بھی گونج رہی ہے. جہاں ایک طرف ہر پکوان حلال ہے، وہاں شراب کی دکانیں بھی عام کھلی ہوئی ہیں. (یہ اور بات ہے کہ انگلینڈ کی طرح مجھے ایک بھی شخص شراب کے نشے میں دھت نہیں نظر آیا) گویا اگر میں غالب کے اس مصرعہ ”بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے‘‘ کو ترکی کے تناظر میں پیش کروں تو کچھ ایسی صورت ہو کہ ”مجموعہ اضداد ہے ترکی میرے آگے‘‘. دھیان رہے کہ راقم نے اب تک استنبول یا انقرہ جیسے نمائندہ شہروں کا سفر نہیں کیا ہے بلکہ اس کا سفر انطالیہ، الانیہ، ایوسلار، انسیکم اور پاموککالے تک محدود رہا ہے. ترکی کے بارے میں ایک اور نہایت فرحت انگیز بات یہ ہے کہ اس کے عوام بڑی تعداد میں پاکستانی عوام سے محبت کرتے ہیں. میرے دل سے یہ دعا نکلتی ہے کہ اللہ میرے وطن پاکستان کو ایسی ہی عزت دنیا کے تمام ممالک میں عطا کرے جیسی عزت اسے ترکی کے عوام میں حاصل ہے. مجھے جانے سے پہلے کئی لوگوں نے یہ نصیحت کی تھی کہ خود کو برٹش مت بتانا بلکہ پاکستانی کہنا. جیسے ایک امریکی عزیز نے مجھے اپنا واقعہ بتایا کہ جب تک وہ خود کو امریکی کہتا رہا لوگ اس سے واجبی سا سلوک کرتے رہے لیکن جیسے ہی اس نے کسی کے کہنے پر خود کو پاکستانی بتایا تو ہر کوئی مدد کے لیے سبقت لینے لگا. یہی معاملہ میرے ساتھ بھی پیش آیا. اکثر دکانداروں کو جب معلوم ہوتا کہ میں پاکستانی ہوں تو وہ نہایت خوش ہو کر اشارے سے سمجھاتے کہ ”ترکی پاکستانی برادر‘‘. حیرت انگیز طور پر میرے لیے قیمتیں کم کردیا کرتے اور کئی لوگوں نے مجھے صرف اس لیے مفت تحفے دیے کہ میں پاکستانی ہوں. آپ اگر میری اس بات پر یقین نہ کریں تو میں سمجھ سکتا ہوں کیوں کہ اگر مجھ پر نہ بیتی ہوتی تو میں کبھی یقین نہ کرتا.

ترکی کے لوگ اپنے وطن سے شدید محبت کرتے ہیں. امریکہ کے بعد یہ دوسرا ایسا ملک ہے جہاں میں نے کثیر تعداد میں ملک کے جھنڈے لگے دیکھے اور لوگوں کو قومی ترانوں پر جذباتی ہوتے محسوس کیا. ترکی میں یورو کرنسی بھی اتنی ہی مقبول ہے جتنی ان کی اپنی کرنسی لیرا. معلوم نہیں کا میرا یہ احساس کتنا درست ہے؟ مگر مجھے بہت سے لوگوں میں رینگنے والے جانوروں سے رغبت نظر آئی. جیسے ایک ترک عورت اچانک مجھ سے پوچھنے لگی کہ کیا پاکستان میں کوبرا سانپ ہوتے ہیں؟ پھر اپنے ہاں پائے جانے والے سانپ کی اقسام بتانے لگی. اسی طرح کئی دکانوں پر چھپکلی کے ربڑ والے کھلونے نظر آئے، اسی طرح مجھے کم از کم تین لوگوں کے پاس ایک بڑی چھپکلی جسے شاید اردو زبان میں ”گوہ‘‘ کہتے ہیں، پلی ہوئی نظر آئی جسے وہ ہاتھ میں لے کر سہلاتے رہتے. ایک کے ساتھ میں نے تصویر بھی کھینچوائی. ترک لوگ اپنی زبان ہی میں بات کرتے ہیں اور مجھے بہت کم لوگ ایسے ملے جو انگریزی بول سکتے ہوں. ترکی کے عوام صحیح معنوں میں صفائی پسند ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان جگہوں پر کچرا نہیں پھینکتے جہاں حکومت کی جانب سے کوئی اہتمام نہ کیا گیا ہو. اس لحاظ سے مجھے ترک عوام برطانوی عوام سے زیادہ صفائی پسند معلوم ہوئے. ہر کام نہایت مستعدی اور منظم انداز میں انجام دیا جاتا ہے مگر خوبصورتی یہ ہے کہ یہ نظام مغربی ممالک کی طرح پیچیدہ نہیں بلکہ بہت سادہ معلوم ہوتا ہے. مجھے بمشکل تمام صرف ایک جگہ کچھ کاغذات پر دستخط کرنے پڑے ورنہ ہر جگہ بس مرحلہ وار کام انجام دے دیا جاتا. اس آسان نظام نے مجھے موجودہ مدینہ کی یاد دلائی. میرے ترکی پہنچنے کے فوری بعد ہی وہ حالیہ تاریخی واقعہ ہوا جس میں فوج کے ایک باغی گروہ نے اردوان کی حکومت الٹنے کی ناکام کوشش کی۔ عوام نے جس مثالی انداز میں اس کوشش کو ناکام بنایا اس سے آپ سب بخوبی واقف ہیں. ترک عوام اس وقت دو بڑے گروہوں میں منقسم ہیں. پہلا گروہ وہ ہے جو مغرب کے رنگ میں پوری طرح رنگ کر یورپی کہلانے کا متمنی ہے اور دوسرا گروہ وہ ہے جو یورپی بننا تو چاہتا ہے مگر اپنے اسلامی تشخص کو قائم رکھ کر. یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ترکی کی عوام میں اسلام سے قربت بڑھ رہی ہے اور اب ان کا مجموعی شعور ایک بار پھر اسی رفعت کا متمنی ہے جو کبھی خلافت عثمانیہ کی صورت میں ان کا خاصہ تھی۔ میں پوری دیانتداری سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ترک عوام نے میرے دل کو اپنے اخلاق سے جیت لیا ہے۔ ایسے اخلاق جو برصغیر پاک و ہند میں عوامی سطح پر مفقود ہیں اور جن کا عکس مجھے عرب ممالک میں بالکل نظر نہیں آیا.

چار ایسے مواقع آئے جو مجھے اپنے اس مختصر سفر میں سب سے زیادہ دل نشین لگے. پہلا موقع جب میں نے زندگی میں پہلی بار سمندر کے بیچ ”اسکوبا ڈائیونگ‘‘ یعنی غوطہ زنی کی اور سمندر کی گہرائی میں موجود مخلوقات کو دیکھا. دوسرا موقع جب ایک قزاقی انداز کے نہایت خوبصورت جہاز میں پانچ گھنٹے ہمیں سمندر سے گزارا گیا جہاں میں نے دو رنگ کے پانیوں کو جدا جدا دیکھا اور دونوں پانیوں میں سے گزرا. قران مجید کی اس آیت کو یاد کیا جس میں دو پانیوں کو جدا کرنے کا ذکر ہے۔ لوگوں کو پہاڑوں پر چڑھ کر سمندر میں چھلانگیں لگاتے دیکھا. تیسرا موقع پاموککالے کا وہ ہوشربا پہاڑی مقام جس کے معنی ترکی زبان میں ”روئی کا محل‘‘ ہیں، جہاں کاربونیٹ سمندری معدنیات کے سفید پہاڑ قدرتی زینوں کے ساتھ موجود ہیں اور جہاں قدم قدم پر ان ہی معدنیات سے بھرپور چھوٹے چھوٹے گرم پانی کے تالاب ہیں. بہت امکان ہے کہ آپ نے اس ناقابل یقین مقام کو انگریزی یا ہندی فلموں میں دیکھ رکھا ہو اور چوتھا موقع ”ہایرہ پولس‘‘ رومی سلطنت کا وہ تاریخی پر ہیبت پنڈال جہاں پندرہ ہزار عوام کےلیے گلیڈیٹرز کے مقابلے کروائے جاتے تھے۔–
لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر تحریر اختصار کی کوشش کے باوجود طویل ہوچکی لہٰذا اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔

(دلیل)

اپنا تبصرہ بھیجیں