بادل جو نظر آئے، بدلی میری نیت بھی – ثاقب محمود بٹ

(تذکرہ بارش اور کتابوں کے عشق کا)

محکمہ موسمیات کی جانب سے کچھ روز قبل ہی بارش کی پیش گوئی کر دی گئی تھی۔ گو کہ کل بھی ہلکی پھُلکی بوندا باندی جاری رہی لیکن آج تو موسم جیسے کھُل گیا۔ بادل گرجے بھی خوب اور برسے بھی۔قتیل شفائی کے بقول:
دُور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

فوٹو: علی حمزہ

جیسا کہ پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ مجھے اس رومانوی موسم میں کتابیں یاد آتی ہیں تو سوچا کہ آج بھی کتابوں سے ملاقات کی جائے۔ ہمارے آفس کے قریب ہی ملک کے معروف اشاعتی ادارے ’’دوست پبلیکیشنز، اسلام آباد‘‘ کا مرکزی دفتر واقع ہے۔ سوچا کہ وہاں جایا جائے اور پسند کی کچھ کتابیں حاصل کی جائیں۔ اب مسئلہ وہی درپیش کہ کورونا کے باعث دفتروں کے اوقات کار کیا ہیں؟ آیا دفاتر میں کام بھی ہو رہا ہے یا چھٹیاں ہیں؟ اس مسئلہ کے مناسب حل کے لیے موبائل اٹھایا اور ’’دوست پبلیکیشنز، اسلام آباد‘‘ کے مینجر اختر محمود صاحب کا نمبر ڈائل کیا۔ آگے سے انتہائی شفیق آواز میں اختر صاحب نے بتایا کہ نہ صرف دفتر کھلا ہے بلکہ وہ خود بھی وہاں موجود ہیں اور کتابوں کے ساتھ ساتھ اُن سے بھی ملاقات ہو سکتی ہے۔
’’دوست پبلیکیشنز، اسلام آباد‘‘ کا شمار پاکستان کے اُن اشاعتی اداروں میں ہوتا ہے جو نہ صرف کم قیمت میں بلکہ بہت اہتمام سے کتابیں شائع کرتے ہیں۔ اس ادارے کی کتابوں کے ٹائیٹل ہمیشہ میرے دل کو بہت بھاتے ہیں۔ اس ادارے نے بہت سے متفرق موضوعات پر اُردو، پنجابی اور انگریزی زبانوں میں کتابیں شائع کی ہیں مثلاً ناول، ناولٹ، افسانے، مختلف زبانوں کے تراجم، سفرنامے، تحقیق و تنقید، حمدیہ و نعتیہ مجموعے، سنجیدہ و مزاحیہ شاعری، انٹرویوز، ڈائریاں، شخصی خاکے، ڈرامے، تاریخ، سیاسیات، طنز و مزاح، کالم، تلخیص، سوانح، تصوف، مضامین، خطوط، آپ بیتیاں، تذکرے اور ابلاغِ عامہ الغرض ہر موضوع پر کتابوں کی اچھی خاصی تعداد شائع کی جا چکی ہے۔ پاکستان کے جن مصنفین اور شعراء کی کتابیں اس ادارے نے بہت اہتمام سے شائع کی ہیں ان معتبر ناموں میں سید سلمان ندوی، کرنل محمد خان، سید ضمیر جعفری، ڈاکٹر محمود الرحمٰن، پرتو روہیلہ، امجد اسلام امجد، انور مسعود، احمد فراز، منیر نیازی، فہمیدہ ریاض، بشریٰ رحمٰن، منشا یاد، ڈاکٹر عالیہ امام، ایئر مارشل اصغر خان، ڈاکٹر انور سدید، ڈاکٹر مبارک علی، کشور ناہید، پروفیسر فتح محمد ملک، عقیل عباس جعفری، جلیل عالی، ڈاکٹر یونس جاوید، سرفراز شاہد، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، مسعود مفتی، ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، سجاول خان رانجھا، ثریا حفیظ الرحمٰن، بیرسٹر اعتزاز احسن، آغا ناصر، سلمیٰ اعوان، بریگیڈیئر محمد اسمٰعیل صدیقی، ڈاکٹر فاطمہ حسن، حمید قیصر، ڈاکٹر طاہر مسعود، گوہر ایوب خان، حسن عباس رضا، حامد میر، یاسر پیرزادہ، رؤف کلاسرہ، اعتبار ساجد، فرحت عباس شاہ، نورین طلعت عروبہ، فاروق عادل، جمیل یوسف، طارق محمود مرزا، ثروت محی الدین، شفقت تنویر مرزا، بریگیڈیئر صفدر علی شاہ، نیلوفر اقبال، سیما پیروز، کرنل مختار احمد گیلانی، ارشد چہال، شعیب خالق، مرزا حامد بیگ، اشرف شاد، انور زاہدی، ڈاکٹر انور نسیم، طاہرہ اقبال، ڈاکٹر اعجاز راہی، محمد الیاس، خالدہ حسن صاحبہ و دیگر شامل ہیں۔ یہاں ادیبوں کی اس قدر طویل فہرست اس لیے مضمون میں شامل کی گئی ہے کہ قارئین کرام کو اس ادارہ کی معتبریت، تجربہ، شہرت اور ساکھ کا اندازہ ہو سکے۔

خیر مختلف سوچوں میں گُم ’’دوست پبلیکیشنز، اسلام آباد‘‘ کے دفتر پہنچا تو چہرے سے ماسک ہٹا کر اختر محمود صاحب سے دعا سلام کیا۔ بہت دُکھ ہوا کہ اس عجیب وبا کی وجہ سے ہم سلام اور معانقہ سے بھی گئے۔
کیسا موسم ہے بے یقینی کا
فاصلے اِن دنوں شفا ٹھہرے
اختر صاحب سے گزشتہ ملاقات ’’نیشنل بُک فاؤنڈیشن، اسلام آباد‘‘ کے ’’کتاب میلہ‘‘ منعقدہ 2019ء میں ہوئی تھی۔ اس کا تذکرہ بھی ہوا اور اس سال یہ میلہ منعقد نہ ہونے پر ہم دونوں کی جانب سے افسوس کا اظہار بھی کیا گیا۔ اختر محمود صاحب حال احوال پوچھ بیٹھے تو میں نے ڈسپلے والی الماریوں کی طرف جانے کی اجازت طلب کی جو انہوں نے کمال شفقت اور مسکراہٹ کے ساتھ عنایت فرمائی۔ اب مرحلہ تھا اپنی پسند کی کتابیں جمع کرنے کا۔ سامنے کیا دیکھتا ہوں کہ نت نئے موضوعات پر بے شمار کتب کا انبار لگا ہے۔

ظاہرہے کتابوں کی اس بھیڑ میں اپنے ذوق کی کتب پسند کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے۔ کتابوں سے محبت کرنے والے احباب میری اس مشکل کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ کتابوں کی اکثریت ایسی بھی نظر آئی جو پہلے سے میرے کتب خانہ کی زینت بن چکی ہیں۔

بہر حال ہاتھ بڑھایا اور یہ جو پہلی کتاب ہاتھ لگی، جمیل یوسف صاحب کی آپ بیتی ہے ’’زندگی کی رہگزر پر‘‘
اس کتاب میں مصنف نے اپنی دفتری اور ادبی زندگی کے شب و روز کو بہت خوب صورت انداز میں بیان کیا ہے۔ جمیل یوسف صاحب ایک اچھے شاعر اور نثر نگار ہیں۔ آپ کے دو سفرنامےمیرے زیرِ مطالعہ رہے ہیں: ’’جل پری کے دیس میں‘‘ ڈنمارک کے سفرکی روداد ہے اور سفرنامہ حج ’’اے اللہ میں حاضر ہوں‘‘ کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔ یہ دونوں کتابیں بھی ’’دوست پبلیکیشنز، اسلام آباد‘‘ نے ہی شائع کی ہیں۔

علاوہ ازیں آپ کی دیگر بھی کئی تصنیفات شائع ہو چکی ہیں جن میں ’’خطوط بنام جمیل یوسف‘‘، ’’بابر سے ظفر تک‘‘، ’’سرسید احمد خان‘‘، ’’مسلمانوں کی تاریخ‘‘، ’’باتیں کچھ ادبی، کچھ بے ادبی کی‘‘ اور’’حفیظ جالندھری‘‘ شامل ہیں۔ ڈاکٹر خورشید رضوی کتاب ’’زندگی کی رہگزر پر‘‘ کے بارے لکھتے ہیں کہ: ’’جمیل صاحب کی شخصیت ایک شمشیرِ بے نیام ہے، دوٹوک اور واضح، وہ پاسبانِ عقل سے جب چاہیں رخصت لے سکتے ہیں۔ ان کی طبیعت کی اساس، جو اسلام پر پختہ ایمان اور پاکستان سے غیر مشروط محبت پر استوار ہے، عالمِ بے خودی میں بھی متزلزل نہیں ہوتی۔ یہ دونوں پہلو اور وطنِ عزیز کی تاریخ کے بعض نانوشتہ اوراق آپ کو اس آپ بیتی میں جابجا نظر آئیں گے۔ آپ اسے پڑھتے ہوئے زیرِ لب مسکرا بھی سکتے ہیں۔ بے اختیار قہقہہ بھی لگا سکتے ہیں۔ آبدیدہ بھی ہو سکتے ہیں اور سوچ میں بھی ڈوب سکتے ہیں۔‘‘ 2016ء میں شائع شدہ اس کتاب کی قیمت 650 روپے مقرر کی گئی ہے۔

دوسری کتاب جو میں نے اپنے ذخیرہ کے لیے اٹھائی، ڈاکٹر انور زاہدی کا ریاست ہائے متحدہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور دبئی کا سفرنامہ ہے ’’دنیا کہیں جسے‘‘ کے عنوان سے۔ ڈاکٹر انور زاہدی نے ابتدا آزاد شاعری سے کی، تراجم بھی کیے اور افسانہ نگاری و سفرنامہ نویسی میں معتبر مقام حاصل کیا۔ آپ میڈیکل ڈاکٹر بھی ہیں. آپ کی شاعری، افسانوں، تحقیق و تنقید اور تراجم پر مشتمل کئی کتب اب تک شائع ہو چکی ہیں. شاعری میں ”سنہرے دنوں کی شاعری‘‘ جب کہ فکشن میں ”عذابَ شہر پناہ‘‘، ”موسم جنگ کا، کہانی محبت کی‘‘، ”مندر والی گلی‘‘ جیسی کتب شامل ہیں. تراجم میں ”دریچوں میں ہوا‘‘ (جدید فارسی شاعری)، ”بارشوں کا موسم‘‘ (جرمن نژاد سویس ناول نگار ہرمن ہیسے کی سیاسی افکار)، ”یادیں‘‘ (چلی کے ادیب پابلو نرودا کی یادیں)، ”لاشعور تک رسائی، مناس‘‘ (کرغستان کی شاعری)، ”پسواء کی نظمیں‘‘ (فرناڈو پسواء کی شاعری) اور ”بازیافت‘‘ (دنیا کے دس بہتریں شعراء کی شاعری) شامل ہیں.

کتاب ’’دنیا کہیں جسے‘‘ میں جن چار ممالک کی سیاحت کا تذکرہ ہے، اُن کی آب و ہوا اور جغرافیائی حالات، اہم اور غیر اہم مقامات اور باشندوں کے کردار سبھی جزئیات سمیت شگفتہ انداز میں اور کہیں کہیں طنز کے نشتر بھی چلتے ہیں، جہاں نثر کی حدود سمٹنے پر مجبور کرتی ہیں، وہاں اشعار کا استعمال بھی مصنف کے بیان میں معاونت کرتا نظر آتاہے۔ انور زاہدی اپنے اس سفرنامہ کے بارے میں بتاتے ہیں: ’’سفرکے دوران ہر ہر قدم پہ اور ہر ہر مقام پر پاکستان اور اپنے ہم وطن یاد آئے۔ کہیں اپنی سادگی طبع کی باعث تو کہیں کم مائے گی اور کم علمی کی وجہ سے۔ جہاں کہیں کسی بھی بدیسی ملک میں سڑکیں، صاف ستھری نظر آئیں، ڈسٹ بِن میں جب بھی کسی بدیسی عورت، بچے یا مرد کو کوئی کاغذ، لفافہ یا پیکٹ ڈالتے دیکھا تو شدت سے ہم وطن یاد آئے، جو ملک کی سڑکوں کو اپنی استعمال شدہ اشیا پھینک کر گل و گلزار بنانے میں با کمال ہیں اور دل سے یہی ہوک اُٹھی کہ کاش ہمارے ہاں بھی ایسا ہی ہوتا، جہاں چائے یا کافی کی پیالی لینے کے لیے یا پھر ٹکٹ کے حصول کے لیے لوگوں کو ایک قطار میں کھڑے پایا تو اپنے ہم وطن یاد آئے۔ ٹرین سے اُترتے وقت یا سوار ہوتے ہوئے تو شدت سے یاد آئے کہ یہاں سوار ہونا تو کجا ٹرین کے مسافروں کو ٹرین سے کوئی اُترنے ہی نہیں دیتا۔ صفائی نصف ایمان ہے… اتحاد، ایمان اور تنظیم… من حیث القوم ہم ایسے اچھے مقولوں کو شیشے کے فریم میں سجا ہوا دیکھناپسند کرتے ہیں… اور کتاب سے ہماری دوستی نہیں۔‘‘

میری آج کی یہ تیسری کتاب ’’منیر نیازی کی باتیں، یادیں‘‘ کے عنوان سے ہے اور تنویر ظہور صاحب کی لکھی ہوئی ہے۔ اس کتاب کا سال اشاعت 2014ء ہے۔ اسلم کمال صاحب کے خوبصورت آرٹ سے مزین سرورق کی اپنی ہی شان ہوتی ہے۔ اسلم کمال صاحب ملک کے نامورادیب، شاعر، دانش ور، مصور، خطِ کمال کے موجد، تخلیقی خطاط، سفر نامہ نگار اور کالم نگار ہیں اور ایک خوب صورت شخصیت کے مالک ہیں۔

آپ نے فنِ مصوری کی مختلف جہتوں میں بے مثال کام کیا ہے۔ علامہ اقبالؒ اور فیضؔ کی شاعری کے حوالے سے ان کی مصورانہ خطاطی ایک اہم کام ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد کے ہال میں ساڑھے پانچ سو ادیبوں کے سکیچز تیار کر کےاسلم کمال نے ادب کے حوالے سے ایک بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے اورخاص بات یہ ہے کہ یہ سارا کام انھوں نے بغیر معاوضے کے کیا تھا۔ یہ بھی ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ ساڑھے پانچ سو ادیبوں، شاعروں کے سکیچز شاید ہی دنیا کی کسی اور بلڈنگ میں موجود ہوں۔
کتاب ’’منیر نیازی کی باتیں، یادیں‘‘ کے مصنف تنویر ظہور ایک درویش صفت انسان ہیں. آپ نہ صرف اُردو اور پنجابی کے شاعر ہیں بلکہ بہترین کالم نگار، سفر نامہ نویس اور تنقید نگار بھی ہیں۔ آپ 27 سال روزنامہ جنگ، لاہور سے منسلک رہے۔ تنویر ظہور کی تحریر کردہ دیگر کتب میں آپ کی خودنوشت ’’میرا عہد جو میں نے لمحہ لمحہ جیا‘‘، پہلا شعری مجموعہ ’’جیون پُل صراط‘‘، ’’جیون لنگھیا پار‘‘، اُردو مجموعہ کلام ’’آنکھ، حسن اور خوشبو‘‘، دو سفرنامے ’’جسے چاہا در پہ بلا لیا‘‘ اور’’یہ لندن ہے پیارے‘‘، مختلف ادیبوں کے انٹرویوز پر مبنی کتاب ’’دلچسپ ملاقاتیں‘‘، ’’ہوئے وہ ہم کلام‘‘، ’’وقت سے مکالمہ‘‘، ’’ویلے نال گلاں‘‘، ’’چونویاں پنجابی غزلاں‘‘، ’’فیض اور پنجابی‘‘ اور ’’وڈے لوک، وڈیاں گلاں‘‘ شامل ہیں۔

تنویر ظہور صاحب نے اپنی خود نوشت ’’میرا عہد جو میں نے لمحہ لمحہ جیا‘‘ میں اپنے عہد کی تاریخ، سماجی رویوں، مختلف شخصیات کی عادات و اطوار، ثقافت، ادبی، مذہبی ماحول اور رسم و رواج پر سادہ اور سلیس انداز میں لکھا ہے جو پڑھنے والوں کو متاثر کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
اپنی اس کتاب ’’منیر نیازی کی باتیں، یادیں‘‘ میں تنویر ظہوررقم طراز ہیں کہ: ’’تقریباً 27 سال روزنامہ جنگ، لاہور سے وابستہ رہا ہوں۔ اس دوران میں نے بعض اہم ادبی شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور اُن کی یادداشتیں ریکارڈ کر کے ’’جنگ‘‘ میں قسط وار شائع کیں۔ ان میں نامور شاعر منیر نیازی بھی شامل ہیں۔۔۔ میری خواہش تھی کہ یہ یادداشتیں کتابی شکل میں محفوظ ہو جائیں۔ یادداشتوں اور انٹرویو سے کتاب مکمل نہیں ہو سکتی تھی اس لیے میں نے منیرنیازی صاحب کے دوستوں سے مضامین لکھوائے۔‘‘
اس کتاب میں بیگم ناہید منیر نیازی، ڈاکٹر محمد اجمل نیازی، انتظار حسین، کشور ناہید، اسلم کمال، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، سعد اللہ شاہ، ڈاکٹر صغرا صدف، سائرہ غلام نبی و دیگر بے شمار اکابرین کے منیر نیازی صاحب پر لکھے گئے مضامین اور شاعری شاملِ اشاعت ہیں۔

اگلی کتاب پاکستان کے معروف شاعر بلکہ میرے پسندیدہ شاعر حسنؔ عباس رضا صاحب کی تحریرکردہ ہے، ’’میرے مہرباں، میرے چارہ گر‘‘ جو بنیادی طور پر مختلف شخصیات سے ملاقاتوں، یادوں اور باتوں کا مجموعہ ہے۔ پہلے حسنؔ عباس رضا کی ایک خوبصورت نظم، جس نے مجھے آپ کی شاعری کی طرف مائل کیا، قارئین کی نذرکرتا ہوں:
آنکھوں سے خواب دل سے تمنا تمام شُد
تم کیا گئے کہ شوقِ نظارہ تمام شُد
کل تیرے تشنگاں سے یہ کیا معجزہ ہوا
دریا پہ ہونٹ رکھے تو دریا تمام شُد
دنیا تو ایک برف کی سِل سے سوا نہ تھی
پہنچی دکھوں کی آنچ تو دُنیا تمام شُد
شہرِ دلِ تباہ میں پہنچوں تو کچھ کھُلے
کیا بچ گیا ہے راکھ میں اور کیا تمام شُد
عشاق پر یہ اب کے عجب وقت آ پڑا
مجنوں کے دل سے حسرتِ لیلیٰ تمام شُد
ہم شہر ِجاں میں آخری نغمہ سنا چلے
سمجھو کہ اب ہمارا تماشا تمام شُد
اک یادِ یار ہی تو پس انداز ہے حسنؔ
ورنہ وہ کارِ عشق تو کب کا تمام شُد

حسنؔ عباس رضا اُردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں شعر کہتے ہیں۔ آپ اسلام آباد میں ’’اکادمی ادبیات پاکستان‘‘ اور ’’پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس‘‘ میں اچھے عہدوں پر فائز رہے۔ دورانِ ملازمت حسنؔ عباس رضا نے اپنے ادبی میگزین ’’خیابان‘‘ کی اشاعت بھی جاری رکھی۔ آپ نے ٹی وی، ریڈیو اور سٹیج کے لیے متعدد ڈرامے، گیت اور سکرپٹ تحریر کیے، اور پی این سی اے کے زیر اہتمام منعقدہ ڈرامہ فیسٹیول میں ہونے والے ڈراموں کو کتابی شکل میں شائع کیا۔ آپ کے شعری مجموعوں میں ’’خواب عذاب ہوئے‘‘، ’’نیند مسافر‘‘، ’’تاوان‘‘، ’’دریا تمام شُد‘‘ اور ’’عشق بدوش‘‘ شامل ہیں۔ دیگر کتب جو آپ نے مرتب کیں ان میں ’’پاکستان کے بہترین افسانے‘‘، ’’ہندوستان کے بہترین افسانے‘‘، ’’فسادات کے افسانے‘‘، ’’سٹیج ڈرامے‘‘، ’’امریکہ میں مقیم شعراء کی غزلیں‘‘ اور ’’سراپا نگاری‘‘ شامل ہیں۔ حسنؔ عباس رضا کی کلیات ’’آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیے‘‘ زیرِ طبع ہے۔
کتاب ’’میرے مہرباں، میرے چارہ گر‘‘ 2019ء میں شائع ہوئی۔ اس بارے حسنؔ عباس رضا لکھتے ہیں کہ: ’’کئی برسوں پر محیط یادوں کو حافظے کی سکرین سے قرطاس پر منتقل کرنا کوئی آسان کام نہیں، کہ اس دوران میں وقت کے پُلوں تلے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ میرے بہت سے مہربان سینئرز اور دوست بزمِ یاراں سے اُٹھ کر پانچویں سمت کو جا چکے ہیں، بس اب تو ان کی باتیں اور یادیں ہی میرے کیسہ جاں میں رہ گئی ہیں اور یہی یادیں اور باتیں ہمہ دم میرے ہم رکاب رہتی ہیں۔۔۔ میں اس اعتبار سے بہت خوش نصیب ہوں کہ مجھے اپنے عہد کے نامور اور بہت بڑے ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کی صحبت میسر رہی ہے جن میں فیض احمد فیضؔ، ملکہ ترنم نور جہاں، احمد فراز، احمد ندیم قاسمی، گلزارؔ، امرتا پریتم، کشور ناہید، پروین شاکر اور احمد داؤد شامل ہیں۔ ان تمام مہربان اور سینئر دوستوں کے ساتھ میری یادوں، ملاقاتوں اور باتوں کا ایک گراں قدر ذخیرہ ہے۔۔۔ جو کچھ خزانے میں تھا، وہ سب آپ قارئین کی نذر کر رہا ہوں۔‘‘

کتاب کے مطالعہ سے ایک اور دلچسپ بات پتہ چلی کہ نامور گلوکارہ مُنی بیگم کی گائی گئی ایک مشہور اور خوبصورت غزل ’’آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیے‘‘ کے خالق بھی حسنؔ عباس رضا ہی ہیں۔ اسی حوالے سے آپ نے اپنا اور فرازؔ صاحب کا ایک دلچسپ واقعہ بھی لکھا ہے، کہ ’’میں شام کو مہدی صاحب اور ان کے سازندوں کو لے کر فرازؔ صاحب کے گھر گیا، وہاں مہدی حسن نے محفل جمائی اور اپنے کمالِ فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزلیں سنائیں۔ جب فرازؔ صاحب کی غزل ’’رنجش ہی سہی، دل ہی دکھانے کے لیے آ‘‘ سنائی تو اس میں ایک شعر انہوں نے گایا:
جیسے تمہیں آتے ہیں، نہ آنے کے بہانے
ایسے ہی کسی روز نہ جانے کے لیے آ
تو فرازؔ صاحب نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب، یہ میرا شعر نہیں، پلیز یہ نہ گایا کریں۔ خیر مہدی صاحب نے اُس وقت تو معذرت کی اور وہ شعر نہ سنایا، مگر بعد کی دوسری محفلوں میں وہ یہ شعر سناتے رہتے تھے۔ دراصل یہ شعر نقی باغ پتی کا ہے۔۔۔ اسی طرح کا ایک حادثہ میرے ساتھ بھی گزرا ہے۔ منی بیگم نے میری غزل گائی تھی:
آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیے
لیکن کبھی کبھار تو گھر جانا چاہیے
اس میں انہوں نے ایک شعر زبردستی ٹھوک دیا:
نادان جوانی کا زمانہ گزر گیا
اب آگیا بڑھا پا، سُدھر جانا چاہیے
میں نے مُنی بیگم سے دو تین بار کہا بھی کہ میری غزل میں یہ شعر میرا نہیں، نہ گایا کریں، تو ہر بار یہی کہتی ہیں، کوئی بات نہیں حسن صاحب، اکثر بزرگ، اس شعر کو بہت انجوائے کرتے ہیں۔‘‘
حسنؔ عباس رضا نے کتاب میں فرازؔ کے جس شعر کا ذکر کیا ہے، وہ دراصل کنور لطافت علی خاں طالبؔ باغ پتی کا ہے، جن کا شمار نامور شعراء اور بہترین نثر نگاروں میں ہوتا ہے۔ آپ 27 نومبر 1903ء کو باغپت، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ آپ کی شاعری کی کتاب ’’شاخِ نبات‘‘ کے عنوان سے 1937ء میں شائع ہوئی۔ مذکورہ بالا شعر اصل میں یوں ہے:
جیسے تجھے آتے ہیں نہ آنے کے بہانے
ایسے ہی بہانے سے نہ جانے کے لیے آ
طالبؔ باغ پتی کی اس غزل کے تیسرے چوتھے اور پانچویں شعر کو مہدی حسن صاحب نے گاتے ہوئے احمد فرازؔ کی غزل میں شامل کر لیا ۔آل انڈیا ریڈیو سے یہ اشعار سن کر طالبؔ باغپتی نے اپنے دوست برنی صاحب کو ایک خط لکھ کے بتایا کہ یہ ان کے اشعار ہیں جو 1943ء میں رسالہ عالمگیر اور خیام میں شائع ہو چکے ہیں۔
حسنؔ عباس رضا نے اِس کتاب کا انتساب ’’دوست پبلیکیشنز، اسلام آباد‘‘ کے چیف ایگزیکٹو جناب آصف محمود کے نام کیا ہے۔ مجھے بذاتِ خود بھی آصف صاحب سے ملنے کا کافی اشتیاق ہے اور متعدد بار آفس جانے کے باوجود کبھی اُن سے ملاقات نہ ہو سکی، زندگی رہی تو ضرور ملاقات ہو ہی جائے گی۔

آگے بڑھتے ہیں کتاب ’’رات کی دھوپ‘‘ کی جانب جو ثروت محی الدین کا سفرنامہ سویڈن ہے۔ ثروت محی الدین کا شمار اُردو اور پنجابی کی بہترین شاعرات میں ہوتا ہے۔

آپ کی پنجابی شاعری کی شائع شدہ کتابوں میں’’کنیاں‘‘، ’’سیک سنہرے‘‘، ”گیت حیاتی ہوئے“ جو ہنگری کے مشہور شاعر پٹوفی (Sándor Petőfi) کے کلام کا منظوم پنجابی ترجمہ ہے، شامل ہیں. علاوہ ازیں ’’دو پھول کھلے ماہیا‘‘ کے نام سے اُردو ماہیے کی ایک کتاب شائع ہو چکی ہے. خوبصورت موسم کی مناسب سے ثروت محی الدین کی اِسی کتاب سے انتخاب:
موسم بھی سہانا ہے
چھوٹے گا کیسے
یہ ساتھ پرانا ہے
—————
کالی یہ گھٹائیں ہیں
یادیں بھُولی ہوئی
پھر لوٹ کے آئی ہیں
—————
مانگوں یہ دعا ماہیا
ساون رُت میں تُو
ملنے کو آ ماہیا
ثروت محی الدین نے چھوٹے بچوں کے لیے اُردو میں کتاب ”پانی کی کہانی‘‘ بھی لکھی ہے۔ آپ ایک عمدہ مصورہ، ترجمہ کار اور نثر نگار بھی ہیں۔ ’’رات کی دھوپ‘‘ ثروت محی الدین کی نثر کی پہلی کتاب ہے اور اکیس ابواب پر مشتمل ہے۔ اس میں مصنفہ کے سفر کے دوران کھینچی گئی تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں۔ ضابطہ میں کتاب کا موسمِ اشاعت 2009ء درج ہے تاہم مصنفہ نے پہلی بار سویڈن کا سفر 1967ء میں کیا تھا۔ ممتاز افسانہ نگار منشا یاد مرحوم نے بہت سال پہلے اس سفر نامہ کی اِن الفاظ میں تعریف کی تھی:
’’ثروت نے سویڈن کی ایسی جامع اور ہر لحاظ سے مکمل تصویرکشی کی ہے کہ زندگی اورمعاشرت کے ہر پہلو کی عکاسی ہوگئی ہے۔ قدرتی منظروں، پہاڑوں، جھیلوں، درختوں، پھولوں ،خوشبوؤں اور سردی، گرمی، پت جھڑ اور برف باری کے موسموں کے ذکر سے تو یہ کتاب بھری پڑی ہے۔ بلکہ کہنا چاہیے کہ اس کتاب کا موضوع ہی دھوپ اور موسموں کا تغیروتبدل اور سویڈن کی قدرتی خوب صورتیاں ہے۔ لیکن اس کتاب میں قاری کی دلچسپی اور معلوماتِ عامہ کی بہت سی ضروری چیزیں بھی ہیں۔ جیسے سویڈن کاجغرافیہ، تاریخ، محلِ وقوع، سیکنڈے نیویا کے ممالک میں اس کی حیثیت اور اہمیت، زراعت کے طریقے، سمر ہاؤسس اور سمرفارمز، موسمی ہنکاؤ اور مویشیوں کی فارمنگ، سویڈن کے لوک گیت، لوگوں میں موسیقی کا ذوق، مختلف تہوار منانے کے انداز، موسیقی کی محفلیں اور کنسرٹس اور اہم موسیقاروں، مصوروں اور آرٹسٹس کی تفصیل، گھروں کو موم بتیوں اور روشنیوں سے سجانا وغیرہ۔۔۔ ایک اور خوش کن خوبی مجھے اس سفرنامے اور ثروت میں یہ نظر آئی کہ وہ جس نئی یا اہم چیز کو دیکھتی ہیں اس کی پوری ماہیت اور تاریخ جاننے اور بتانے کی کوشش کرتی ہیں جس سے نہ صرف یہ سفر نامہ پڑھنے والوں کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کی ریڈایبلٹی میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ ثروت محی الدین کا یہ سفرنامہ ایک ایسی دستاویز ہے جونہ صرف عام قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی تسکین کرے گی بلکہ سویڈن کے معاشرے اور تہذیب و ثقافت کو سمجھنے اور پاکستان اور سویڈن کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب آنے میں مدد دے گی۔ خوب صورت اسلوب میں لکھے ہوئے اس سفرنامہ کی اشاعت پر میں مصنفہ کومبارک باد پیش کرتا ہوں۔‘‘
ثروت محی الدین مختلف تعلیمی اداروں کے ساتھ بطور معلمہ وابستہ رہی ہیں اور کئی ادبی و سماجی تنظیموں کےذریعے خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ آج کے کورونائی حالات کے تناظر میں محترمہ کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے:
کس ڈھنگ سے آئی ہے
رُت اب کے بہاراں کی
ہر اَور دیکھائی دے
دیوار سی زنداں کی

لیجیے یہ آخری کتاب بھی ایک سفرنامہ ہے۔ آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ آج کے مجموعہ کتب میں بھی زیادہ تعداد سفرناموں کی ہے، تو جناب اس ضمن میں عرض یہ ہے کہ ادب کی یہ صنف میری پسندیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میرے کتب خانہ میں کوئی چار سو کے قریب صرف سفر نامے ہیں۔ بہرحال آتے ہیں آج کی اس آخری کتاب کی طرف، یہ نامور ادیبہ سلمیٰ اعوان صاحبہ کے سفرِ اٹلی کی روداد ہے جو ’’اٹلی ہے دیکھنے کی چیز‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔

سلمیٰ اعوان کا شمار بھی پاکستان کی صفِ اول کی خواتین لکھاریوں میں ہوتا ہے۔ آپ بیک وقت ناول نگار، افسانہ نویس اور سفر نامہ نگار ہیں۔ سلمیٰ اعوان صاحبہ اخبارات میں مستقل کالم لکھتی ہیں اور اب تک ان کے بے شمار افسانوی مجموعے، ناول اور سفرنامےبھی شائع ہو چکے ہیں ۔ ناولوں میں ’’تنہا‘‘ (مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی داستان)، ’’لہو رنگ فلسطین‘‘، ’’ گھروندہ ریت کا‘‘، دو سماجی اور رومانی ناول ’’زرغُونا‘‘ اور ’’شیبہ‘‘، افسانوی مجموعے ’’بیچ بچولن‘‘، ’’کہانیاں دُنیا کی‘‘، ’’خوابوں کے رنگ‘‘، ’’برف میں دھنسی عورت کچھ کہتی ہے‘‘، ’’ذرا سنو تو فسانہ میرا‘‘، اہم بین الاقوامی مسائل کے پس منظر میں لکھی گئی کہانیوں کا انگریزی ترجمہ “The Sky Remaind Silent”،

سفرناموں میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے سفر نامے: ’’یہ میرا بلتستان‘‘ (ناول مع سفرنامہ)، ’’میرا گلگت وہنزہ‘‘، ’’سُندر چترال‘‘، بیرونی ممالک کے سفر ناموں میں ’’مصر میرا خواب‘‘، ’’روس کی ایک جھلک‘‘، ’’عراق اشک بار ہیں ہم‘‘، ’’استنبول کہ عالم میں منتخب‘‘، ’’سیلون کے ساحل، ہند کے میدان‘‘، ’’شام۔ امن سے جنگ تک‘‘ جب کہ دیگر کتب میں ’’باتیں دل اور دنیا کی‘‘ اور ’’عالمی ادب کی فروزاں قندیلیں‘‘ شامل ہیں۔

ایک دلچسپ بات کہ 1965ء کی جنگ کے پسِ منظر میں محترمہ سلمیٰ اعوان کا ایک ناول ’’ثاقب‘‘ کے عنوان سے بھی شائع ہو چکا ہے اور میرے کتب خانہ میں موجود ہے۔ میری خواہش ہے کہ اپنے نام والے اس ناول پر مصنفہ کے دستخط مع ڈھیر ساری دعائیں لوں.
سفر نامہ ’’اٹلی ہے دیکھنے کی چیز‘‘ شائع تو 2017ء میں ہوا لیکن آج کے کورونائی تناظر میں، اٹلی سے متعلقہ یہ کتاب میرے لیے خاصی دلچسپی کا باعث تھی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ چین سے باہر اٹلی ہی یورپ کا پہلا ملک ہے جہاں کورونا کی وبا نے قدم جمائے اور خوب تباہی پھیلائی۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت اٹلی دنیا بھر میں کورونا کیسز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ گو کہ اب وہاں وائرس کی منتقلی اور کیسز کی تعداد میں حوصلہ افز کمی ہو رہی ہے اوراس کمی کی بڑی وجہ سخت قسم کا لاک ڈاؤن ہی ہے جس میں ہر طرح کے کاروبار کو بند کردیا گیا، غیر ضروری نقل و حمل روک دی گئی۔ یوں وائرس کے پھیلاؤ کی شرح میں کمی آئی اور اس کا حجم سکڑنے لگا۔ ماہرین کے مطابق اٹلی کی حکومت نے شروع میں سست ردِعمل کا اظہار کیا مگر پھر بہت جارحانہ قسم کی پالیسی اختیار کی اور اٹلی میں یورپی یونین کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ٹیسٹ کیے گئے۔ خیر یہ مسائل صرف اٹلی کے ساتھ نہیں، پوری دنیا اس خطرناک وبا کی بھرپور زد میں ہے سو واپس آتے ہیں اپنی کتاب کی طرف۔
سفر نامہ ’’اٹلی ہے دیکھنے کی چیز‘‘ کے بارے میں مصنفہ سلمیٰ اعوان لکھتی ہیں: ’’اٹلی کا سفر کہہ لیجیے سوغات تھی، عنایت تھی۔ یہ بھی کہہ سکتی ہوں کہ دانا پانی نصیب کیا گیا تھا۔ قدموں نے اُس دھرتی پر پاؤں دھرنے تھے۔ گو روم اور وینس اوائل عمری کے عشق تھے۔ وہاں جانے کے لیے شوق کی بھی بے حد فراوانی تھی۔ میلان، وینس، روم، پیسا، لوکا، جھیل کومو اور پومپیئی کو کس محبت سے دیکھا، بتا ہی نہیں سکتی۔‘‘
مصنفہ نے اپنے دیگر سفرناموں کی طرح یہ سفر نامہ بھی بہت عمدہ انداز میں تحریر کیا ہے۔
میں یہ تمام کتابیں لے کر باہر نکلا تو ہر سمت جل تھل اور کیا سہانا منظر کہ بیان بھی نہ کیا جا سکے۔ شباب للت کے بقول:
دُور تک پھیلا ہوا پانی ہی پانی ہر طرف
اب کے بادل نے بہت کی مہربانی ہر طرف
اور جس وقت یہ مضمون لکھنے بیٹھا ہوں تو باہر سے ابھی بھی کس قدر تیز بارش کی آواز آ رہی ہے۔ میں کتابوں کے ساتھ ان سوچوں میں بھی گُم ہوں کہ بارش میں کتابوں کا عشق کیوں اس قدر زور پکڑ لیتا ہے؟
جنابِ حسرتؔ موہانی کے اس شعر پر اختتام کہ:
برسات کے آتے ہی توبہ نہ رہی باقی
بادل جو نظر آئے بدلی میری نیت بھی

اپنا تبصرہ بھیجیں