کتابوں کی دنیا – احمد عدنان طارق

موسیٰ آج کا دن اپنے چچیرے بھائی کے ساتھ گزارنے کے لیے اس کے گھر آیا تھا. وہ دوڑتا ہوا گھر میں داخل ہوا اور سیدھا سیف کی کھلونوں والی الماری کے پاس گیا. اس نے سیف سے پوچھا: ”کیا کوئی نیا کھلونا خریدا ہے؟‘‘
سیف بولا: ”نہیں، لیکن میرے پاس کہانیوں کی ایک نئی کتاب ہے. میں نے وہ آدھی پڑھ بھی لی ہے. پہلی کہانی ہی بہت مزے کی ہے.‘‘
موسیٰ نے پوچھا: ”کیا میں اسے پڑھ سکتا ہوں؟‘‘ یہ پوچھ کر اس نے کتابوں کی الماری سے کتاب نکال لی.
سیف نے کہا: ”میں ذرا امی جان سے پوچھنے جا رہا ہوں کہ انڈوں سے بھری ٹوکری خالہ حمنہ کے گھر دے کر آنی ہے اور ان سے کچھ دُھلی ہوئی جرابیں اور رومال لے کر آنے ہیں یا نہیں؟‘‘
یہ کہہ کر وہ امی جان کے پاس چلا گیا اور موسیٰ وہیں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور کتاب پڑھنے لگا. پہلی کہانی سرکس سے متعلق تھی اور بہت ہی مزے کی تھی. موسیٰ کہانی پڑھتے ہوئے دل ہی دل میں دعا بھی مانگ رہا تھا کہ اسے سیف کے ساتھ اس کی خالہ کے گھر نہ جانا پڑے. سیف کوئی پندرہ منٹ کے بعد واپس آیا. اس نے موسیٰ سے پوچھا: ”کیا تم تیار ہو؟ ارے تم ابھی ساری کتاب نہیں پڑھ سکتے. آؤ چلیں موسیٰ! ہمیں جلدی چلنا چاہیے.‘‘
موسیٰ نے پوچھا: ”کیا میں یہ کتاب ساتھ لے کر جا سکتا ہوں؟‘‘
”ہر گز نہیں! تم سڑک پر چلتے ہوئے تو کتاب نہیں پڑھ سکتے.‘‘
موسیٰ بولا: ”نہیں نہیں، قطعی نہیں. جب تم خالہ سے باتیں کرو گے تو میں وہاں بیٹھ کر کتاب پڑھتا رہوں گا. تمہیں پتا ہی ہے کہ خالہ کتنی باتیں کرتی ہیں. کم از کم وہ آدھ گھنٹہ تو تم سے باتیں کریں گی. اتنی دیر میں مَیں ان کے گھر کے باغیچے میں بیٹھ کر کتاب ختم کر لوں گا.‘‘
سیف بولا: ”بھائی اگر مجھے آدھ گھنٹا بات کرنی بھی پڑی تو تم بھی اندر آ جانا اور ان سے گپ شپ لگانا. سچی بات تو یہ ہے کہ میں اپنی کتاب کو گھر سے باہر نہیں لے کر جانا چاہتا. بادل چھائے ہوئے ہیں، ہو سکتا ہے کہ راستے میں بارش ہو اور یہ بھیگ جائے. یہ میری پسندیدہ کتابوں میں سے ایک ہے.‘‘
موسیٰ افسوس سے بولا: ”ٹھیک ہے، ٹھیک ہے.‘‘
پھر اس نے کتاب واپس الماری میں رکھ دی اور سیف کے پیچھے پیچھے گھر سے نکل آیا. وہ غصے میں تھا لیکن ابھی وہ گھر سے نکلے ہی تھے کہ وہ اچانک رکا اور کہنے لگا: ”ذرا ایک منٹ ٹھہرنا. میرا رومال کمرے میں رہ گیا ہے، میں اسے اٹھا لاؤں.‘‘
سیف بولا: ”لے آؤ، لیکن پہلے تو تم رومال کا اتنا خیال نہیں کرتے تھے.‘‘ سیف حیران ہوا پھر موسیٰ کے آنے کا انتظار کرنے لگا.
درحقیقت موسیٰ رومال لینے نہیں گیا تھا، وہ تو اس کی جیب میں موجود تھا. اصل میں وہ کہانیوں کی کتاب لینے کے لیے گیا تھا. اس نے کتاب کو اٹھا کر کمر میں سویٹر کے نیچے اُڑس لیا، تا کہ سیف کتاب کو دیکھ نہ سکے. پھر وہ سیف کے پاس چلا گیا لیکن اس نے کتاب کے بارے میں ایک لفظ بھی سیف کو نہیں‌ بتایا. پھر وہ دونوں راستے پر ہو لیے. راستے میں ایک چھوٹی سے دیوار آئی جسے کود کر وہ دوسری طرف کھیتوں کی جانب اترے. دیوار کے کودنے کی وجہ سے کتاب موسیٰ کے سویٹر سے نکل کر گرنے لگی لیکن اس نے کمر کی طرف ایک ہاتھ موڑ کر اسے پکڑ لیا. پھر اس کا ایک ہاتھ مسلسل کمر پر ہی رہا تا کہ کتاب سویٹر سے نہ نکل آئے. سیف کو شبہ ہوا. وہ حیران تھا. اس نے پوچھا:
”تم نے ایک ہاتھ مستقل طور پر کمر پر کیوں رکھا ہوا ہے؟ کیا تمہاری کمر میں درد ہو رہا ہے؟‘‘
موسیٰ کا رنگ سرخ ہو گیا. وہ بولا: ”نہیں.‘‘
سیف نے پوچھا: ”تو پھر کیا مسئلہ ہے؟‘‘
موسیٰ بولا: ”کچھ بھی تو نہیں.‘‘
لیکن بے اختیار اس کا ہاتھ کمر پر گیا کیوں کہ کتاب پھر گرنے لگی تھی. سیف نے زبردستی موسیٰ کا منہ پرے پھیرا تو اسے سویٹر کے نیچے اُڑسی ہوئی چیز نظر آ گئی. اس نے ناراضگی سے پوچھا:
”موسیٰ یہ کیا ہے؟‘‘ اور پھر سیف نے ناں ناں کرتے موسیٰ کی کمر سے کتاب کھینچ لی اور پھر موسیٰ کو گھورتے ہوئے بولا:
”تم اتنے جھوٹے بھی ہو سکتے ہو؟ تم میری کتاب گھر سے باہر لے آئے ہو. تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے. آج سارا دن میں تم سے بات نہیں کروں گا. اب تم نے ہی یہ کتاب اٹھانی ہے کیوں کہ میرے ہاتھ میں انڈوں سے بھری ٹوکری ہے، لیکن اگر تم نے اسے گرایا یا خراب کیا تو میں تم سے بہت ناراض ہو جاؤں گا.‘‘
موسیٰ نے منہ سے ایک لفظ نہیں نکالا. وہ بہت شرمندہ تھا لیکن وہ کچھ کچھ ناراض بھی تھا. وہ سوچ رہا تھا کہ جب اس نے سیف سے کتاب لانے کی اجازت طلب کر ہی لی تھی تو اسے اجازت دے دینے چاہیے تھی. ایسا ہوتا تو وہ بھی ایسی حرکت کرنے پر مجبور نہ ہوتا. اس کے ذہن میں اس وقت ایسی ہی باتیں تھیں. بہرکیف دونوں لڑکے چلتے رہے. موسیٰ نے سیف سے بات کرنا بھی چاہی تو سیف اس سے نہیں بولا. پھر خالہ حمنہ کا گھر آ گیا تو سیف نے زبردستی موسیٰ کو اندر دھکیلا. وہ نہیں چاہتا تھا کہ موسیٰ باہر باغیچے میں بیٹھ کر کتاب پڑھتا رہے.
خالہ حمنہ نے انڈے لے لیے اور ٹوکری میں دھلے ہوئے رومال اور جرابیں رکھ دیں. پھر وہ بولتی بھی رہیں اور لڑکوں کی تواضح بھی کرتی رہیں. انہوں نے موسیٰ کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتاب کو دیکھا تو بولیں: ”موسیٰ کیا یہ تمہاری ہے اور تم اسے خرید کر لائے ہو؟‘‘
سیف بولا: ”نہیں یہ میری کتاب ہے.‘‘ لیکن اس نے خالہ کو باقی کوئی بات نہیں بتائی.
خالہ نے انہیں بتایا: ”اگر تم اپنے خالو کے کھیتوں کی طرف سے ہو کر جاؤ گے تو تمہیں بیریوں کے درختوں پر لگے ہوئے پکے اور میٹھے بیر میل جائیں گے. میں تمہیں ایک اور ٹوکری دیتی ہوں، تم ٹوکری میں بھر کر گھر بھی لے جانا.‘‘
انہوں نے خالہ کا شکریہ ادا کیا اور وہاں سے روانہ ہو گئے. سیف کو راستہ معلوم تھا اور خالہ کا کہنا بھی بالکل صحیح تھا. وہاں پکے ہوئے بیر ہی بیر تھے. سیف بولا: ”میں نے اتنے بیر پہلے کبھی اکٹھے نہیں دیکھے. میں اپنی ٹوکری نیچے رکھ کر دوسری خالی ٹوکری میں بیر بھر لیتا ہوں اور گھر جا کر ہم انہیں خوب مزے سے کھائیں گے.‘‘ بات کرتے ہوئے وہ موسیٰ سے ناراضگی بھول چکا تھا.
ان کا وقت بہت اچھا گزرا. انہوں نے بیروں سے ٹوکری بھر لی. پھر انہیں اچانک احساس ہوا کہ انہیں گھر پہنچنا چاہیے، کیوں کہ خاصی دیر ہو گئی ہے.
گھر پہنچ کر سیف نے موسیٰ سے پوچھا: ”میری کتاب کدھر ہے؟‘‘ تو موسیٰ پریشان ہو گیا. اس نے اِدھر اُدھر دیکھنا شروع کر دیا. ان کے ہاتھوں میں ٹوکریوں سے سوا کچھ نہیں تھا. موسیٰ بہت پریشان تھا. وہ بولا: ”میں بھولے سے کتاب کو کہیں رکھ آیا ہوں.‘‘
سیف سختی سے بولا: ”کہاں؟‘‘
موسیٰ نے جواب دیا: ”میں نے بیر چنتے ہوئے اسے زمین پر رکھا تھا. سیف میں بہت شرمندہ ہوں. میں کتاب وہیں بھول آیا ہوں.‘‘
سیف بولا: ”اور اب شاید بارش شروع ہو جائے. ہو سکتا ہے کوئی گائے اسے پیروں کے نیچے کچل دے. ہو سکتا ہے کوئی راہ گیر اسے اٹھا کر لے جائے اور میں نے تو ابھی اس کتاب کو پڑھا تک نہیں.‘‘
موسیٰ آہستہ سے بولا: ”میں شرمندہ ہوں. میں حیران ہوں کہ میں بھول کیسے گیا. میں ابھی جاتا ہوں اسے اٹھا کر لے آتا ہوں.‘‘ وہ دوڑتا ہوا کھیتوں کی جانب گیا اور پھر واپس آ گیا. وہ کھانے پر بھی دیر سے پہنچا. واپس آیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے. اس نے بتایا: ”کتاب نہیں ملی. کوئی اسے اٹھا کر لے گیا ہے، میں آج شام کو بازار سے تمہیں نئی کتاب خرید کر لا دوں گا. میرے پاس پیسے ہیں.‘‘
پھر وہ شام کو بازار گیا لیکن دکان پر اسے وہ کتاب نہیں ملی. اس جیسی سب کتابیں بِک چکی تھیں. دکان دار نے اسے کہا:
”ذرا یہ کتاب دیکھو، بالکل نئی آئی ہے اور اس کی قیمت بھی تمہاری مطلوبہ کتاب جتنی ہی ہے.‘‘
موسیٰ بولا: ”تو ٹھیک ہے میں یہی کتاب لے لیتا ہوں، امید ہے سیف مایوس نہیں‌ ہو گا.‘‘
کتاب لے کر وہ گھر پہنچا تو سیف اسے دروازے میں ہی مل گیا. اس نے بتایا: ”سیف مجھے وہ کتاب تو نہیں ملی لیکن میں نے تمہارے لیے دوسری کتاب خریدی ہے، امید ہے تم برا نہیں مناؤ گے.‘‘
سیف نے کتاب پکڑی اور خوشی سے بولا: ”یہی کتاب تو مجھے چاہیے تھی. شکریہ موسیٰ بھائی! مجھے افسوس ہے میں سارا دن تم سے ناراض رہا لیکن اب میں تم سے ناراض نہیں‌ ہوں. میں تھوڑی دیر بعد اس کو پڑھوں گا.‘‘
موسیٰ دوبارہ سیف کی کتابوں کی طرف گیا تا کہ خود بھی کوئی کتاب پڑھے لیکن اس نے ساری کتابیں پہلے ہی پڑھ رکھی تھیں. اس نے دل میں کہا: ”کاش وہ کتاب گم نہ ہوتی.‘‘
پھر اچانک کوئی باہر دروازے پر آیا. امی نے سیف کو آواز دی کہ ”باہر دیکھے دروازے پر کون آیا ہے؟‘‘ سیف دروازے پر گیا تو کوئی شخص کھڑا تھا جسے سیف نہیں جانتا تھا. اس نے پوچھا: ”کیا تم سیف زاہد ہو؟‘‘
سیف نے حیرانی سے ہاں میں سر ہلایا تو اس شخص نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ٹوکری سے ایک کتاب نکال کر اسے دی. یہ وہی گم ہونے والی کتاب تھی. وہ بولا: ”یہ تو میری ہے، یہ آپ کو کہاں سے ملی؟‘‘
وہ شخص بولا: ”ادھر کھیتوں میں پڑی تھی.‘‘
سیف نے پوچھا: ”اور آپ کو میرے نام اور پتے کا کیسے معلوم ہوا؟‘‘
وہ شخص بولا: ”کیوں کہ تم نے ذہانت سے کام لیتے ہوئے یہ دونوں چیزیں کتاب پر لکھ دی تھیں. تمہیں ڈھونڈنا مشکل نہیں تھا، اچھا خدا حافظ‘‘
سیف نے خوشی سے شکریہ ادا کیا اور پھر زور زور سے موسیٰ کو پکارنے لگا کہ ”دیکھو گم شدہ کتاب مل گئی ہے. اب ہم دونوں کے پاس پڑھنے کے لیے اپنی اپنی کتاب ہے. اچھی بات ہے ناں!‘‘
موسیٰ کو بھی بہت خوشی ہوئی، اس نے پوچھا: ”کیا تم مجھے اب کتاب پڑھنے دو گے ناں؟ کیوں کہ میری لاپروائی سے یہ گم ہوئی تھی.‘‘
سیف بولا: ”کیوں نہیں، ہم کتابیں بدل کر پڑھیں گے. یہ نہ بھولو اب ہمارے پاس ایک کے بجائے دو کتابیں ہیں.‘‘
امی نے محسوس کیا کہ گھر میں بہت خاموشی ہے. انہوں نے سیف کے کمرے میں جھانک کر دیکھا تو بے اختیار مسکرا دیں اور زیرِ لب بولیں: ”کتابی کیڑے! لیکن کتنے اچھے ہیں وہ بچے جو کتابیں پڑھنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں.‘‘
واقعی کتاب پڑھنا بہت اچھی عادت ہے. مجھے تو بہت شوق ہے اور مجھے یقین ہے کہ آپ بھی کتابیں بہت شوق سے پڑھتے ہوں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں