’’تزکِ بابری‘‘ اور ’’تزکِ جہانگیری‘‘

’’تزکِ بابری‘‘ پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کا روزنامچہ ہے، جو ترکی زبان میں لکھا گیا تھا. بابر بادشاہ کے پوتے جلال الدین اکبر نے اس کتاب کا فارسی میں ترجمہ کرایا. بعد میں روسی، انگریزی، فرانسیسی اور اُردو زبانوں سمیت دیگر زبانوں میں بھی ’’توزکِ بابری‘‘ کے تراجم ہوئے. اس کتاب میں شاعری، موسیقی، مصوری اور خطاطی کا ذکر نہایت دل چسپ اور شگفتہ انداز میں کیا گیا ہے. یہ کتاب تاریخی واقعات، معاشی سرگرمیوں اور جغرافیائی معلومات کا خزانہ ہے.
’’تزکِ جہانگیری‘‘، جلال الدین اکبر بادشاہ کے بیٹے نورالدین جہانگیر کا روزنامچہ ہے جو علمی اور ادبی شاہ کار ہے. اس کتاب میں جہانگیر بادشاہ نے اپنی زندگی کے سب واقعات بے تکلفی سے لکھے ہیں. میدانِ جنگ کا حال، دربار کی چہل پہل اور علمی مسائل کا تمام پہلوئوں سے جائزہ لیا ہے. بادشاہ چوں کہ خود بھی شاعر تھا، اس لیے ’’تزکِ جہانگیری‘‘ میں جا بجا اُس وقت کی ادبی سرگرمیوں کا ذکر بھی ملتا ہے. یہ کتاب فارسی ادب کا سرمایہ ہے اور اُردو زبان میں بھی دستیاب ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں