کابل: سائیکل کولائبریری بناکر بچوں کو مفت کتابیں دینے والا افغان استاد

جنگ اور دہشت گردی کے شکار افغانستان میں ایک بے غرض اور علم دوست استاد اپنی سائیکل پر لائبریری قائم کرکے غریب بچوں تک کتابیں پہنچارہا ہے۔
صابر حسینی کے دل میں یہ جذبہ بچوں میں کتابوں سے محبت لیکن ان کی غربت دیکھ کر آیا ہے کیوں کہ غریب بچوں تک کتابوں کی رسائی نہ ہونے کے برابر ہے. اس لیے انہوں نے سائیکل پر ایک لائبریری قائم کی ہے اور اسے ’’موبائل لائبریری‘‘ کے نام سے دور دراز علاقوں تک بچوں کو کتب پہنچانے کا کام شروع کیا ہے۔
یہ کام انہوں نے 6 ماہ قبل شروع کیا جس کے لیے ان کے دوستوں نے رقم اور کتابیں فراہم کیں اور پہلے دن انہوں نے 200 کتابیں تقسیم کیں۔ اب ان کی ٹیم میں مزید 20 لوگ شامل ہوچکے ہیں اور تقریباً 6 ہزار کتابیں ان کے پاس ہیں۔
سائیکل پر موبائل لائبریری بنانے کے بارے میں صابر حسینی نے کہا کہ ہمارے بہت سے رضاکاروں کے پاس کار اور موٹرسائیکلیں نہیں۔ طالبان بم حملوں کے لیے بھی سائیکل استعمال کرتے ہیں اور اب میں ہم اس سائیکل کو تباہی کی بجائے علم و تہذیب کے فروغ میں استعمال کررہے ہیں۔
چھٹی والے دن صابراپنی سائیکل پرکتابیں لاد کر دور دراز دیہاتوں تک جاتے ہیں خواہ وہاں سکول موجود ہے یا نہیں۔ ’’کتابیں لینے والے بچے تیسری اور چوتھی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کو لکھنا اور پڑھنا نہیں آتا جو افسوس ناک امر ہے۔‘‘ صابر حسینی کا کہنا ہے کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ صابر کتاب دینے کے بعد ہر بچے کو یاد رکھتے ہیں اور اگلے چکر پر اس کے لیے اگلے مرحلے کی کتاب لے جاتے ہیں اور اس سے پرانی کتاب واپس لے کر دیگر اہل بچوں کو دے دیتے ہیں۔
صابر کا کہنا ہے کہ ہم اسے لائبریری ہی سمجھتے ہیں یعنی پرانی کتابیں واپس کرکے نئی کتابیں لے لو۔ اس کے علاوہ بڑے افراد بھی ان سے کتابیں لیتے ہیں۔ صابر حسینی اپنی کتابوں کے ذریعے امن، صبر اور برداشت کا درس دینا چاہتے ہیں اور وہ لوگوں کو منشیات سے بھی بچانا چاہتے ہیں۔ ایک دفعہ وہ ایک گاؤں گئے جہاں بچوں نے اپنے کھلونا بندوقیں انہیں واپس کردیں اور اس کے بدلے کتابیں پسند کیں۔

کابل: سائیکل کولائبریری بناکر بچوں کو مفت کتابیں دینے والا افغان استاد” ایک تبصرہ

  1. Sabir Hussaini kay baray man parh kar khogawar harat hoi kay aj kay dor man essay bhe log mojod han jo apni qoum ko ilmo adab say roshanash kar rahay han . in kay baray man lekh kar ap nay ahsas delaya hay kay hum in say bohat pahchay han hum serf apnay ap ko dakh rahay han apni quom ko bhool gaay han. MEHBOOB ELAHI MAKHMOOR, EDITOR MONTHLY ANOKHI KAHANIYAN, KARACHI

اپنا تبصرہ بھیجیں