کتابوں کی دنیا سلامت رہے – ڈاکٹر عارف محمود کسانہ

سویڈن میں دو دہائیوں سے زائد اپنے قیام کے دوران لکھنے کا سلسلہ جاری ہے اور رضاکارانہ طور پر یہاں مقیم اپنی کمیونیٹی کی نمائدگی کرنے کے علاوہ دنیا بھر میں مقیم قارئین سے اپنی تحریروں سے رابطہ قائم ہے۔ اس طویل سفر میں قارئین کا اعتماد میرے لیے باعثِ اطمنان ہے۔ میرا ہفتہ وار کالم ’’افکارِ تازہ‘‘ کے عنوان سے برطانیہ، پاکستان، بھارت، جموں کشمیر اور دنیا کے مختلف ممالک سے شائع ہونے والے اُردو اخبارات و رسائل میں شائع ہو رہا ہے۔
انسٹیٹیوٹ آف کشمیر اسٹیڈیز میرپور نے میرے کچھ منتخب کالم ایک کتاب بعنوان ”افکارِ تازہ‘‘ شائع کی ہے، جس کی دنیا بھر سے بہت سے اہلِ علم نے پذیرائی کی اور اپنے تبصرے بھی شائع کیے۔ افکارِ تازہ کے بعد میری دوسری کتاب بچوں کے لیے اسلامی معلومات پر مبنی، ’’سبق آموز کہانیاں‘‘ ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے اورمعتبر اشاعتی ادارے ، نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد نے اسے شائع کیا ہے۔ ایک مصنف کے لیے اس کی کتابوں کی پذیرائی اور مقبولیت سب سے بڑی خوشی کا باعث ہوتا ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے میرے لیے باعثِ صد مسرت ہے کہ ”سبق آموز کہانیاں‘‘ اور ”افکارِ تازہ‘‘ کی تقاریب رونمائی و پذیرائی آسٹریا، سویڈن، ناروے، ڈنمارک، ہالینڈ، جاپان، چین اور بیلجیئم میں منعقد ہو چکی ہیں۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی میں شعبہ اُردو کے دوطلبہ نے ”سبق آموز کہانیاں‘‘ کو اپنی پی ایچ ڈی کی تحقیق میں شامل کیا ہے۔ بہت سے مبصرین نے سولہ کہانیوں پر مشتمل اس کتاب کو بچوں کے لیے ایک علمی و معلوماتی خزانہ قرار دیتے ہوئے اسے کو سراہا ہے۔
’’سبق آموز کہانیاں‘‘ ان سوالوں کے جوابات پرمشتمل ہے جو بچوں کے ذہنوں میں اُبھرتے ہیں۔ دور جدید میں بچے اپنے دین وثقافت کے بارے میں بہت کچھ جاننا چاہتے ہیں۔ بچوں کے ذہنوں میں طرح طرح کے سوالات آتے رہتے ہیں اور وہ ان کے جواب چاہتے ہیں۔ معصوم ذہنوں میں آنے والے سوال ہوتے تو بہت چھوٹے اور سادہ ہیں لیکن ان کے جواب بعض اوقات اتنے بھی آسان نہیں ہوتے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالوں کے ایسے جواب دیئے جائیں کہ وہ مطمئن ہوجائیں۔ بچوں کو ان کی عمر اور فہم کے مطابق ایسا جواب دینے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ان کی تسلی ہوجائے۔ یہ کتاب لکھنے کا بڑامقصد یہ تھا کہ بچے جو مستقبل کے معمار ہیں ان کی تعلیم و تربیت اس اندازسے کی جائے کہ وہ سچے مسلمان، اچھے انسان، محب وطن اور باوقار شہری بنیں۔ ان کے ذہن میں کوئی الجھن نہ ہو۔ وہ اپنے دل اور دماغ کے اطمینان کے ساتھ اپنے دین کی تعلیمات کو سمجھیں اور ان پر عمل کرکے اپنی زندگی بسر کریں۔ یہ کہانیاں اس انداز سے لکھی گئی ہیں کہ بچے انہیں دلچسپی سے پڑھیں۔ ان کہانیوں میں مختلف ممالک اور شہروں کی بھی کچھ تفصیل موجود ہے تاکہ بچوں کے علم میں اضافہ ہو اور ان میں آگے بڑھنے کا جذبہ بھی پیدا ہو۔
سبق آموز کہانیاں اُردو کے بعد انگریزی، عربی، ہندی، نارویجین اور بنگالی زبانوں میں شائع ہوچکی ہیں جب کہ جاپانی، سویڈش، فارسی، گوجری، کشمیری، سندھی، پشتو، یونانی، فرانسیسی، چینی، جرمن، روسی، اطالوی اور دیگر بہت سی زبانوں میں ترجمہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ امید ہے کہ جلد ہی سبق آموز کہانیاں ان زبانوں میں بھی دستیاب ہوگی جس سے دنیا بھر کے بچے فائدہ اٹھا سکیں۔ سویڈن میں پاکستان کے سابق سفیر طارق ضمیر کے بھر پور تعاون اور ان کی اہلیہ محترمہ منیزہ طارق نے اس کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ جس پر میں ان کا بہت ممنون ہوں۔ دیگر زبانوں کے مترجمین، شیراز اختر، شہزاد انصاری، سید شوکت علی، دنیا عمر شمو اور حسان صبیحی الحموی کا بھی بے حد شکرگزار ہوں اور جو احباب ابھی دیگر زبانوں میں ترجمہ کرنے میں مصروف ہیں، ان کا بھی پیشگی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ مجھے ان تمام احباب کا بھی شکریہ ادا کرنا ہے جنہوں نے کسی طرح سے بھی اس علمی سفر میں تعاون کیا، خصوصا ً نیشنل بک فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید، نصر ملک، ماہر اقبالیات شریف بقا اور ڈاکٹر عبدالقدیر کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ مجھے یقین کامل ہے کہ یہ سلسلہ اللہ کی مہربانی اور رسول اکرم ﷺ کی نظرِ عنایت کے بغیر ممکن نہ تھا اور میں اسے اپنے لیے توشہ آخرت سمجھتا ہوں۔ اپنے رب کی بارگاہ میں میرا سر نیازی مندی سے جھکا ہوا ہے کہ اس نے مجھے یہ توفیق بخشی اور اس راہ میں اسباب بھی پیدا کردیئے۔ سبق آموز کہنایاں غالباَ اُردو میں بچوں کی پہلی کتاب ہے جس کے اتنی زیادہ زبانوں میں تراجم شائع ہوئے ہیں۔
نیشنل بک فاؤنڈیشن کے تحت 6 تا 9 اپریل اسلام آباد میں پاک چائینا فرینڈ شپ سینٹر میں نواں سالانہ قومی کتاب میلہ منعقد ہورہا ہے۔ اس کتاب میلہ میں سبق آموز کہانیاں بھی نمائش کے لیے موجود ہوگی جہاں سے خواہش مند حاصل بھی کرسکیں گے۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد علم کے فروغ کے لیے جو کوششیں کررہی ہے وہ قابل ستائش ہیں اور دعا ہے کہ کتابوں کی دنیا سلامت رہے۔ سبق آموز کہانیاں شائع ہونے کے بعد بچوں اور والدین کی جانب سے مزید سوالات اور اصرار نے مجھے سبق آموز کہانیاں کا دوسرا حصہ لکھنے پر آمادہ کیا اور مجھے یہ لکھتے ہوئے بہت مسرت ہورہی ہے کہ الحمداللہ سبق آموز کہانیاں 2 مکمل ہوگئی ہے اور امید ہے کہ یہ بھی جلد نیشنل بک فاؤنڈیشن سے شائع ہوسکے گی۔ اس میں بیس کہانیاں شامل ہیں اور توقع ہے کہ سبق آموز کہانیاں کا دوسرا حصہ بھی بچوں اور والدین میں بہت مقبول ہوگا۔ میری تمام کتابیں ایمزون سے بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔

(کاروان، ناروے)

اپنا تبصرہ بھیجیں