نوجوان ادیبہ، کالم نگار، مقررہ اور معلمہ: ”رابعہ حسن‘‘ – محبوب الٰہی مخمور

اُردو ادب میں ایسے لوگ کم ہی آئے ہیں جنہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا بہت کم عرصے اور نو عمری میں منوا لیا ہے اور متعدد شعبوں میں ان کی کارکردگی لازوال رہی ہے اور اب بھی ہے۔ان کا ماضی، حال اور مستقبل ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے۔ ان کی بلندی کے سامنے بڑے بڑے پہاڑ سرنگوں ہو گئے۔ ایسے ہی افراد میں رابعہ حسن کا شمار بھی ہوتا ہے۔ رابعہ حسن اپنی خداداد صلاحیتوں کے ذریعے متعدد شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کااظہار کر چکی ہیں اور اب ایک استاد و مسیحا کی صورت میں نوجوان نسل کی رہنمائی کر رہی ہیں. رابعہ حسن نے تعلیمی شعبے میں اپنے آپ کو منواتے ہوئے ایم اے انگلش اور پھر ایم فِل کیا۔
رابعہ حسن نے بچپن ہی سے کہانیاں لکھنی شروع کر دی تھیں۔ مطالعہ کتب کا شوق انہیں ورثے میں ملا۔ ان کے والد محترم اُردو کے قابل پروفیسر ہیں جنہوں نے اپنے خاندان کو علم کی دولت کی جانب راغب کیا۔ رابعہ حسن نے بچوں و بڑوں کے لیے کہانیاں و افسانے لکھے. اخبارات میں انتہائی حساس موضوعات پر کالم نگاری کی، پھر کئی صفحات کی انچارج بھی رہیں۔ اسی دوران بہترین مقررہ کی حیثیت سے خود کو منوایا اور اب وہ بطورانگلش لیکچرار اپنے فرائض عمدگی سے انجام دے رہی ہیں۔ ان تمام مصروفیات کی باوجود ان میں موجود ایک ادیبہ کو انہوں نے کبھی اپنی ذات سے الگ نہیں ہونے دیا اور ان کا سب سے پہلا اور بڑا حوالہ ادیبہ ہونا ہے جس پر وہ بہت فخر محسوس کرتی ہیں۔
جسٹس (ر) سید منظور حسین گیلانی لکھتے ہیں، ”رابعہ حسن آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں جو بیک وقت شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں. وہ بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کی بھی منفرد ادیبہ ہیں۔‘‘
ہمارے زیرِ نظر اس کتاب ”پینتیس سال بعد‘‘ میں بچوں کی دلچسپی کے تمام موضوعات شامل ہیں۔ رابعہ کہیں بچوں کو وطن سے محبت کا درس دیتی نظر آتی ہیں تو کہیں ان کی الجھنوں کا تجزیہ کرتی دکھائی دیتی ہیں. رابعہ ہرطبقے اور ہر خطے کے بچے کے لیے لکھتی ہیں. کشمیر سے لے کر تھر کے صحرا میں بھوک سے بلکنے والا بچہ، رابعہ کا موضوع ہے. ان کی کہانیوں میں ایک اہم موضوع کتاب اور علم سے محبت ہے اور وہ اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ یہ کتاب اور علم ہی ہے جس کی محبت ہماری دھرتی کو امن کا گہوارا بنا سکتی ہے۔
اس خوب صورت کتاب کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ مصنفہ کو حالات اور بچوں کی نفسیات کا مکمل ادراک حاصل ہے. جس پس منظر میں اپنے مافی الضمیرکو خوبصورتی سے الفاظ کے موتیوں میں پرودیا ہے۔ ایسی تحریریں وسیع المطالعہ اور دردِ دل رکھنے والے لوگوں کا ہی ملکہ ہو سکتی ہیں۔

ممتاز ادیب محبوب الٰہی مخمور رابعہ حسن کو اپنی کتاب ”آپ بیتیاں‘‘ پیش کرتے ہوئے

مصنفہ نے کم عمر ہونے کے باوجود ایسی وسیع بالغ نظری سے معاملات کا احاطہ کیا ہے جیسا کہ ایک لمبی زندگی کے تجربے کے بعد کوئی شخص آنے والی نسلوں کے لیے پند و نصاح قلمبند کرتا ہے۔ خود انگریری کی طالبہ لیکن اُردو ادب میں اتنی دلچسپی، ان کی قوم کے لیے بہت بڑی خدمت ہے۔ مصنفہ نے اپنی تحریروں کو کتابی صورت دینے کی جو کاوش کی ہے وہ قابلِ تعریف ہے اور یہ کتاب ”پینتیس سال بعد‘‘ یقینا بچوں کے ساتھ ساتھ ہر عمر اور ہر سطح کے قارئین کی علمی اور فکری تشنگی کی تسلی کا باعث بنے گی۔ مجھے یقین ہے کہ محترمہ رابعہ حسن اپنی علمی کاوش مستعدی سے جاری رکھیں گی تاکہ زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کر کے قوم کے مستقبل کی رہنمائی کر سکیں۔

رابعہ حسن کی تحریروں میں معاشرے کی بے حسی اور استحصال کا ذکر ہمیشہ موجود ہوتا ہے اور وہ ان باتوں کو کسی لگی لپٹی کے بغیر بیان کرتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ نا انصافی کا یہ دور ختم ہو اور معاشرے میں موجود ہر فرد کو ان کے حقوق ملیں۔ ساتھ ساتھ وہ سب سے یہ بھی چاہتی ہیں کہ وہ اپنے فرائض بھی پوری ایمان داری سے ادا کرتے رہیں۔
رابعہ حسن کی تحریر وں میں ہمارے معاشرے کی جیت جاگتی تصویریں ہیں جنہیں پڑھ کرمعاشرہ اپنی صحیح سمت کا تعین کر سکتا ہے۔ رابعہ حسن جیسے افراد اس معاشرے کے لیے وہ روشن مینار ہیں جن سے آنے والی نسل رہنمائی حاصل کرتی رہے گی۔
اس کتاب کی قیمت 250 روپے مقرر کی گئی ہے اور اسے ”الہٰی پبلیکیشنز، کراچی‘‘ نے بہت اہتمام کے ساتھ شائع کیا ہے.

2 تبصرے “نوجوان ادیبہ، کالم نگار، مقررہ اور معلمہ: ”رابعہ حسن‘‘ – محبوب الٰہی مخمور

  1. SAQIB BUTT Sahab mazmoon shaya karnay ka bay had sukriya es tahran ap naay lekhnay waloon ki hosla afzai bhe kar rahay han KITAABNAMA ZINDABAD .
    MEHBOOB ELAHI MAKHMOOR

  2. محبوب صاحب ”کتاب نامہ” کی پسندیدگی کا بے حد شکریہ۔ سلامت رہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں