عشقِ اِستنبول – ثاقب محمود بٹ

مجھے اِستنبول سے عشق ہے…
مجھے سلطان محمد فاتح کے اِستنبول سے عشق ہے…
مجھے آیا صوفیہ سے اُلفت ہے
مجھے نیلی مسجد سے محبت ہے
مجھے اِستنبول کے باسیوں سے پیار ہے
مجھے اِستنبول کے ہر گلی، کوچے سے عشق ہے
مجھے یہاں کا ہر علاقہ عزیز ہے:
سلطان احمت، بایزید، سرکیچی، ایمی نونو، گلاتا،
عثمان بے، یدِ کلے، تقسیم، بند بازار، مصری بازار،
محمد فاتح، حیدر پاشا، کاراکوئے، اسکودر، توپ کاپی،
ششلی، حربیہ، چمبریتاش، سریر، طرابیہ، استنے،
بیبک، اَکسرائے، کُم کاپی، چاملی چاہ، رومیلی حصار اور ایوبؓ
کہ سب میری راہ دیکھتے ہیں
اِس پاکستانی قاردش کا انتظار کرتے ہیں
نیلی مسجد اور آیا صوفیہ کے درمیان موجود بینچ
میری آمد کے منتظر رہتے ہیں
وہاں گھوم کر چائے بیچنے والے عبدالقادر
ٹیکسی‌ڈرائیور تنج
اور کباب فروش سلیم اوستا خان
میری میزبانی کے لیے آنکھیں بچھائے رہتے ہیں
لالے ریسٹورنٹ (The Pudding Shop) میری آمد کی اطلاع کو بے تاب رہتا ہے
مجھے اِستنبول سے عشق ہے
کہ اس رومانوی شہر کا کوئی ثانی نہیں
کہ یہ ایک لازوال شہر ہے
کہ یہ قَسطَنطِنِیَہ، اسلام بول اور بازنطائن ہے
کہ یہ شہرِ خلافت، تختِ سلاطین اور چشمِ دُنیا ہے
کہ یہ تاریخی شہر ہے، تاریخ ساز شہر ہے
کہ جو پچھلے دو ہزار برس سے 92 حکمرانوں کا پایہ تخت رہا ہے
مجھے اُس اِستنبول سے عشق ہے
اِستنبول کی گلیاں، سڑکیں، شاہراہیں، محلے، محلات، باغات،
کھنڈرات، جزیرے اور سمندر میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں
کہ باسفورس، شاخِ زریں اور مرمرہ کی لہریں اُٹھ اُٹھ کر میرا انتظار کرتی ہیں
کیوں کہ مجھے اِستنبول سے عشق ہے
میں نہ تو پیئر لوئی (Pierre Loti) ہوں، نہ یشار اور نہ ہی اورحان…
کہ اس شہر کے عشق میں ڈوب کر کچھ لکھ سکوں
میں نہ تو تارڑ ہوں اور نہ ہی گوئندی…
کہ اس شہر سے اپنی محبت کی داستان رقم کر سکوں
مجھے تو بس اِستنبول سے عشق ہے
کسی شہر سے میرا پہلا اور آخری عشق…
اِستنبول سے عشق!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں