کتاب عشق – سمیرا انجم

نئی کتابوں کی شیلفوں کو
کتب فروخت آن لائن صفحوں کو
میں گھنٹوں چھان پھٹک کرتی ہوں
ہر کتاب پر دل آتا ہے
ہر شیلف سجی اپنی طرف بلاتی ہے
یہ منظر بھی میرے پاگل پن کو
کچھ اور مہمیز کرتے ہیں
کتابیں جو جھانکتی ہیں
سب کو سمیٹ لینے کو
باہیں بے قرار ہوتی ہیں
اب حال ایسا ہے
کتاب پڑھتے پڑھتے کسی اور طرف مڑ جاتی ہوں
اس کے ساتھ باتیں کرتے کرتے تیسری کو پکڑ لیتی ہوں
یہ پاگل پن نہیں تو کیا ہے؟
اک جنوں بے جا ہے
عقل و شعور رکھنے والوں کے لیے
چاہتی ہوں میں
خواب دیکھتی ہوں میں
دیوار سے دیوار تلک
کتابوں کے انبار
دیوار گیر ذخیروں میں
گم ہوجانا چاہتی ہوں
بے پرواہ کر دے کوئی
ہر قسم کی توجہ سے
کتاب لوں ہاتھوں میں
ورق ورق کھیلوں میں
لفظوں کے مناظر کو
پور پور جھیلوں میں
میرا جنون میرا خبط
کِس اَور لے جائے گا؟
کون اس فتور کو سمجھ پائے گا؟

5 تبصرے “کتاب عشق – سمیرا انجم

  1. ماشاءاللہ.
    اللہ پاک وسعتوں سے ہمکنار کرے.
    آپکا عشق دیکھ کے تو ہمارا شوق بھی بڑھنے کو ہے ..😊

اپنا تبصرہ بھیجیں