کتابوں سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے – مستنصر حسین تارڑ

میں نے ایک گزشتہ کالم میں ان مختلف واویلوں کا تذکرہ کیا تھا جو پاکستانی قوم کرتی رہتی ہے اور میں ان میں سے ایک نہائت اہم اور مسلسل کیے جانے والا واویلا بھول گیا۔ یعنی ادب پر جمود طاری ہو گیا ہے اور کتاب پڑھنے کا کلچر ختم ہو گیا۔ جہاں تک ادب پر جمود طاری ہونے کا وا ویلا ہے تو یہ صرف وہ نقاد حضرات کرتے رہتے ہیں جو ماضی میں حنوط ہو چکے ہیں۔ جیسے خوراک کے ڈبوں پر اس کی ایکسپائری ڈیٹ درج ہوتی ہے کہ فلاں تاریخ کے بعد اسے کھانا آپ کے لیے مضر ثابت ہو سکتا ہے، ایسے ان واویلا کرنے والے دانشوروں اور نقادوں کی ایکسپائری ڈیٹ بھی کب کی ایکسپائر ہو چکی ہے. ان کے فرمودات پر دھیان کریں گے تو یہ آپ کے لیے انتہائی مضر صحت ثابت ہوں گے۔ ان حنوط شدہ ممیوں کے لیے مناسب مقبروں کی تعمیر شروع کروا دیجیے اور کیا واقعی کتاب کلچر ختم ہو گیا ہے اور لوگ کتابیں نہیں پڑھتے تو یہ دعوٰی صرف وہ کرتے ہیں جو احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں. ویسے اگر کوئی واقعی احمقوں کے لیے مخصوص جنت ہوتی ہے تو اس میں کچھ وقت گزارنا کتنا پر لطف تجربہ ہو گا۔ یقیناً اس میں سیاست دانوں، دانشوروں اور خصوصی طور پر کالم نگاروں کی کثرت ہو گی تو میں اس میں گھر جیسا آرام محسوس کروں گا۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ان دنوں نہائت باقاعدگی سے ملک بھر میں جو بک فیئر ہو رہے ہیں‘ کتابوں کے میلے برپا ہو رہے ہیں، جہاں سیکڑوں ناشرین اپنی شائع شدہ کتب کی نمائشیں کرتے ہیں۔ احتساب عدالت کے باہر نواز شریف کے گرد اتنا ہجوم نہیں ہوتا جتنا ان کتابی میلوں میں ہوتا ہے اور زیادہ تر وہاں نوجوان نسل کے پڑھاکو لوگ ہوتے ہیں‘ آن ریکارڈ ہے کہ لاکھوں نہیں کروڑوں روپوں کی کتابیں فروخت ہوتی ہیں‘ جہاں تک کئی بک سٹال مسلسل اپنے اشاعتی اداروں سے مزید کتابیں منگواتے رہتے ہیں تو کیا یہ سب کتابیں لوڈشیڈنگ کے دوران پنکھے جھلنے کے کام آتی ہیں۔ نصف صدی سے میں میڈیا کے علاوہ کتاب سے منسلک ہوں بلکہ اب تو میڈیا کو کسی حد تک داغ مفارقت دینے کے بعد سراسر کتابی دنیا میں سکونت اختیار کر چکا ہوں تو میرا کہا مان لیجیے، جتنی کتابیں اس زمانے میں پڑھی جا رہی ہیں، پرانے زمانوں میں قطعی نہیں پڑھی جاتی تھیں۔ میں کم از کم دس بارہ ایسی کتابوں کے حوالے دے سکتا ہوں جن کے پچاس سے زائد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں تو یہ کتابیں سردیوں میں آگ جلانے کے کام تو نہیں آتیں۔ انہیں لوگ پڑھتے ہیں ناں‘ میں اپنی کتابوں کے ایڈیشن درج کرنے سے گریز کرتا ہوں صرف یہ جان لیجیے کہ میں ایک ہمہ وقتی ادیب کے طور پر پچھلے تقریباً پچاس برس سے اپنی کتابوں کی رائلٹی پر انحصار کرتے ہوئے ایک شاہانہ تو نہیں اور فقیرانہ بھی نہیں بلکہ ایک مناسب آرام دہ زندگی بسر کر رہا ہوں۔ اگر لوگوں میں کتابیں پڑھنے کا جنون نہ ہوتا تو میں بھوکا تو نہ مرتا۔ کسی سیاسی پارٹی کے پاؤں پڑ جاتا‘ عظیم قائد کے پاؤں دھو دھو کر پیتا اور اپنے کالموں میں اقرار کرتا کہ یہ پانی منرل واٹر سے کم تو نہ تھے اور اگر یہاں دال نہ گلتی تو کسی پراپرٹی ٹائیکون کے سمندر میں اپنی کشتی اتار دیتا کہ کبھی تو کسی فارم ہاؤس یا لینڈ کروزر کے کنارے لگے گی۔ ان دنوں درجنوں اشاعت گھر دن رات کتابیں اُگل رہے ہیں اور ان اشاعت گھروں کے مالک بے وقوف تو نہیں کہ اپنا دھن ادب کی خدمت کرنے کے چاؤ میں لٹا رہے ہیں۔ حضور کتاب ان زمانوں میں ایک انتہائی منافع بخش کاروبار ہے اس لیے کہ پاکستان کے لوگ کتابیں پڑھتے ہیں۔ میں یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ معیار برقرار نہیں رہتا۔ کاٹھ کباڑ جو چھپ رہا ہے اس کا بھی کچھ حساب نہیں لیکن یہ طے ہے کہ کتابوں کی اشاعت گھاٹے کا کاروبار ہرگز نہیں رہا۔ مجھے بھی، میرے مہرباں دوست، اغیار بھی کتابوں کے انبار بھیجتے رہتے ہیں تو آج میں ان میں سے کچھ کتابوں کا سرسری تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جو قابل توجہ ہیں۔

آغاز کرتا ہوں اسد محمد خان‘ انصاف فاطمہ کے ہمراہ اُردو فکشن کے سب سے اہم نثر نگار ڈاکٹر حسن منظر کے افسانوں کے مجموعے’’جھجک‘‘ سے. یہی کافی ہے کہ یہ افسانے ڈاکٹر حسن منظر کے جادوئی قلم کی تخلیقی اولاد ہیں‘ مجھے صرف ایک اعتراض ہے کہ انہوں نے نہائت محبت سے میرے لیے دعائے صحت عافیت کی ہے۔ حالاں کہ اصولی طور پر مجھے ان کے لیے یہ دعا کرنی چاہیے تھی کہ وہ مجھ سے کم از کم چھ سات برس بڑے ہیں. ’’بھیدی‘‘ ڈاکٹر خالد آفتاب کا تازہ ترین افسانوی مجموعہ ہے جس کا فلیپ اگر بانو قدسیہ یا اس فقیر بندہ پر حقیر نے نہ بھی لکھا ہوتا تو ان کے افسانے اتنے منہ زور ہیں کہ اپنی قوت کے بل ہر ادب کے اکھاڑے میں دیگر افسانوں کو چاروں شانے چت کر دیتے۔

محمد عاصم بٹ‘ ہم جیسے نثر نگاروں کی رخصتی کے بعد ہمارے خلا پر کرنے والا الجھا الجھا، چپ چپ نثر نگار‘ ”بور خیس کہانیاں‘‘ کا مترجم کہ بورخیس (Jorge Luis Borges) میں بھی الجھاؤ بہت ہے تو دو دیوانے مل بیٹھے ہیں۔ بے شک میں شاعر حضرات سے پر خاش رکھتا ہوں ان کے لیے مسلسل ایک بغض پالتا ہوں لیکن میں ظفر اقبال کا کیا کروں وہ اپنی شاعری کے ید بیضا سے میرے سب کس بل نکال دیتا ہے۔ تاخیر اور توفیق اس کی شاعری کے سیلاب کی دو پر شور لہریں ہیں جو ہمیں بہا لے جاتی ہیں۔ میں بہت دن ایک وہیل مرغ کی مانند گردن اکڑائے پھرا کہ اس عہد کے سب سے شاندار شاعر ظفر اقبال نے اپنی شاعری کے ایک دیوان کو میرے نام کیا ہے۔ لیکن بعدازاں ایک اور مجموعے کو کسی اور کے نام دیکھا تو میری کلغی گر گئی کہ ظفر اقبال نے مجھے کس خچر کے ساتھ باندھ دیا ہے۔

کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کون سی ایسی دو کتابیں ہیں جنہوں نے مجھے عجب مسرت اور سرخوشی سے ہم کنار کیا۔ معین نظامی کی ایرانی لوک کہانیاں، ’’سفید پرندہ‘‘ اور ’’سرائے مولا‘‘ مجھے کیا علم کہ شیخ ابوالحسن فرقانی کون ہیں کہاں کے ہیں اور کیوں ہوا کرتے تھے۔ جب معین نظامی نے ان فرقانی کے اقوال کو ’’سرائے مولا‘‘ میں منظوم کیا تو جی چاہا کہ بس اسی فرقانی کی بیت کر لوں کہ وہ مجھ ایسا ہی ممکنات کے زمانوں کا آوارہ گرد شخص تھا۔ اگر آپ میری بات مان لیں تو پلیز ’’سرائے مولا‘‘ کا مطالعہ کریں یہ فرقانی آپ کے پاؤں تلے کی زمین کھسکا دے گا۔ زمین کے نیچے تو جسم سارے فنا کا گردوغبار بن کر پگھل اڑیں گے‘ کیا زیر ساگر زمیں کے نیچے ابوالحسن کو عجیب نشو و نما ملے گی اور ابھی رمضان کا مہینہ گزرا ہے تو فرقانی کہتے ہیں لوگ روزے رکھتے ہیں لوگ نفل پڑھتے ہیں اس امید پر کہ وہ منزلوں پر جا پہنچیں میں خود اپنا روزہ ہوں، خود ہی میں نوافل ہوں، میں خود اپنی منزل ہوں اور اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ کس نئے شعری مجموعے کی زمینوں نے خیالوں نے خوب خرابوں نے مجھ پر جادو کر دیا تو وہ ڈاکٹر اختر شمار کا مجموعہ ’’عاجزانہ‘‘ ہے۔ تو کیا اگلے مجموعے کا نام ’’فقیرانہ‘‘ ہو گا۔

محمد جمیل اختر کے افسانے ’’ٹوٹی ہوئی سڑک‘‘ میں بکھرے ہوئے ہیں۔

(فرخ سہیل) گوئندی نے اپنے اشاعت گھر جمہوری پبلی کیشنز کی جانب سے چلر الہان کے ہم عصر ترک افسانے ”دربدر‘‘ شائع کیے ہیں. اگر آپ ترکی کو جاننا چاہتے ہیں تو گوئندی اس میں داخلے کا صدر دروازہ ہے۔

شوکت تھانوی کے دونوں بیٹے عرش منیر اداکارہ کے بطن سے میرے دوست تھے۔ رشید عمر تھانوی اور اس کے برادر بزرگ جو ٹیلی وژن پر میرے ساتھ اداکاری کرتے تھے، میں نے رشید عمر سے متعدد بار کہا کہ شوکت صاحب کی کوئی کتاب بازار میں نہیں تم کہو تو میں اشاعت کا بندوبست کروں لیکن اس نے غفلت اختیار کی اور پھر مر گیا. مجھے خوشی ہے کہ جہلم کے بک کارنر نے میری وہ خواہش پوری کر دی اور شوکت تھانوی کی تحریروں کو نہائت شان و شوکت سے شائع کر دیا ہے اور ہاں یہ کیسے ممکن ہے ہے کہ پاکستان میں کوئی ایک ایسا دن جاتا ہو جب گلزار کی نسبت سے کوئی کتاب شائع نہ ہو. گل شیر بٹ کی آواز میں لپٹی خاموشی لب وہی کتاب ہے۔ یار زندہ کتاب باقی!
(92 نیوز)

اپنا تبصرہ بھیجیں