خالد جمیل (بگ برادر) کی سوانح حیات ”تیسرا جنم‘‘ – سمیرا انجم

”تیسرا جنم‘‘ ڈاکٹر خالد جمیل کی آپ بیتی ہے. ان کی زندگی کے نشیب فراز، ان کی ہمت و حوصلے کی داستان کہ جب دوران میڈیکل تعلیم ان کے ایک بہت برے کار حادثہ میں ان کی ریڑھ کی ہڈی پر برا اثر پڑتا ہے. اور ایک طرح سے سب امیدیں ختم ہو جاتی ہیں لیکن کس ہمت کے ساتھ انہوں نے خود کو میڈیکل تعلیم کو جاری رکھنے کے لیۓ ابھارا. ایسے میں ان کے کچھ قریبی دوست کس طرح ان کے معاون ثابت ہوئے. ان کے والدین نے کس طرح ان کی ہمت بندھائی…
سوانح حیات کے ساتھ یہ ایک بہت زبردست کونسلینگ کی تصنیف بھی ہے جو کسی کو بھی مایوسی سے نکال کر زندگی کی دوڑ میں بھر پور انداز سے شامل ہونے پر اکساتی ہے. کسی بھی جسمانی معزوری کو پس پشت ڈال کر کوئی کس طرح جسمانی طور پر فٹ ہونے والے افراد کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے…
چند اقتباسات اس کتاب سے:

”دنیا کا ہر شخص اپنی حثیت کے مطابق تاج محل بناتا ہےـ کسی کا تاج محل دو مصروں میں سما جاتا ہےـ کسی کا تاج محل کتابوں پر محیط ہوتا ہےـ اگر محبت کے پیمانوں میں ان تمام تاج محلوں کو تولا جائے تو ان کا وزن ایک جتنا ہی ہوگاـ اصل میں محبت ایک احساس کا نام ہےـ محبت ہمیشہ کچھ لینے کو نہیں کچھ دینے کو کہتے ہیں. جو لوگ محبت میں توقعات لگاتے ہیں ان کی محبت میں شاید کوئی کمی ہوتی ہےـ‘‘

”جب دو انسانوں کے درمیان باہمی اعتماد اور خلوص کا رشتہ ہو تو وہ ایک ہی طرح سوچنا شروع کر دیتے ہیں. یہاں تک ہوتا ہے کہ ایک کی سوچ خود بخود دوسرے کے ذہن میں منتقل ہوجاتی ہےـ اصل میں یہ ٹیلی پیتھی کی ایک قسم ہےـ جب احساس کے رشتے قایٔم ہو جایٔیں تو ایک دوسرے کو اسی طرح کھیچتے ہیں اور متاثر کرتے ہیں.‘‘

”اصل میں ہم اپنی سوچوں کی عملی شکل ہوتے ہیں۔ ایک کہاوت ہے:
you are not what you think, but what you think you are.
اپنے بارے میں آپ جیسا خیال کرتے ہیں آپ ویسے ہی بن جاتے ہیں۔
دماغ میں جو خاکہ بنتا ہے انسانی جسم اسی پر عمل کرتا ہےـ اگر آپ بُری باتیں سوچیں گے تو خود بخود ویسا ہی عمل سامنے آئے گا‘‘

”جس شخص میں کچھ کرنے کی طلب نہ ہو وہ شخص مردہ ہوجاتا ہے اور جس قوم میں ایسے افراد کی بہتات ہو جائے وہ پوری قوم تباہ ہو جاتی ہے.‘‘

”انسان کے جینز سب سے کم coded ہوتے ہیں۔ جانور جتنے کم درجے کا ہو اس کے جینز اتنے ہی زیادہ coded ہوتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے جینز میں لکھا ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کیا کرنا ہے.‘‘

”خوفناک لڑایٔیاں ہمیشہ انا کے ہاتھوں مجبور ہو کر لڑی جاتی ہیں اور جو اکثر بے سود ہوتی ہیں۔ تحمل اور بردباری چھوٹی سی غلطی کو چھوٹے سے انداز میں وہیں ختم کر دیتی ہے، ورنہ پریشانیاں، بچے دینا شروع کر دیتی ہیں اور پریشانیوں کا یہ کنبہ اتنا بڑا ہوجاتا ہے کہ آپ کے سکون کو ختم کر سکتا ہے‘‘

”جنگ غرور کے خلاف لڑا کریں، بے انصافی اور ظلم سے متصادم ہُوا کریں.‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں