ضیاءاللہ کھوکھر، گوجرانوالہ کا علم دوست درویش – سی۔ ایم نعیم

گمنام پاکستانی… جن کا نام ضیاءاللہ کھوکھر ہے۔ آپ کا وطن گوجرانوالہ ہے اور آپ نے اپنی ساری زندگی اُردو رسالوں اور اخباروں کو جمع کر کے محفوظ کرنےکی نذر کر دی ہے۔ ان سے ملاقات کا شرف مجھے گذشتہ مارچ میں حاصل ہوا تھا، اگرچہ صرف چند گھنٹے ہی ان سے گفتگو اور ان کے حیرت خیز ذخیرے کا سرسری جائزہ لینے کے لیے مل سکے تھے۔

ضیاءاللہ کھوکھر صاحب کی کم و بیش ساری عمر گوجرانوالہ ہی میں گذری ہے، جہاں ان کے مرحوم والد، عبدالمجمید کھوکھر، کا مختصر سا کارخانہ تھا، غالباً پائپ بنانے کا۔ مرحوم کو کتابوں اور رسالوں کے مطالعے کا بھی ازحد شوق تھا۔ خاص طور پر رسائل کا، جنھیں وہ لازماً خریدتے اور پھر کبھی جدا نہ کرتے تھے۔ کھوکھر صاحب نے ایک کتاب میں اپنے والد کے اس شوق کے بارے میں جو لکھا ہے، اس سے ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ خود کھوکھر صاحب کو اس عظیم کام کی انگیز کس طرح ملی۔
’’میں ابھی عمر کی ساتویں آٹھویں منزل ہی میں تھا کہ والد محترم نے مجھے بچوں کے رسائل کے مطالعہ پر راغب کر دیا۔ شروع ہی سے میرا معمول یہ رہا کہ سکول سے چھٹنے کے بعد سیدھا بازار الماریاں میں والد محترم کے پاس کارخانے میں حاضر ہوجاتا اور شام ڈھلنے تک ان کا ہاتھ بٹاتا۔ معاشرہ روائتی اقدار اور اطوار میں بے حد مستحکم تھا اور یہ دور ایسا پرسکون اور مربوط تھا کہ سرِشام دکانوں پر تالے پڑجاتے۔ بسا اوقات دوکان بند کرنے کے بعد والد صاحب مجھے سائکل پر بٹھاتے اور قریب ہی ریل بازار میں ’’بشیر صحرائی اخبار گھر‘‘ لے جاتے، جہاں سے وہ مجھے بچوں کے رسائل دلوا دیتے۔ بچوں کا سب سے پہلا رسالہ، جس سے مجھے تعارف کی سعادت حاصل ہوئی، وہ ماہنامہ ’’کھلونا‘‘ دہلی تھا۔ اس کے بعد ”کھلونا‘‘ ہی کے نام سے کراچی اور لاہور سے نکلنے والے اور دیگر رسالوں سے مطالعے کی ایسی لت لگی کہ بچوں کا جو رسالہ بھی نظر آجاتا، فوراً اٹھا لاتا اور محفوظ کرتا رہا۔ یہ عادت بدستور جاری ہے۔‘‘

بچپن کی پڑی ہوئی اس عادت کا ثمرہ اب ایک عظیم الشان ذخیرے کی شکل اختیار کرچکا ہے، جسے کھوکھر صاحب نے اپنے والد کے نام سے منسوب کردیا ہے۔ یہ ”عبدالمجید کھوکھر میموریل لائبریری‘‘، گوجرانوالہ کے ایک سادہ سے محلے میں ایک سادہ سی عمارت میں محفوظ ہے۔ باہر صرف ایک چھوٹی سی تختی اس کی موجودگی سے آگاہ کرتی ہے، لیکن جب آپ اندر جاکر کھوکھر صاحب سے ملتے ہیں، ان سے کتب خانے کی تفصیلات حاصل کرتے ہیں، اور ان کی معیت میں کتب خانہ کی الماریوں پر ایک سرسری نظر ہی ڈالتے ہیں تب اندازہ ہوتا ہے کہ اس ایک بظاہر غیر متاثر کن سادہ سی شخصیت نے اکیلی اپنی ذات میں کتنا بڑا کام کر ڈالا ہے۔ اس ذخیرہ میں مختلف اخباروں اور رسائل کے دو لاکھ سے زائد متفرق شمارے محفوظ ہیں۔ ان کے علاوہ پینتیس ہزار کتابیں ہیں، جن میں سات سو آپ بیتیاں اور تیرہ سو سفرنامے ہیں۔ چار سو کتابیں سوانح حیات اور شخصی خاکوں کی ہیں۔ دو سو مجموعاتِ مکاتیب ہیں اور اُردو کے زندہ بہار موضوعات، غالب اور اقبال، پر بالترتیب آٹھ سو اور اٹھارہ سو کتابیں ہیں۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اس ذخیرہ میں ایک ہزار سے زاید کتابیں پنجابی زبان میں مختلف موضوعات پر موجود ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ دیگر پاکستانی زبانوں کی کتابیں بھی بعض خاص موضوعات پر وہاں موجود ہوں۔

ان تمام مطبوعات کو بہت احتیاط سے سیلوفین میں لپیٹ کر بنڈلوں کی شکل میں کھلی الماریوں یا شیلفوں پر رکھ دیا گیا ہے۔ اخبارات اور رسائل کے بنڈل سنہ اشاعت کے اعتبار سے تیار کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ موضوعات کا بھی لحاظ کیا گیا ہے۔ نتیجتاً کسی خاص کتاب یا شمارے تک دسترس بہت آسان ہوگئی ہے۔ یہ سب کام بھی کھوکھر صاحب ہی نے ایک نوعمر اسسٹنٹ کی مدد سے سر انجام دیا ہے۔ پھر بھی کرنے کو ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ میں نے خود دیکھا کہ بہت سے رسالے اور اخبار چھوٹے چھوٹے ڈھیروں میں فرش پر رکھے تھے اور کھوکھر صاحب کی محبت بھری توجہ کے منتظر تھے۔ ایک اکیلا آدمی اس عمر میں جو کچھ کرسکتا ہے وہ البتہ پابندی اور توجہ سے ہو رہا ہے۔

کھوکھر صاحب نہ تو ایم اے، پی ایچ ڈی ہیں اور نہ انھوں نے لائبریری سائنس کی ہی کوئی ڈگری حاصل کی ہے، لیکن وہ ایک انتہائی اہم بات بخوبی سمجھتے ہیں، وہ یہ کہ لائبریرین کا کام محض کتابوں کو محفوظ کرنا ہی نہیں۔ اتنا ہی اہم کام یہ بھی ہےکہ کتابوں اور ان کے پڑھنے والوں کے درمیان جو دشواریاں ہو سکتی ہیں انھیں دور کرکے پڑھنے والوں کی کتابوں تک رسائی آسان کردی جائے۔ یعنی مارِ خزانہ بن کر نہ بیٹھا جائے، علم دوست بنا جائے۔ چنانچہ کھوکھر صاحب نے وہ کام بھی کر ڈالا ہے جو ایک زمانے میں برصغیر کے اہم کتب خانے لازمی سمجھتے تھےاور اب شاذ ہی کوئی ادارہ اس کا اہتمام کرتا ہے، یعنی ذخیرہ میں موجود کتب و رسائل کی فہرست کی تیاری اور اشاعت۔ کھوکھر صاحب نے اب تک چار موضوعاتی فہرستیں تیار کر کے شائع کر دی ہیں۔ یہ کام بھی پوری بےلوثی اور یکسوئی سے کیا گیا ہے اور اُردو کی تہذیبی، علمی اور ادبی تاریخ کے ہر طالب علم کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

پہلی فہرست کا عنوان حسب توقع ”بچوں کی صحافت کے سو سال‘‘ ہے۔ اس میں لائبریری میں محفوظ کوئی دو سو (200) سے زائد رسائل کے نہ صرف نام درج ہیں، ساتھ ہی ساتھ مقام اشاعت، ابتدا کا سنہ، مدیروں کے نام بھی شامل ہیں۔ اور اگر کسی رسالہ کا کوئی خاص نمبر کبھی شائع ہوا تھا تو اس کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔ میں اب تک یہ سمجھتا تھا کہ اُردو میں بچوں کا پہلا رسالہ منشی ممتاز علی کا ”پھول‘‘ تھا، جو 1909ء میں نذر سجاد حیدر صاحبہ کی ادارت میں جاری ہوا تھا۔ کھوکھر صاحب کی فہرست اور ان کی لائبریری کی زیارت کے بعد پتہ چلا کہ یہ کارنامہ بھی منشی محبوب عالم کا تھا۔ انھوں نے 1902ء میں ”بچوں کا اخبار‘‘ کے نام سے ایک ماہ نامہ جاری کیا تھا جو دس برس کے بعد بند ہوگیا تھا۔ جب کہ ”پھول‘‘ ہفتہ وار تھا اور اس کی مقبولیت کئی دہائیاں باقی رہی۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ کھوکھر لائبریری میں ”بچوں کا اخبار‘‘ کے بارہ شمارے اور ”پھول‘‘ کے چارسو شمارے بخوبی محفوظ ہیں۔

دوسری انوکھی فہرست ان 1300 سفرناموں کی ہے جو اس ذخیرہ میں محفوظ ہیں۔ ان میں سے اٹھارہ کی تصنیف اور اشاعت 1900ء سے پہلے ہوئی تھی۔ کتاب کا نام ہے ”فہارس الاسفار‘‘۔ (اسکی ایک کمتر شکل پہلے ”نوادرات‘‘ کے نام سے شائع ہوئی تھی۔) اس میں بھی تمام ضروری معلومات درج کی گئی ہیں، جب کہ ترتیب میں مصنف کے نام کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ 1947ء کے بعد پاکستان میں سفرنامے لکھنے، شائع کرنے، اور پڑھنے کا رواج بڑی شدت سے ابھرا اور پھیلا۔ میں سمجھتا تھا کہ محترم مستنصر حسین تارڑ اس میدان میں سب سے تیز رو رہے ہوں گے، لیکن اس فہرست سے خبر ملی کہ مرحوم حکیم محمد سعید صاحب ان سے کہیں آگے نکل گئے تھے۔ لائبریری میں حکیم صاحب کے 55 سفرنامے موجود ہیں جب کہ تارڑ صاحب کی روداد ہائے اسفار صرف 17 ہیں۔ ان دو حضرات کے درمیان قمر علی عباسی صاحب ہیں جن کے 20 سفرنامے کھوکھر صاحب نے محفوظ کر چھوڑے ہیں۔ ایک حیرت خیز خبر جو میری کم علمی کا پول بھی کھولتی ہے یہ ہے کہ اس ذخیرہ میں کم ازکم 115 سفرنامے خواتین کے تحریر کردہ ہیں۔

تیسری فہرست کا عنوان ہے، ”تعلیم گاہوں کے رسائل و جرائد‘‘ جس کو کھوکھر صاحب نے اپنے والد کی یاد میں مفت تقسیم کیا تھا۔ اس میں ساڑھے چار سو (450) سے زیادہ ان جرائد کی تفصیلات درج کی گئی ہیں جو بر صغیر کے تعلیمی اداروں سے وقتاً فوقتاً یا پابندی سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ سب سے پرانا رسالہ ”محمدن اینگلو اورینٹل کالج میگزین‘‘ ہے جس کا آغاز 1891ء میں ”علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ‘‘ کے ضمیمےکی صورت میں ہوا تھا، اور جو جولائی 1894ء سے الگ ایک مستقل ماہوار رسالے کی حیثیت سے شائع کیا جاتا تھا۔ اس میں اُردو اور انگریزی کے الگ الگ سکشن شامل ہوتے تھے۔ مجھے اس رسالہ کا علم اس سے قبل نہیں تھا۔ پتہ لگایا تو معلوم ہوا کہ علی گڑھ میں اس کی فائلیں موجود ہیں، اور ایک اشاریہ بھی تیار ہوا تھا اگرچہ اس کی اشاعت کسی سبب سے ابھی تک نہیں ہوسکی ہے۔ بہر حال یہ حیرت اور خوشی کی بات ہے کہ گوجرانوالہ میں کھوکھر صاحب نےاس کے بائیس شمارے پاکستانی محققین کے لیے محفوظ کر رکھے ہیں۔ بدقسمتی سے کھوکھر صاحب کی رسائی 1947ء کے بعد کے ہندوستانی جرائد تک بہت کم ہو سکی ورنہ ان کی تعداد اتنی کم نہ ہوتی جتنی اب ہے، پھر بی کئی نمائندہ شمارے موجود ہیں۔

چوتھی فہرست کا نام بھی کھوکھر صاحب کی دوراندیشی اور علم دوستی کی دلیل ہے۔ ”ماہانہ رسائل کے خصوصی شمارے‘‘ بلا شبہ اپنی نوعیت کی پہلی فہرست ہے، اور ایک دو نہیں چار سو صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کے مطالعے سے کوئی بھی شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ پرانے اور نئے رسائل کی فائلوں میں کتنا غیر معمولی مواد اہم اور نئے موضوعات پر تحقیق کرنے والوں کے لیے موجود ہے۔ ان تمام فہرستوں کو مرتب اور شائع کرنے کا سارا کام، محدود وسائل رکھنے کے باوجود، خود کھوکھر صاحب نے انجام دیا ہے۔

عجب اتفاق ہے کہ اُردو رسائل کا ایسا ہی منفرد اور انتہائی اہم ذخیرہ ہندوستان میں بھی ایک ایسے فرد واحد نے جمع کیا تھا جس کا کسی علمی یا تعلیمی ادارے سے تعلق نہیں تھا اور نہ جس کو کسی طرح کی سرکاری مدد ملی تھی۔ حیدرآباد، دکن، کے جناب عبدالصمد خان صاحب کا صرف ایک موٹر کی مرمت کا کارخانہ تھا (یہ میں محض حافظے کے سہارے لکھ رہا ہوں) لیکن انھوں نے جو ذخیرہ آنے والی نسلوں کے لیے مہیا کر دیا وہ اتنا ہی اہم اور حیرت انگیز ہے جتنا کھوکھر صاحب کا کارنامہ۔ عبدالصمد صاحب کے ذخیرے کی شہرت کم از کم محققین کے حلقوں میں عرصے سے ہے، اور جناب رضا علی عابدی نے بھی اس کا ذکر اہتمام سے اپنی ایک کتاب میں کیا ہے۔ غالباً دس سال قبل کئی غیر ملکی یونیورسٹیوں نے یہ ذخیرہ خرید کر حیدر آباد کی ہی سندریا کیندرم لائبریری میں محفوظ کر دیا ہے، اور اب یہ اہتمام بھی کیا جا رہا ہے کہ اس کا اہم ترین سرمایہ انتہائی احتیاط سے ”سکین‘‘ کر کے پوری دنیا کی دسترس میں پہنچا دیا جائے، جب کہ تمام اصل مطبوعات حیدرآباد میں پوری طرح محفوظ رہیں۔

گوجرانوالہ کے اس درویش خصال علم دوست نے تن تنہا جو کام سرانجام دیا ہے اور جس بے لوثی سے اپنے ذخیرہ کو دوسروں کی مدد کے لیے بھی مہیا کرنے کی کوشش کی ہے وہ لائق صد احترام ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ احترام انھیں ملتا ہے کہ نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس طور سے بھی ملتا ہے جو انہیں بھی قبول اور مرغوب ہو۔ احترام سے میری مراد داد و دہش نہیں۔ میرا اندازہ تو یہی کہتا ہے کہ کھوکھر صاحب کو کسی خطاب یا تمغہ کی تلاش نہیں اور نہ کسی مالی منفعت کی تمنا ہے۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ ان کو جو کرنا تھا وہ انھوں نے کر ڈالا ہے۔ لیکن اب وہ عمر کی اس منزل میں پہنچ گئے ہیں جب ہر شخص کو معتمد اور مخلص مددگاروں کی ضرورت ہوتی ہے، اور جب ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ اس نے جو کچھ ”سرمایہ‘‘ بہم پہنچایا ہے وہ اگلی نسلوں تک بھی پہنچے۔ ان کا ذخیرہ ایک انوکھا قومی ورثہ ہےجس کو کھوکھر صاحب کی حسب مرضی پاکستان میں محفوظ کرنا اور ساتھ ہی ساتھ اسے ساری دنیا کی دسترس میں پہنچانا اب پاکستان کے تمام علم دوستوں کا فریضہ ہے۔

(ایک مشورہ ضرور دینا چاہوں گا۔ اس سرمایہ کو محفوظ رکھنے کے لیے کھوکھر صاحب جو دوائیں شیلفوں اور بنڈلوں پر چھڑکتے ہیں وہ خود ان کے لیے کتنی غیر مضر ہیں اس کا مجھے پورا یقین نہیں۔ اگر کوئی واقف کار شخص گوجرانوالہ جاکر انھیں مشورہ دے سکے تو بڑا احسان ہوگا۔)

ضیاءاللہ کھوکھر، گوجرانوالہ کا علم دوست درویش – سی۔ ایم نعیم” ایک تبصرہ

  1. khokhar sahab ki kitab dosti qabil e tahseen hay aj bhe issay logo mojood han jo anenda nasloon kay lea kam kar ray han or jis ki unko selay ki tamana bhe nahe Isha Allah kabi es n kitub kanay ka visit bhe karon ga. Man MONTHLY ANOKHI KAHANIYAN, KARACHI ka Editor hon mari khahish hay kay maray 27 sal kay tamam resalay is kitub khanay man mahfooz hon jis kay lea man nay kam soroo kar deya hay. KITAABNAMA bhe tareef kay qabil hay jo ilmi adabi kam kar raha hay. .MR. SAQIB BUTT is great man. MEHBOOB ELAHI MAKHMOOR, EDITOR,, MONTHLY ANOKHI KAHANIYAN, KARACHI

اپنا تبصرہ بھیجیں