فرانز کافکا کی تمثیل (25) ”بےتحاشا شور‘‘ – مقبول ملک

”بےتحاشا شور‘‘ – ‏Großer Lärm

میں اپنے کمرے میں بیٹھا ہوں جو کہ پورے فلیٹ میں شور کا ہیڈکوارٹر ہے۔ مجھے تمام دروازے ٹھاہ ٹھاہ بجتے سنائی دیتے ہیں اور ان کے بجنے سے میں ان میں سے گزرنے والوں کے قدموں کی آوازیں سننے سے بچ جاتا ہوں۔ مجھے باورچی خانے میں اوون کا دروازہ بند کیے جانے کی آواز بھی سنائی دیتی ہے۔
پھر میرے والد میرے کمرے کے دروازے کو ایک زناٹے کے ساتھ کھول کر کمرے سے گزرتے ہیں تو ان کا نائٹ گاؤن ان کے پیچھے پیچھے فرش پر گھسٹ رہا ہوتا ہے۔ اب ساتھ والے کمرے میں اوون سے راکھ کھرچی جا رہی ہے۔ “والی” پہلو کے ایک دوسرے کمرے سے ایک ایک لفظ کو چباتے ہوئے چیخ کر پوچھتی ہے کہ آیا والد کا ہیٹ صاف کر دیا گیا ہے۔ ایک ہلکی سی ہونہہ، جو میری دوست بننا چاہتی ہے، جواب دینے والی ایک آواز کی چیخ مزید بلند کر دیتی ہے۔
ہمارے فلیٹ کے دروازے کی کنڈی کھلی تو اس نے کھلتے ہوئے کافی شور کیا، ایسے جیسے کوئی بلغم زدہ گلا کرتا ہے۔ دروازہ آہستہ سے کھلا، پہلے ایسی آواز نکالتے ہوئے جیسے کسی گیت گاتی ہوئی عورت کی آواز۔ پھر وہ بالآخر ایک ایسے بھدے اور مردانہ قسم کے صوتی دھچکے سے بند ہوا جیسے اسے کسی کی قطعاً کوئی پرواہ ہی نہ ہو۔
میرے والد جا چکے ہیں۔ اب ایک بہت نازک، کافی منتشر قسم کا اور ناامید کر دینے والا شور شروع ہو گیا ہے، جس کی وجہ جزائر قناری کے دو پرندوں کی آوازیں ہیں۔ میں نے یہ پہلے بھی سوچا تھا، لیکن اب جزائر قناری کے ان دونوں پرندوں کی آوازیں سن کر مجھے ایک بار پھر خیال آیا۔ کیا مجھے اپنے کمرے کا دروازہ بہت تھوڑا سا کھول کر، رینگتے رینگتے ساتھ والے کمرے میں جا کر نچلی منزل پر اپنی دونوں بہنوں اور ان کی آیا سے یہ منت نہیں کرنا چاہیے کہ وہ بالآخر خاموش ہو جائیں؟

مصنف: فرانز کافکا

(والی*، کافکا کی بہنوں میں سے ایک)

مترجم: مقبول ملک

(جرمن ادب کے شائق دوستوں کی نذر)

اپنا تبصرہ بھیجیں