پاکستان، تاریخی و ثقافتی جائزہ – سمیرا انجم

زیرِ نظر کتاب ”پاکستان، تاریخی و ثقافتی جائزہ‘‘ کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ ہمارے پاکستان کے بارے میں ہے۔ اس خوب صورت کتاب کے مصنف محمد عبدہ ہیں، جن کا نام پاکستان کی تاریخ اور سیاحت کے حوالے سے اب کسی بھی تعارف کا محتاج نہیں۔ محمد عبدہ جس جاں فشانی سے ان میدانوں میں اپنا تحقیقی کام جاری رکھے ہوئے ہیں، وہ قابل ستائش و لائق تحسین یے۔ آپ ان گنت تحقیقی کالمز کے مصنف ہیں جو کہ سوشل میڈیا و مختلف ویب سائٹس پر شائع ہوتے رہتے ہیں اور ان میں بیشتر کا موضوع صرف ”پاکستان‘‘ ہے۔ اس سے پہلے ان کا سفر نامہ ”خورد وپن پاس، پُر خطر راستوں کا سفر‘‘ پڑھ چکی ہوں اور اس کو پڑھنے کے بعد اپنے احساسات قلم بند کرنے کی اپنی سی سعی بھی کر چکی ہوں۔ زیرِ نظر کتاب نہیں بلکہ کہا جائے تو سیاحتی و کسی حد تک تاریخی طور پر ایک تحقیقی مقالہ ہے. ایک کتابِ رہنمائی ہے جو اک لفظ پاکستانی سیاحت کے گرد گھومتی ہے۔ پاکستان کے طول و وعرض میں کون سی ایسی جگہ نہیں جس کے بارے آپ اس کتاب میں نہیں پڑھیں گے۔ اس جگہ کی تاریخی حوالے سے اہمیت و دلچسپ حوالہ جات ایسے پیش کیے گئے ہیں کہ مطالعہ کرتے ہوئے بالکل بھی اکتاہٹ نہیں ہوتی۔ قاری جو اک سیاح بھی ہو یا سیاحتی روح رکھے، اس کے لیے یہ ایک بیش بہا خزانہ ہے۔ کتاب پڑھ کر تو ایسے ہی محسوس ہوتا ہے کہ ابھی اسی لمحے ”سیاحتِ پاکستان‘‘ کے لیے نکلا جائے۔ سیاحت کی تاریخ و اس حوالے سے دلچسپ معلومات سے بات شروع ہوتی ہے تو پھر پاکستان کے ساحل، میدان، پہاڑ، صحرا، کھانے، شہر، گاؤں بستیاں، جزیرے، چراگاہیں، وادیاں، چَوٹیاں، لوگ، الغرض کیا کچھ نہیں جو اس کتاب میں پڑھنے کو نہ ملے۔
پنجاب کی بات کی جائے تو پھر اس کے شہروں اور شہروں میں موجود جگہوں اور ان کے کھانوں کا ذکر کہ آپ کو ان سوغاتوں کو چکھنے کی چاہ ہونے لگتی ہے۔ قدیمی عمارتوں کی قدامت کی مختصر داستان و فی زمانہ ان کے گرد و نواح کی جدت کے حوالے بھی آپ کو اس کتاب میں ملیں گے.
بلوچستان کی چھپی خوب صورتیاں عیاں ہوں گی. سندھ دھرتی کے تاریخی و دلچسپ مقامات بارے وہ کچھ معلوم ہوگا جو عام طور پر ذہن میں نہیں آتا۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں گم ہوجانے کی چاہ ہونے لگے گی اور پھر گلگت بلتستان وادیوں کے سبزے سے آپ سر سبز ہوتے ہیں تو ان کے قرب و جوار کی برفیں و برفانی طویل راستے اپنی طرف بلاتے ہیں۔ شاہراہِ ریشم کے طلسم کو کھوجنے کی چاہ دل میں سر اٹھاتی یے۔
الغرض ایک عام کتاب دوست قاری کے لیے اور خصوصی طور پر ایک سیاحتی روح رکھنے والے کے کتب خانہ میں یہ کتاب ہونا لازم ہے۔ آپ ایک مہماتی سفر کرنے والے ہیں یا ایک سیدھے سادہ سیاحت کے دل دادہ ہیں، یہ کتاب ہر لحاظ سے آپ کی دوست بننے کی بہترین صلاحیت رکھتی ہے۔

آخر میں مَیں، مصنف کی شکرگزار ہوں کہ مجھے ان کی طرف سے پُر شفقت لفظوں کے ساتھ، آٹو گراف کاپی عنائیت کی گئی اور یہ بے شک ایک اعزاز کی بات ہے۔
سیاحتی و تحقیقی یہ کتاب 256 صفحات پر مشتمل ہے اور اسے فکشن ہاؤس، لاہور نے شائع کیا ہے.

پاکستان، تاریخی و ثقافتی جائزہ – سمیرا انجم” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں