نصف صدی بعد لائبریری کو کتاب واپس کرنے پر خاتون کا نام گنیز بک میں درج

ہم اکثر سنتے اور دیکھتے آئے ہیں کہ کسی کو کتاب مستعار دینا بے وقوفی ہے اور مستعار لی ہوئی کتاب واپس کرنا اس سے بڑھ کر بڑی حماقت ہے۔ معاشرہ ایسے افراد سے بھرا پڑا ہے جو اس عمل پر کار فرما ہیں. یہ سچ ہے کہ کتابیں پڑھنے کے لینے والے شوقین کتب واپس لوٹانے میں نہایت سُست واقع ہوتے ہیں۔ نہ جانے لوگوں کو کیوں کتابیں واپس کرنا ایک عذاب لگتا ہے اور پھر کتاب لائبریری کی ہو تو صارف یا قاری اسے واپس کرنے میں بہت ہی ہچکچاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں. ایسا ہی واقعہ امریکی ریاست الینوائے (Illinois) میں بھی پیش آیا جہاں ایک خاتون نے نصف صدی بعد لائبریری سے لی گئی کتاب واپس کی.

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست الینوائے (Illinois) میں ایک خاتون ایملی کینی لوس سمز (Emily Canellos-Simms) نے اپنی گھر میں بچوں کی نظموں پر مشتمل کتاب Days and Deeds دیکھی جس پر کیوانی پبلک لائبریری (Kewanee Public Library) کی مہر ثبت تھی اور تاریخ اجرا 19 اپریل 1955ء درج تھی۔ اس کتاب کو ایملی کی والدہ نے 2 سینٹ فی دن کے حساب سے لائبریری سے حاصل کیا تھا. نصف صدی بعد جب کتاب واپس کی گئی تو 347 ڈالر کا جرمانہ بھی ادا کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی کتاب کو تاخیر سے لوٹانے پر کیا جانے والا یہ اب تک کا سب سے زیادہ جرمانہ ہے. کتاب واپسی پر سب سے زیادہ جرمانہ ادا کرنے پر اس خاتون کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز (Guinness Book of World Records) میں شامل کر لیا گیا ہے۔
لائبریری کو تاخیر سے کتاب لوٹانے کا اعزاز امریکا کے پہلے صدر جارج واشنگٹن (George Washington) کے پاس ہے جنہوں نے 1790ء میں
’’The Law of Nations‘‘ نامی کتاب نیویارک سوسائٹی لائبریری (The New York Society Library) سے صدر بننے کے بعد حاصل کی تھی لیکن واپس نہیں کی تھی۔

امریکا کے پہلے صدر جارج واشنگٹن کے انتقال کے بعد ان کے زیر استعمال عمارت اور اشیاء کو تاریخی ورثہ قرار دے دیا گیا اور اس کا نظم و نسق سنبھالنے والے ادارے نے ان اشیاء میں سے یہ کتاب 221 سال بعد نیویارک لائبریری کو واپس کی تھی۔

اس ریکارڈ کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کی ویب سائٹ پر دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں.

اپنا تبصرہ بھیجیں