میں اور میری کہانی ۔ زہرا تنویر

میں جب رائٹنگ ٹیبل پر کہانی لکھنے بیٹھتی ہوں۔
کافی دن جن کرداروں کو سوچتے، دیکھتے، ان سے باتیں کرتے گزرتے ہیں، جب وہ ایک مکمل تصویر بن جاتے ہیں تو میں چاہتی ہوں ان کرداروں اور ان کی تلخ و سہانی یادوں میں ڈوب کر یوں لکھوں کہ وہ کردار جن کے دکھ درد میں نے اپنے دل کی نگاہ سے دیکھے اور محسوس کیے۔ ان کے درد کی گہرائی جہاں ختم ہوتی ہے، وہاں سے کہانی کا آغاز کروں۔
بدقسمتی سے میرے ساتھ ہوتا کیا ہے، میں جو اتنے دن ایک کردار کے ساتھ وقت گزارتی ہوں، اپنی تنہائی کو ان کی تلخ و شیریں یادوں سے آباد کرتی ہوں، کھلی و بند آنکھوں سے ان کے خواب دیکھتی ہوں، اس خواب کو جب تعبیر کی صورت دینے کی کوشش کرتی ہوں تو ایک حسین خواب کسی خوف ناک ہیولے کی نذر ہو جاتا ہے۔
میں جو لکھنا چاہتی ہوں، وہ لکھ نہیں پاتی۔ کیوں کہ میرے لاشعور میں بہت سی ایسی نامکمل داستانیں مجھے کچھ نیا اور الگ لکھنے نہیں دیتیں۔ میں ان سے نگاہیں چراتی آگے قدم بڑھانے لگتی ہوں۔ وہ داستانیں سائے کی طرح میرے دل و دماغ پر حاوی ہونے لگتی ہیں۔
میرے وہ کردار جو اتنے دن کی محنت و ذہنی مشقت سے تخلیق کے مراحل سے گزرنے کو بے تاب ہوتے ہیں، وہ مجھ سے روٹھ کر کہیں بہت دور چلے جاتے ہیں۔ میری شکستہ آواز ان کو واپس لانے میں ناکام رہتی ہے۔
میں ابھی اچھا لکھنے کے قابل نہیں ہوئی۔ پھر بھی جو لوگ دو لفظ لکھ سکتے ہوں، ان کا ایک خواب اور ایک ادھوری خواہش ہوتی ہے کہ وہ جو سوچتے ہیں، دیکھتے ہیں، اسے الفاظ کی صورت مکمل تصویر کا رنگ دیں۔ جس تصویر کے رنگ نہ کبھی مدھم ہوں۔ بلکہ وہ تصویر ہمیشہ جگمگاتی رہے۔
میں بھی الفاظ کے سہارے ایک جگمگاتی تصویر بنانا چاہتی ہوں، چاہے وہ ادھوری اور نامکمل ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن اس میں میرے ذہن میں پنپنے والے کردار اپنی اصلی حالت میں زندہ ہوں۔
اب یوں لگتا ہے کہ یہ کردار تب ہی زندہ ہوں گے اور یہ خواب بھی تب پورا ہو گا، جب میں اپنے لاشعور میں دفن ان گنت قصے کہانیوں سے جان چھڑاؤں گی۔ ایک حسین خواب کی خاطر مجھے لاتعداد کانٹے چننا ہوں گے۔ بہت عرصہ گزر جانے کے بعد میں یہ بات سمجھ پائی ہوں کہ ایک لکھاری کو اپنے خواب کی تکمیل کی خاطر خود کو اذیت بھری داستانوں اور کانٹوں بھرے رستے پر چلنا پڑتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں