بھاری گھاؤ – رضا علی عابدی

آصف فرخی اپنی خوبیوں سے حیران کرتے تھے
ہر بار ان کو مصروف دیکھ کر ہم کہا کرتے تھے: جیتے رہیں
ان سے کتنے معاملے طے ہوئے تھے
مگر ہمارے درمیان سے یوں اُٹھ جانا تو طے نہیں‌ہوا تھا
دل دکھانا آصف کو آتا ہی نہیں تھا
پھر یہ کیا ہوا کہ اتنے ادبی اور علمی میلے سجاتے سجاتے
علم و ادب کی دنیا کو سنسان کر گئے
وہ کتنے کام کر رہے تھے
انہوں نے گزر جانے میں کتنی جلدی دکھائی
خسارے تو ہم نے بہت اُٹھائے
پر اس بار دل پر بھاری گھاؤ لگا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں