”واحد بھائی سیریز‘‘، بچوں کے مزاحیہ ادب میں ایک شان دار اضافہ – محبوب الٰہی مخمو ر

بچوں کے ادب سے میرا تعلق 45 سال پرانا ہے۔ وہ اس طرح کہ میں نے تیسری جماعت سے کہانیاں پڑھنی شروع کردی تھیں اور اس کے دس سال بعد میں خود بھی کہانیاں لکھنے لگا۔ بچوں کے تمام رسائل اور بیشتر کہانیوں کی کتابیں میرے زیر مطالعہ رہیں۔ جہاں میں نے معاشرتی کہانیاں پڑھیں، وہیں جاسوسی، سائنس فکشن اور ڈرائونی کہانیوں کا بھی مطالعہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے لکھے گئے مختلف مزاحیہ کرداروں سے بھی واسطہ پڑا، جن میں چچا چھکن، حکیم پودینہ اور صوفی نیاز مند و دیگر شامل تھے۔
گذشتہ دو تین برس سے میرے زیرِ مطالعہ ایک اور مزاحیہ کردار ”واحد بھائی‘‘ آیا ہے جس کی حرکات وسکنات، مزاحیہ جملے اور ان کہانیوں کے اچھوتے مرکزی خیال نے مجھے اس کی جانب راغب کیا. پھر میں ہر ماہ ”واحد بھائی‘‘ کی کہانیوں کا انتظار کرنے لگا۔ یہ سیریز ”ہمدرد نونہال‘‘ میں اُس وقت شائع ہو رہی تھی۔ واحد بھائی کے ذریعے نوشاد عادل نے جدید دور کے مطابق مزاح کو روشناس کرایا، خصوصاً بچوں کے ادب میں متعدد نئے اور اچھوتے کرداروں کو متعارف کرایا۔
”واحد بھائی‘‘ کی حماقتوں اور مزاح سے بھر پور مکالموں نے اس میں چار کی جگہ آٹھ چاند لگا دیے. اس کے ساتھ موجودہ دور کی ایجادات کی مناسبت سے منفرد اور اچھوتے عنوانات نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا۔ جیسے چوزیا، چن چی یا، موبائیلہ، بجلیہ، مرچیا، میزبانیہ، استادیاں، بھکاریہ، حکیمیہ، پریشانیہ وغیرہ، یہ عنوانات ایسے ہیں جنہوں نے پڑھنے والوں کو اپنی جانب راغب کیا اور یوں نوشاد عادل نے نئے کرداروں اور اچھوتے موضوعات سے قارئین کے دل جیت لیے۔
میں سمجھتا ہوں کہ دیگر ادیبوں کو بھی نوشاد عادل کی پیروی کرنا چاہے کیوں کہ پرانے کرداروں، پرانے محاوروں اور پرانے مرکزی خیال پر ان کی کہانیاں زیادہ دیر بچوں کے ادب میں زندہ نہیں رہیں گی۔ موجودہ دور کے مطابق تحریر میں جدت اور نئے مکالمے اور محاورے بچوں کے ادب کے لیے نئے خون کی مانند ثابت ہوں گے۔ اس سے بچوں کا ادب مزید ترقی کرے گا اور میں امید کرتاہوں کہ نوشاد عادل کا قلم مزید شاہ کار تخلیق کرے گا، جو بچوں کے ادب میں تا قیامت جگمگاتے رہیں گے۔

2 تبصرے “”واحد بھائی سیریز‘‘، بچوں کے مزاحیہ ادب میں ایک شان دار اضافہ – محبوب الٰہی مخمو ر

  1. MR. SAQIB BUTT SAHIB KITAABNAMA MAN AAY DIN KUCH NA KUCH EZAFA KARTAY RAHRAY HAN OR PARHNAY WALON KAY ZOUQ KA AHTEMAN KARTAY BHE RAHTAY HAN.. MOJUDA WAHID BHAI KI KAHANIYAN ESSI SELSILAY KI KARRI HAY.. NOSHAD ADIL KI IN KHOBSURAT KAHANIO KO SUB KO PARHNA CHAYYAY. SUKRIYA. MEHBOOB ELAHI MAKHMOOR, EDITOR ANOKHI KAHANIYAN KARACHI

  2. حضور “کتاب نامہ” کی پسندیدگی کا بے حد شکریہ۔ نوشاد عادل صاحب کو ہمارا بہت سلام۔

اپنا تبصرہ بھیجیں