فرانز کافکا کی تمثیل (31) ”گیلری میں‘‘ – مقبول ملک

”گیلری میں‘‘ – ‏Auf der Galerie

اگر کوئی کمزور، تھکی ہوئی گھڑ سوار خاتون سرکس میں کسی اچھلتے ہوئے گھوڑے پر بیٹھی اس طرح اپنے فن کا مظاہرہ کر رہی ہو کہ شائقین کی طلب پورا ہونے کا نام ہی نہ لیتی ہو اور اپنے چابک کو گھماتا بے رحم رنگ ماسٹر بغیر کسی وقفے کے اسے کئی ماہ تک دائرے ہی میں گھومتے رہنے پر مجبور کرتا رہے؛ گھوڑے پر بیٹھی بیٹھی لیکن تیز رفتاری سے حرکت کرتی یہ فنکارہ لوگوں پر بوسے نچھاور کرتی اور اپنے جسم کے کمر سے اوپر کے حصے کو کبھی آگے تو کبھی پیچھے کی طرف لہراتی رہے؛ جب آرکیسٹرا کی موسیقی اور پنکھوں کے شور میں جاری یہ ختم نہ ہونے والا شو مسلسل اس طرح جاری رہے کہ تاریک مستقبل بھی حال ہی کا حصہ بنتا رہے؛ ساتھ ہی اگر حاضرین کی تالیوں کا بھرپور شور کم ہونے کے بعد بار بار بڑھتا بھی رہے، اور تالیاں بھی ایسے ہاتھوں سے بجائی جائیں جو بھاپ سے چلنے والے مشینی ہتھوڑوں کی طرح اپنے ہدف پر بھرپور ضرب لگاتے ہوں؛ تو ایسے میں مہمانوں کی گیلری میں بیٹھا کوئی نوجوان مہمان شاید بڑی تیزی سے دائروں میں بنی بہت طویل سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے یک دم سرکس کے عین وسط میں آ کر اس وقت بھی اپنے زیر و بم کے ساتھ بجتی آرکیسٹرا کی موسیقی میں چیخ کر یہ آواز لگا دے: روک دو!
لیکن ایسا تو ہے ہی نہیں، ایک خوبصورت عورت ہے جو سفید اور سرخ لباس پہنے کئی پردوں کے درمیان جیسے اڑتی جاتی ہے اور پیادہ مددگار بڑے فخر سے اس کے لیے یہ پردے کھولتے جاتے ہیں۔ رنگ ماسٹر، جس پر اس خاتون کی آنکھیں پڑتی ہیں تو ان میں احترام کے جذبات واضح ہوتے ہیں اور جب وہ کسی وفادار جانور کی طرح سانس لیتا ہوا اس کے قریب آتا ہے، تو اسے بڑی نزاکت سے اٹھا کر سیاہ دھبوں والے سفید گھوڑے پر اس طرح بٹھا دیتا ہے، جیسے وہ اس کی کوئی ایسی محبوب ترین پوتی ہو جو کسی پرخطر سفر پر نکل کھڑی ہوئی ہو۔
اس دوران رنگ ماسٹر یہ فیصلہ بھی نہیں کر پاتا کہ اسے گھوڑے کو اپنے چابک سے اشارہ دینا ہے۔ پھر آخرکار وہ خود پر قابو پاتے ہوئے گھوڑے کو چابک سے ایک زور دار اشارہ دیتا ہے اور ساتھ ہی اپنے کھلے ہوئے منہ کے ساتھ گھوڑے کے پیچھے پیچھے بھی بھاگتا رہتا ہے اور اس پر بیٹھی بار بار ہوا میں اچھلتی سوار پر مسلسل اپنی مشاق نظریں بھی جمائے رکھتا ہے۔
اس کے لیے یہ بات تقریباً ناقابل فہم ہے کہ گھڑ سوار خاتون کتنی فنکارانہ مہارت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ وہ انگریزی زبان میں مختصر احکامات دیتے ہوئے اسے خطرات سے خبردار کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ وہ شدید غصے میں ان لڑکوں کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت بھی کرتا ہے، جنہوں نے وہ بہت بڑے بڑے دھاتی چھلے پکڑے ہوئے ہیں، جن میں سے گھوڑے اور سوار کو چھلانگ لگاتے ہوئے گزرنا ہے۔
اب خاتون کو گھوڑے کی کمر پر کھڑے ہو کر ہوا میں قلابازی لگانا ہے، جو اتنا خطرناک کرتب ہے کہ اسے عرف عام میں ”مہلک چھلانگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کرتب سے پہلے رنگ ماسٹر ہاتھ بلند کر کے آرکیسٹرا کو خاموش ہو جانے کا اشارہ بھی کر دیتا ہے۔ اس کرتب کے بعد وہ اس چھوٹی سے عورت کو ہانپتے ہوئے گھوڑے سے اٹھا کر نیچے اتارتا ہے اور اس کے دونوں گالوں پر بوسہ دیتا ہے۔
اس موقع پر رنگ ماسٹر کو لگتا ہے کہ اس گھڑ سوار خاتون کو شائقین جتنی بھی داد دے دیں، وہ اس کے فن کے اعتراف کے لیے ناکافی ہی ہو گی۔ اور وہ فنکارہ، وہ تو اسی رنگ ماسٹر کی مدد سے اپنے پیروں کے صرف پنچوں پر کھڑی ہے، مٹی کے ایک بادل میں لپٹی، اپنے دونوں بازو پورے باہر کی طرف پھیلائے ہوئے، سر ہوا میں پیچھے کی طرف جھکا ہوا، اور وہ خود سرکس میں موجود ہر ذی روح کو اپنی خوشی میں شامل کرتی ہوئی۔
چوں کہ ہے تو ایسا ہی، تو گیلری کے نوجوان مہمان نے اپنا چہرہ اپنے سامنے گیلری کی ریلنگ پر رکھ دیا اور پھر وہ شو کے بعد اختتامی مارچ میں ایسے جذب ہو گیا، جیسے وہ کسی بہت بھاری خواب میں ڈوبتا جا رہا ہو۔ وہ رو رہا ہے، یہ جانے بغیر کہ وہ رو رہا ہے۔

مصنف: فرانز کافکا
مترجم: مقبول ملک

(جرمن ادب کے شائق دوستوں کی نذر)

اپنا تبصرہ بھیجیں