ہند سرکار کی جڑوں میں فارسی – رضا علی عابدی

ہندوستان سے ایک اور دل دکھانے والی خبر آئی ہے۔ ہند سرکار نے اپنی جو نئی تعلیمی پالیسی جاری کی ہے، اس میں ملک کی مادری زبانوں کی فہرست سے اُردو کا نام نکال دیا گیا ہے۔ خیال ہوا کہ شاید ہمارے سمجھنے میں کوئی بھول ہوئی ہو، کئی بار غور سے پڑھا، ہر بار یہی لکھا دیکھا کہ سنسکرت جیسی بے جان، قدیم، فرسودہ اور بے مقصد زبان کو مادری زبانوں میں شامل کر دیا گیا ہے۔ پھر ہم نے یہ بھی پڑھا کہ ماہرین تعلیم نے سرکار کے اس رویے پر شدید تنقید کی ہے اور پر زور مطالبہ کیا ہے کہ اُردو کو اس کا جائز مقام دیا جائے۔ اب عقل یہ تصور کرنے سے قاصر ہے کہ پورے ہندوستان میں کوئی گھرانہ ایسا بھی ہوگا جہاں ماں اپنے بچوں سے سنسکرت میں کہتی ہو گی کہ آؤ بچو کھانا کھا لو۔ یا سنسکرت میں سمجھاتی ہوگی کہ پہلے پڑھائی، کھیل کود اس کے بعد۔
ہند سرکار کو اُردو سے جو بیر ہے وہ شاید یوں ہے کہ یہ مسلمانوں کی زبان ہے۔ میں اس بارے میں لمبی چوڑی بحث میں نہیں الجھوں گا بلکہ یہ کہوں گا کہ کیا ہند سرکار اپنے وجود سے اُردو کے بچے کھچے آثار کھرچ کھرچ کر نکالے گی؟ مگر کب تک اور کہاں تک نکالے گی۔ اُردو تو رہی ایک طرف، اس کی بھی والدہ یعنی فارسی، ہند سرکار کے وجود میں یوں بیٹھی ہے کہ سرکار کو خبر تک نہیں۔ کیا ہند سرکار نے کبھی سوچا ہے کہ لفظ ’ہند‘ ہندی کا نہیں فارسی کا لفظ ہے۔ کیا اس کو معلوم ہے کہ لفظ ’سرکار‘ ہندی کا نہیں، فارسی کا لفظ ہے۔ بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی۔ کیا ہندوستانیوں کو احساس ہے کہ لفظ ’ہند‘ سے وابستہ سارے لفظ فارسی کے ہیں۔ خیبر سے اتر کر جو قافلے گنگا اور جمنا کے بیچ کہیں آکر رکے وہ اس نئی سرزمین کو اپنی زبان میں ہند کہتے تھے۔ ہند شمال سے آ کر یہا ں صدیوں کے لیے بس جانے والوں کی بولی کا لفظ تھا۔ چنانچہ دریائے سندھ کے کنارے اٹک کے قریب وہ مقام ہنڈ کے نام سے موجود ہے جس کا نام پہلے کبھی ’اوہند‘ تھا۔ پشاور سے چل کر قافلے، لشکر اور کارواں جب دریائے سندھ کے کنارے اس مقام پر پہنچتے تھے اور انہیں دوسرا کنارا نظر آتا تھا تو وہ اسے ’اوہند‘ کہا کرتے تھے۔ تو پُر لطف بات یہ ہے کہ سر زمین ہند کا نام ہندی نہیں فارسی یا ترکی ہے۔ یہاں پڑاؤ ڈال کر اور قدم جمانے کے بعد اسی لفظ کی مناسبت سے انہوں نے ہند کے باشندوں کو ’ہندو‘ کہا۔ ہندو تو خالص فارسی لفظ ہے اور قدیم یا جدید، فارسی کی ہر لغت میں موجود ہے۔ گویا اس وقت ہند کے تمام باشندے ہندو کہلاتے تھے، فارسی میں یہ لفظ یہاں کے باشندوں کے رنگ و روپ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اسی طرح ہند کی بولی کو نو واردوں نے ’ہندی‘ نام دیا۔ یعنی لفظ ’ہندی‘ نو واردوں کی زبان فارسی کا لفظ ہے۔ ہمارے بزرگ بھی ہماری زبان کو ہندی یا ہندوی کہا کرتے تھے۔ غالب نے بھی کئی جگہ اسے اُردو کے بجائے ہندوی لکھا ہے۔ میں نے ہیر رانجھا کی پنجابی داستان کا ایسا نسخہ دیکھا ہے جو اُردو رسم الخط میں چھپا ہے اور جس کے سرورق پر اسے ہندی رسم الخط کہا گیا ہے۔ گویا لفظ ہند، لفظ ہندو، لفظ ہندی اور سب سے بڑھ کر لفظ ہندوستان کسی اور زبان کے نہیں، فارسی اور ترکی زبانوں کے، یا دوسرے لفظوں میں، مسلمانوں کے ساتھ آنے والی زبانوں کے الفاظ ہیں۔ یہ تو آپ کی جڑوں میں بیٹھے ہیں، انہیں نکال کر پھینکنے میں آپ کو دشواری ہوگی۔ کہنے کی بات یہی ہے کہ اُردو کو تمام علاقائی زبانوں کی طرح اس کا جائز مقام دیا جائے۔ میں نے تو سنا تھا کہ یہ بات ہندوستان کے آئین میں بھی درج ہے۔ مجھے وہ کرنسی نوٹ یاد ہیں جن پر دس گیارہ زبانوں میں ’ایک روپیا‘ لکھا ہوتا تھا۔ کشمیر کے خیال سے بھی اُردو کو سرکاری حیثیت حاصل تھی۔ اب ان کو گھروں میں قید کرو مگر ان کی زبان کو تو آزاد چھوڑ دو۔ میں سنہ نوے میں لداخ گیا تھا تو وہاں کے بچوں کو اُردو تختی لکھتے ہوئے دیکھا تھا۔ کیا اب اس خطے میں اپنا گورنر بھیجنے کے بعد وہاں سے بچوں کی اور ان کی ماؤں کی زبان بھی نکال دی جائے گی۔ اُردو بڑی سخت جان زبان ہے۔ برے سے برے حالات میں جئے گی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اُردو درباروں اور رجواڑوں، محلوں اور محل سراؤں کی زبان نہیں ہے۔ یہ عوام کے درمیان سے اٹھی ہے اور ان ہی کے درمیان پھلے پھولے گی۔ جب تک عوام رہیں گے، اُردو رہے گی۔ مجھے یاد ہے ایک بار بی بی سی کی کینٹین میں ہندی سروس کے اس وقت کے سربراہ آنجہانی کیلاش بدھوار سے باتیں ہورہی تھیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ پاکستان سے کسی کا خط آیا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ اگر اُردو سروس والے آسان اُردو اور ہندی سروس والے آسان ہندی بولیں تو ہم دونوں زبانوں کی نشریات سن سکتے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ مشکل یہ ہے کہ اگر ہم آسان ہندی بولتے ہیں تو وہ اردو ہوجاتی ہے۔
ان کی مراد یہ تھی کہ آسان ہندی بولیں گے تو وہ گھر گھر بولی جانے والی زبان بن جائے گی۔ یہی ہے اُردو کے سخت جان ہونے کا راز۔ انگریزوں نے اس زبان کا نام ہندوستانی رکھا تھا۔ کیا برا کیا تھا۔ آج بھی یہی نام ہوتا تو ہندوستان والے کیا کرتے؟ آج بھی اگر وہ اس کو اُردو کہہ کر نہیں پکاریں گے لیکن کسی بھی گاڑھے نام سے آواز دیں گے۔ جواب میں وہی بزرگوں کا چھوڑا ہوا لفظ آئے گا: ’جی‘۔

(روزنامہ جنگ)

اپنا تبصرہ بھیجیں