بچوں کے مقبول ادیب، مقبول جہانگیر – احمد عدنان طارق

میں اپنی اکٹھی کی ہوئی بچوں کی کتابوں سے روز دس کتابوں کے سرورق اور تھوڑی بہت معلومات اپنے فیس بک کے دوستوں کے ساتھ تبادلہ کیا کرتا تھا. آہستہ آہستہ میری عمر کے نوجوانوں (ادھیڑ عمروں) نے میری یہ پوسٹیں پسند کرنا شروع کر دیں. یہ وہ دوست تھے جنہوں نے بچپن میں یہ کتابیں یا ناول پڑھ رکھے تھے. بہت سالوں بعد جب انہوں نے اپنے بچپن کی یادوں کو مجسم بنتے دیکھا تو بہت خوش ہوئے. میرا ان سے تعارف ہوا تو یہ جان کر اتنی خوشی ہوئی کہ ہماری صرف یہی دلچسپی نہیں ملتی تھی بلکہ تقریباً ساری دلچسپیوں میں ابھی تک یکسانیت تھی. یوں لگتا تھا جیسے ہم رہے تو پاکستان کے مختلف حصوں میں اور پڑھے بڑھے بھی مختلف ماحول میں لیکن جیسے احمد رشدی سب کو پسند ہے، اسی طرح بچپن میں ٹکٹ جمع کرنا، سکے جمع کرنا، تعلیم و تربیت، نونہال پڑھنا اور پھر فیروز سنز اور شیخ غلام اینڈ سنز کے بچوں کے ناول پڑھنا سب کے مشترکہ مشغلے تھے. مختصراً جب 1978ء میں میرے ناول چھوٹے تو وجہ عارضی تھی اور وہ تھی میٹرک کے امتحان اور پھر یہ وجہ مستقل ہو گئی کیوں کہ میری والدہ جو تاندلیانوالہ ہائی سکول میں ہیڈ مسٹریس تھیں، اچانک وفات پا گئیں اور ہمیں تاندلیانوالہ چھوڑنا پڑا. میں اپنی بہنوں سمیت دھدیال میں فیصل آباد آگیا اور فرسٹ ایئر میں گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں ایف ایس سی کرنے لگا. میرا بچپن تاندلیانوالہ ہی میں رہ گیا. میرے ناول وہیں کھو گئے. میں ساتویں سے دسویں تک تعلیم وتر بیت میں لکھتا تھا، وہ سب ختم ہو گیا. میں ایک رات میں بچے سے جوان ہو گیا. 2010ء میں پولیس کے محکمے میں بطور انسپکٹر، ایس ایچ او فیصل آباد کے ایک تھانے میں تعیناتی کے دوران میری ٹانگ مہروں کے مسئلہ کی وجہ سے سن ہو گئی تو تکلیف کی شدت میں اللہ میاں اور رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد مجھے ماں یاد آئی تو بچپن یاد آیا. بچپن کے ناول یاد آئے تو کیوں‌کہ اور تو میں کچھ کر ہی نہیں سکتا تھا لہذا ان ناولز کی تلاش میں نکلا اور کس کس جتن سے یہ ایک ایک کتاب اکٹھی کی وہ ایک علیحدہ قصہ ہے. لائبریریاں ختم ہو چکی تھیں. بچوں کا ادب زبوں حالی کا شکار تھا. ادیب لکھ بھی رہے تھے اور منہ سے کہہ رہے تھے کہ اب بچے کتابوں میں دلچسپی نہیں لیتے، تو کئی دفعہ میرا دل کیا کہ پوچھوں کہ پھر آپ کس منہ سے لکھ رہے ہیں جب بچوں کو مزے کی کہانیاں نہیں دے سکتے. انہیں دوبارہ راغب نہیں کر سکتے تو بھائی آپ بھی کوئی اور کام کر لیں. میں نے نئے سرے سے آج کے بچوں کے ادب سے خود کو ہم آہنگ کرنے کے لیے وہیں سے تعلیم وتربیت اور نونہال پڑھنا شروع کیا جہاں سے چھوڑا تھا. پھر لکھنا شروع کیا اور تعلیم وتربیت میں چھتیس سال کے بعد میری پہلی کہانی ”بگڑا ہوا بندر‘‘ شائع ہوئی جو ماخوذ تھی. اس سفر میں مجھے فاروق احمد صاحب ملے جن کے پاس بچوں کی یہ ساری کتابیں موجود تھیں. تب تک میں بھی خاصی کتابیں اکٹھی کر چکا تھا لہٰذا کتابوں پہ بات ہوتے ہوئے محسوس کیا کہ شائد ہم بھائی ہیں اور کہیں کنبھ کے میلے میں کھو گئے تھے اور اب اتنے سالوں بعد ملاقات ہوئی ہے. راشد اشرف صاحب سے بات چیت ہوئی ان کے پاس بھی یہ بیش قیمت خزانہ موجود تھا اور انہوں نے بچوں کی یہ ہر دل عزیز کتابیں پی ڈی ایف پر بھی کھول کر رکھ دی تھیں. ابھی معراج سعادت صاحب سے ملاقات ہوئی اور انہیں بھی مل کر وہی محسوس کیا جو فاروق صاحب سے مل کر کیا تھا. فاروق صاحب آج کل خود پبلشر بھی تھے اور اشتیاق احمد مرحوم کے بہت نزدیک تھے. معراج صاحب پیشہ کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں. پھر بہت ہی عظیم شخصیت ادب میں بہت بڑا نام محترم قیسی رامپوری صاحب کے نواسے عادل حسن صاحب سے گپ شپ ہوئی اور انہی کے کہنے پر کراچی سے ساجد کمال شمسی صاحب سے راہ ورسم استوار ہوئے اور ظاہر ہے وجہ وہی تھی، یہ دونوں اصحاب بھی بچپن کے یہ ناولز آج بھی ساتھ لیے پھرتے تھے. مجھے کہیں محسوس ہوا کہ جیسے پاپ سنگر کے گانے میں بھی نکھار آ پاتا ہے جب اس نے کلاسیکی موسیقی کے سبق حاصل کیے ہوں.

اسی طرح ہمارے آج کے ادیبوں کا ادبی سفر شروع ہی نوے کی دہائی سے ہوتا ہے جب ڈاکٹر افتخار کھوکھر نے تن تنہا ان ادیبوں کی تربیت کا آغاز کیا لیکن مجال ہے کہ کسی ادیب نے تب بھی پیچھے مڑ کر ان اساتذہ کا مطالعہ کیا ہو جن کا دور بچوں کے ادب کا سنہری دور کہلاتا تھا. دیکھنا چاہئیے تھا، پرکھنا چاہئیے تھا کہ وہ کیا کرتے تھے، کیا لکھتے تھے جس کی وجہ سے اس دور کے بچے اپنی ادھیڑ عمری میں بھی اُن کو یاد کرتے ہیں، دعا کرتے ہیں کہ کاش وہ دور واپس آ جائے. اعجاز احمد نواب صاحب کے کہنے پر آج سے میں بچوں کے انہی ادیبوں میں سے کسی ایک ادیب کو ہر ہفتے ایک شردھانجلی، ایک خراج تحسین کے طور پران کا کام زیر قلم لایا کروں گا. ان کی کتابوں کے سرورق آپ کے سامنے ہوں گے اور اسی طرح سے بچوں کے ادب کا یہ سلسلہ قسط وار چلتا رہے گا اور ہم اپنے بزرگوں کو یاد کیا کریں گے. ڈاکٹر معراج سعادت صاحب اور دوسرے دوستوں سے ہر دم مشورہ چلتا رہے گا. ابھی میں نے ذکر کیا میری ماخوذ کہانی بگڑا ہوا بندر کا، تو میں نے مناسب سمجھا کہ میں اس پہلی قسط میں بچوں کے اس ادیب کا ذکر کروں جو اپنے دور میں بچوں کےادب کا بے تاج بادشاہ تھا.

اگر پاکستان میں غیر ملکی بچوں کے ادب کے ترجمے کی بات ہو تو یقیناً مقبول جہانگیر صاحب ادیبوں میں سر فہرست ہوں گے۔ وہ قلم کے مزدور تھے۔ میں نے ان کے بارے میں صرف پڑھ رکھا ہے۔ وہ اٹھتے بیٹھتے لکھتے تھے کیوں کہ یہ ان کی روٹی روزی تھی. وہ بیمار بھی بہت رہے لیکن مرتے دم تک لکھتے رہے. بہت تھوڑی عمر پائی. وہ فیروز سنز کے زیرِ اہتمام بچوں کے لیے لکھتے تھے تو انہی سے وفادار تھے. اُردو ڈائجسٹ میں گئے تو وہیں کے ہو کر رہ گئے. آئیے اب اُن کے کام پر نظر دوڑاتے ہیں.

پاکستان میں بچوں کے لیے جو ایک داستان، جس کے دس حصے تھے سب سے زیادہ بِکی اور آج تک بِک رہی ہے، وہ ہے داستان امیر حمزہ. اس کی تلخیص بچوں کے لیے فیروز سنز کی طرف سے مقبول جہانگیر صاحب نے کی تھی. دس حصوں کے نام تھے: ”بادشاہ کا خواب‘‘، ”پراسرار جزیرہ‘‘، ”نوشیرواں کی بیٹی‘‘، ”امیر حمزہ میدان جنگ میں‘‘، ”امیر حمزہ کوہ قاف میں‘‘، ”شداد جادوگر‘‘، ”شہزادہ شہر یار‘‘، ”عیاروں کی حکومت‘‘، ”جادو کا شہر‘‘ اور ”آخری مہم‘‘۔
داستان امیر حمزہ بڑی لمبی داستان ہے لیکن مقبول جہانگیر صاحب نے بچوں کی دلچسپی کے لیے اسے مختصر کرتے ہوئے صرف ایران کے شہنشاہ نوشیرواں تک محدود رکھا اور امیر حمزہ کے قریبی ساتھی عمرو عیار کی صورت میں ایسا کردار بچوں کو نئے رنگ سے تخلیق کر کے دیا کہ بچے اس کے سحر میں جیسے کھو گئے. حتٰی کہ فیروز سنز کو اختر رضوی صاحب سے طلسم ہوش ربا کی تلخیص بچوں کے لیے کروانی پڑی. جس میں عمرو عیار کا مرکزی کردار تھا. ہم جیسے بچے جب دل کرتا ایسے ناولز کو چھوڑ کر دوبارہ عمرو عیار اور امیر حمزہ کی وجہ سے داستان امیر حمزہ پڑھنا شروع کر دیتے. داستان امیر حمزہ کے چھپنے کا سلسلہ فیروز سنز نے نہیں روکا حالاں کہ باقی ناول چھاپنے چھوڑ دیئے اور ہم نے بھی پڑھنے کا سلسلہ منقطع نہیں کیا. صرف اِسی داستان کی تلخیص کے بل بوتے پر مقبول جہانگیر صاحب مرنے کے بعد بھی زندہ رہ سکتے تھے لیکن یہ تو ان کے کام کی معمولی سی جھلک تھی. نظر زیدی صاحب نے شیخ غلام علی اینڈ سنز کے لیے دوبارہ داستان امیر حمزہ لکھی لیکن بچوں نے اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی. ابھی دو سال پہلے ڈاکٹر انعام الحق جاوید صاحب نے مجھ سے یہ داستان دوبارہ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے لیے لکھوائی ہے. دیکھیں اس کا کیا بنتا ہے. ظاھر ہے وہ مقبول جہانگیر صاحب کے آگے سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگی۔ مقبول جہانگیر کو جتنی مہارت ترجمے میں تھی اتنا ہی وہ شوق سے شکار کی کہانیاں لکھا کرتے تھے.

فیروز سنز میں ان کی شکار کے موضوع پر پہلی کتاب ”افریقہ کے جنگلوں میں‘‘ بچوں کے لیے تھی. شکار کے مو ضوع پر پڑھنے کے بعد بچوں کو یوں لگا جیسے وہ افریقہ میں زنجبار اور ٹانگا نیکا کے انتہائی گرم موسم میں وہ خود شکاری ہیں اور ہاتھیوں سے لے کر جنگلی بھینسوں تک کا شکار کر رہے ہیں. وہ مچان پر رات بھر جاگ رہے ہیں اور دور کہیں اندھیرے میں شیر یا چیتے کی آنکھیں چمک رہی ہیں. لم کارٹر ولیم لن جان بپو کے کردار بچوں کو زبانی یاد ہو گئے. یہ مقبول جہانگیر صاحب کا ہی خاصہ تھا کہ شکاری کہانیوں کو بچوں میں متعارف کروانے کے بعد پسندیدگی کی سند لینے میں کامیاب ہو گئے. اس موضوع پر انہوں نے بچوں کے لیے پھر ”شکار کی کہانیاں‘‘ لکھیں. اس میں مختلف جانوروں کے شکار پر بارہ کہانیاں تھیں. اپنے والد کے ایک دوست جو ایک بوڑھے شکاری ہیں اور ان کا نام کرنل شمشاد ہوتا ہے وہ ساری دنیا میں اپنے کیے ہوئے شکار کی کہانیاں سناتے ہیں اور بچے رغبت سے سنتے ہیں. ”ہوگرالی کا آدم خور‘‘ دو حصوں پر مشتمل تھی. مقبول جہانگیر دیباچے میں لکھتے ہیں: ”ہوگرالی کا آدم خور شکار کی ایسی ہی بے. مثال لرزہ خیز اور سچی مہموں پر مشتمل ہے. واقعات اتنے ہوش ربا اور حیرت انگیز ہیں کہ جا بجا دل کی حرکت رکنے لگتی ہے. آئیے شہروں کے ہنگامہ ہاؤ ہو سے نکل کر دم بھر کو جنگل کی دنیا میں چلیں اور دیکھیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے‘‘

اس کے پہلے حصے میں پانچ کہانیاں ہیں جن میں ”ایک درندہ، ایک انسان‘‘ جیسی کہانی شامل ہے اور دوسرے حصے میں چار کہانیاں ہیں جن میں سرورق کی کہانی ”ہوگرالی کا آدم خور‘‘ کے علاوہ ”سدارام اور شیر‘‘ جیسی کہانیاں شامل ہیں. فیروزسنز کی طرف سے یہ چند کتابوں میں سے ہیں جو ابھی تک چھپ رہی ہیں ”مانچی کے خون آشام درندے‘‘ نامی کتاب پرواز پبلشرز کی طرف سے چھپی تھی اور ایسے شیروں کی داستان تھی جو دن دیہاڑے عورتوں اور بچوں کو اٹھا کر لے جاتے تھے. کوئی انہیں بھوت سمجھتا تو کوئی شیطان. مشہور زمانہ کینتھ اینڈرسن ان کا خاتمہ کیسے کرتا ہے، مقبول جہانگیر صاحب کی تحریر نے اس میں رنگ بھر دیے ہیں. وال کلمر (Val Kilmer) کی فلم ”گھوسٹ اینڈ ڈارک نیس‘‘ (The Ghost and the Darkness) ایسے ہی شیروں کی کہانی تھی جسے ہم نے1995ء میں پردہ سکرین پر دیکھا. پر یہ مناظر بہت سال پہلے مقبول جہانگیر کا قلم ہمیں دکھا چکا تھا.

پرواز پبلیکیشنز کی طرف سے اُن کی دوسری کتاب بھی جانوروں پر تھی جو سائز میں بہت چھوٹے تھے اور خواتین کے علاوہ عام زندگی میں ان سے کوئی نہیں ڈرتا اور یہ جانور تھے چوھے، لیکن یہ عام چوھے نہیں تھے بلکہ آدم خور چوھے تھے جو اس کہانی میں انتہائی خوفناک ہو گئے تھے. اس کتاب کے پہلے ہی باب کا نام ”پہلا انسانی ڈھانچہ‘‘ تھا. مقبول جہانگیر دیباچے میں برام سٹوکر (Bram Stoker)، ایڈگر ایلن پو (Edgar Allan Poe) اورمیری شیلے (Mary Shelley) جیسے ادیبوں کا ذکر کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ کس طرح پوری دنیا میں ان کی کہانیاں مشہور ہو رہی ہیں. برام سٹوکر ڈریکولا (Dracula) کردار کے موجد ہیں. اس سے اندازہ کر لیں کہ ان کا مطالعہ کتنا عمیق تھا اور وہ خانہ پُری کے لیے نہیں لکھتے تھے. اس کہانی میں ایک سنکی بوڑھا تھا جس نے ایمزون کے جنگلات گھومے ہوئے تھے اور انتہائی خونخوار چوھے پال رکھے تھے وہ چوھے کس حد تک خون خوار ہو جاتے ہیں، یہ کہانی پڑھنے سے تعلق رکھتی ھے. اسی ادارے سے ان کی ایک اور کتاب شائع ہوئی جس میں ایک ڈاکو جس کا نام بھوپت ہوتا ہے اور اس کا تعلق راجھستان سے ہے، کے کارناموں پر مشتمل ہے. بھوپت کا ایک ساتھی جس کا نام کالو وانک ھے، وہ بھوپت کی داستان کا راوی ہے. بھوپت کا تعلق ایک راجپوت گھرانے سے ہوتا ہے جس پر ظلم اور ناانصافی کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں تو وہ ڈاکو بن جاتا ہے اور ظالموں کو لُوٹ کر مظلوموں کی امداد کرتا ہے اور کہانی کے آخر میں پناہ کے لیے وہ پاکستان آ جاتا ہے. انتہائی مزے کی داستان جو مقبول جہانگیر کی قلم سے نکلی اور شاہکار بن گئی. شاہکار لفظ لکھا تو بے اختیار مجھے فیروز سنز کی کہانیوں کی کتاب ”شاہکار کہانیاں‘‘ یاد آگئی. اس کتاب میں چودہ کہانیاں تھیں جو احمد ندیم قاسمی، صوفی تبسم سے لے کر سعید لخت صاحب اور شوکت تھانوی صاحب نے لکھی تھیں. اس فہرست میں آخری کہانی مقبول جہانگیر صاحب کی ”پہلا انعام‘‘ تھی جو ایک ایسے بچے کی کہانی تھی جو سکول کے ایک مشاعرے میں نقل شدہ نظم پڑھتا ھے اور بد قسمتی سے یہ نظم اسی شاعر کی ہوتی ہے جو اس مشاعرے کے جج ہوتے ہیں. یہ کہانی پڑھ کر میرا خیال ہے کہ ایسے بچے جو کہانیاں نقل کرتے ہیں، انہوں نے یہ حرکت فوراً چھوڑ دی ہو گی. ایسی کتاب جس میں ایسے اساتذہ کی کہانیاں ہوں گی، خود سوچیں کہ اس وقت اس کتاب نے کیا تہلکہ مچایا ہوگا.

مقبول جہانگیر صاحب نے مشہور انگریزی کردار اور جاسوس شرلاک ہومز (Sherlock Holmes) کا بھی ترجمہ کیا تھا. فیروز سنز کی طرف سے سر آرتھر کونن ڈائل (Sir Arthur Conan Doyle) کے کردار شرلاک ہومز کے تین کارناموں پر مشتمل کتاب ”کالا ہیرا‘‘ مقبول جہانگیر صاحب نے بچوں کو دی. 1۔ ”کالا ھیرا‘‘، 2۔ ”شرلاک ہومز کا بھائی‘‘ اور 3۔ ”امتحانی پرچہ‘‘ تین کہانیوں کے نام تھے اور اس طرح مقبول جہانگیر صاحب نے شرلاک ہومز کو پاکستانی بچوں سے روشناس کروایا. سر آرتھر کونن ڈائل سے پاکستانی بچے پہلے ہی ان کے ناول ”Tales of Twilight and the Unseen‘‘ کی وجہ سے واقف تھے، جسے سعید احمد اسعد نے ”ان دیکھی دنیا‘‘ کے نام سے اُردو میں ڈھالا تھا اور اس میں دنیا سے ڈائنو سارز کے ختم ہونے کی کہانی تھی. شرلاک ہومز کے کارناموں پر مشتمل تین کتابیں ”کبڑا مداری‘‘، ”ہیرے کی تلاش‘‘ اور ”ناچتی تصویریں‘‘ تھیں جنہیں سن رائز پبلیکیشنز نے چھاپا اور ان کا ترجمہ کیا. مقبول جہانگیر صاحب نے ”کبڑا مداری‘‘ اور ”چور کون‘‘ جیسی کہانیاں بچوں کو پڑھنے کے لیے دیں. مقبول جہانگیر کا ارادہ شرلاک ہومز کی تمام چھپن کہانیوں کو ترجمہ کرنے کا تھا لیکن وہ چند کا ترجمہ کر سکے. انہوں نے فیروز سنز کے لیے دوسری جنگ عظیم کی ایک سچی کہانی کو بچوں کے لیے ناول کی صورت میں لکھا جس کا نام ”وہ فرار ہو گئے‘‘ تھا. یہ ایک انگریز فوجی سپاھی کی آپ بیتی ہے جو دوسری جنگ عظیم میں فرانس کے محاذ جنگ پر جرمنوں کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا تھا. اس قیدی نے اپنے دو اور ساتھی قیدیوں سمیت فرار ہونے کا منصوبہ بنایا اس کے بعد ان پر کیا آفتیں ٹوٹتی ہیں، یہی کہانی کا موضوع ہے اور اسے مقبول جہانگیر نے کیسے نبھایا ہوگا ہم سب بخوبی جانتے ہیں. یہ انتہائی جان جوکھوں کی مہم ہے. فیروز سنز کی انتظامیہ کو شکار کے بارے میں مقبول جہانگیر کی دلچسپی کا بخوبی علم تھا اس لیے جب ولرڈ پرائس (Willard Price) کے جنگل ایڈونچر کے چھ ناولز ترجمہ ہوئے تو یہ ممکن نہیں تھا کہ مقبول جہانگیر دوسروں سے پیچھے رہتے لہٰذا ”خونی بستی‘‘ کا ظہور مقبول جہانگیر کے قلم سے ہوا.

ولرڈ پرائس کے ناول کا نام تھا ”Lion Adventure‘‘، یہ صولت مرزا نامی شکاری کے شیروں کے شکار پر مبنی کتاب تھی جس میں ان کے دو بیٹےعدنان اور کامران ان کی مدد کرتے ہیں. وہ کینیا کے جنگلوں کا رخ کرتے ہیں اور وہاں عام لوگوں کی جان آدم خور شیروں سے بچاتے ہیں. مقبول جہانگیر کو خوفناک کہانیاں لکھنے میں ملکہ حاصل تھا اس لیے فیروز سنز نے ان کی خوفناک کہانیوں پر مشتمل دو کتابیں چھاپیں جن کا نام بھی ”خوفناک کہانیاں‘‘ تھا، حصہ اول اور حصہ دوئم. حصہ اول سات کہانیوں پر مشتمل تھا جن کو گائی پریسٹن، روز میری ٹمپرلی، بریم سٹوکر، ویدر ہارٹ، جیمز براؤن، لنگ لان ہوور نے لکھا اور بہترین ترجمہ کر کے مقبول جہانگیر صاحب نے انہیں پاکستانی قارئین تک پہنچایا. اسی طرح دوسرے حصے میں شرلے ٹمپل اور موپساں جیسے ادیبوں کی 9 کہانیاں تھیں اور ان کا معیار پہلے حصے کی کہانیوں سے کسی صورت کم نہیں تھا. یہ کتابیں آج بھی فیروز سنز چھاپ رہا ہے اور یہ روز اول کی طرح، مصنف کے نام کی طرح مقبول ہیں.

70 کی دہائی میں انگریزی میں بچوں کی ”The Three Investigators‘‘ سیریز کے 13 ناولز کا اُردو میں فیروز سنز نے ترجمہ کروایا اور ان میں سے تین ناولز کا ترجمہ مقبول جہانگیر صاحب نے کیا جن کے نام تھے: ”تین ننھے سراغرساں، بھوت محل میں‘‘، ”تیں ننھے سراغرساں اور بولتی ممی‘‘ اور ”تین ننھے سراغرساں سنہری طوطے کی تلاش میں‘‘
یقین کریں آج میں یہ معلومات لکھ رہا ہوں تو حیران ہو رہا ہوں کہ کیا یہ کتابیں واقعی ترجمہ تھیں کیوں کہ بچپن میں کبھی یہ احساس ہی نہیں ہوا۔ اتنا اچھا ترجمہ ہوا کرتا تھا کہ عنبر عاقب اور نسیم ہمیشہ اپنے آس پاس کے کردار لگتے تھے اور ہم ان ناولز کو بار بار پڑھا کرتے تھے. ڈاکٹر نکولا ایک اور کردار تھا جسے فرانسیسی ناول نگار گائی بوبتھی نے لکھا اور مقبول جہانگیر صاحب نے اسے دو حصوں ”ڈاکٹر نکولا‘‘ اور ”ڈاکٹر نکولا کی واپسی‘‘ میں ترجمہ کیا. یہ اس زمانے کی داستان ہے جب چین میں بادشاہت قائم تھی اور چینی لوگوں کو افیون کھانے اور آپس میں لڑنے جھگڑنے کے علاوہ کوئی کام نہیں تھا. ان دونوں حصوں کو سن رائز پبلیکیشنز نےچھاپا تھا.

میں نے بچوں کے بہت سے ناول پڑھے لیکن ڈاکٹر نکولا پڑھتے وقت بہت مزاآیا. یوں لگا جیسے میں رائیڈر ہیگرڈ (H. Rider Haggard) کے ناول شی (She: A History of Adventure) کا مردانہ انداز پڑھ رہا ہوں. پرواز پبلیکیشنزکی طرف فرانس کے گرامی چور آرسین لوپین (Arsène Lupin) کے کارناموں کا ترجمہ مقبول جہانگیر صاحب نے ”آرسین لوپن کی واپسی‘‘ اور ”آرسین لوپن جیل میں‘‘ کے نام سے کیا. پیرس کی پولیس اس چور کو پکڑنے میں مکمل ناکام نظر آتی ہے اور وہ انہیں پیرس کی گلیوں میں ناکوں چنے چبواتا ہے.

یہ کردار نک ویلوٹ (Nick Velvet) سے مماثلت رکھتا تھا جس کی کہانیاں شائد جاسوسی ڈائجسٹ میں چھپتی تھیں. ”فرعون کا مجسمہ‘‘ مقبول جہانگیر صاحب کے ایک اور ناول کا نام ہے جو فیروز سنز کی طرف سے چھپا تھا. شاداب نگر کے عجائب گھر سے فرعون کا ایک نادر مجسمہ پراسرار طور پر غائب ہو جاتا ہے. چور کون تھے اور وہ کیسے پکڑے گئے، انتہائی مزیدار ناول پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے. اسی طرح ”تاریک جنگل اور لڑکا‘‘ فیروز سنز کی طرف سے ایک اور ناول تھا جسے مقبول جہانگیر صاحب نے لکھا. ایک نڈر اور بہادر لڑکا اپنے بوڑھے مالی کے ساتھ جنگل میں شکار کھیلنے جاتا ہے اور خونخوار درندوں کے چنگل میں پھنس جاتا ہے. یہ بھی بہت مزے کا ناول تھا. دونوں ناولز کے سرورق نہایت دیدہ زیب تھے. فیروز سنز نے مختلف ملکوں کی کہانیوں کے تراجم کروئے تو دوسرے ادیبوں کے ساتھ مقبول جہانگیر صاحب نے بھی عربی اور ایرانی کہانیوں کا ترجمہ کیا. عربی کہانیوں کے مجموعے کا نام ”ایک گونگا، تین بہرے‘‘ تھا اور ایرانی کہانیوں کا مجموعہ تھا ”سوداگر کی بیٹی‘‘ یہ دونوں کتابیں بہت شوق سے پڑھی گئیں. ”سوداگر کی بیٹی‘‘ میں سات کہانیاں تھیں جن میں ”زین العرب کا خزانہ‘‘ اور ”شاھی نجومی‘‘ بہت مزے کی کہانیاں تھیں. ”ایک گونگا، تین بہرے‘‘ میں ”عجیب وصیت‘‘ اور ”ایک گونگا، تین بہرے‘‘ بہت شان دار کہانیاں تھیں. مقبول جہانگیر صاحب کی ”سنہری گھنٹی اور خلائی انڈے‘‘ اور ”کیمپ نمبر 3 سے فرار‘‘ بھی بھت زبردست کتابیں تھیں۔ فیروز سنز کے علاوہ بے شمار اداروں کی طرف سے انہوں نے بڑوں کے لیے بھی بے تحاشہ لکھا جس کا احاطہ یہاں نہیں ہو سکتا. اللہ ان کو جنت میں جگہ دے، آمین. آپ کو بچوں کے ادب میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا.

(نوٹ: یہ مضمون لکھنے میں احمد عدنان طارق کی معاونت معراج سعادت نے کی ہے.)

بچوں کے مقبول ادیب، مقبول جہانگیر – احمد عدنان طارق” ایک تبصرہ

  1. AHMED ADNAN TARIQ NAY BARAY BARPOOR TARIQAY SAY MAQBOOL JAHANGIR SAHAB PER MAZMOOM LEKHA. OR BOHAT ZAYADAH MALOMAT SAY NAWAZA . PARH KAR DIL KHUSH HOWA OR SAT MAN NOVELS KI TASVERAN OR KITABOON KAY SARWAQ NAY ES KAY HOSUN MAN AZAFAH KAR DEYA. SHZNDAR.LA JAWAB.

    MEHBOOB ELAHI MAKHMOOR.

اپنا تبصرہ بھیجیں