ممتاز سماجی صحافتی و ادبی شخصیت، علامہ افتخار احمد خالد

گذشتہ ماہ اسلام آباد کی پبلک لائبریری میں جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ایک کتاب نظروں سے گزری جس کا نام تھا ”گھر کیسا لگا ہے‘‘. یہ کتاب دراصل ایک سفرنامہ ہے جو علامہ افتخار احمد خالد کا تحریر کردہ ہے. مصنف نے اس کتاب میں جاپان، تھائی لینڈ، ترکی، برازیل، بولیویا، پیرو اور ایکواڈور کے سفروں پر مشتمل مواد درج کیا ہے. سفرنامہ ادب میں میری پسندیدہ ترین صنف رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے یہ کتاب ایشو کروا لی. بعد میں مصنف سے رابطہ ہوا. انہوں نے کمال محبت کا ثبوت دیتے ہوئے یہ کتاب بھی اور ایک دوسرا سفرنامہ بعنوان ”سفر، نم دیدہ نم دیدہ‘‘ ارسال فرما دیں. علامہ افتخار احمد خالد کی یہ دوسری کتاب حجاز نامہ ہے. حجاز مقدق کا یہ سفر مصنف نے اپنے اہلِ خاندان کے ہمراہ 2007ء میں کیا تھا.
مصنف کی کتاب ”گھر کیسا لگا ہے‘‘ کے بارے میں نامور ادیب اور مزاح نگار عطاء الحق قاسمی لکھتے ہیں:
”افتخار خالد کا سفرنامہ میرے لیے باعثِ حیرت تھا.اتنا شگفتہ اندازِ بیان، اتنا بے ساختہ پن، اتنا خوب صورت لکھنے والا شخص آج تک کہاں تھا؟ میں اس کی کامیابیوں کے لیے دعا گو ہوں.‘‘

علامہ افتخار احمد خالد کا شمار علاقہ کی ممتاز سماجی، صحافتی و ادبی شخصیات میں ہوتا ہے. آپ یکم جون، 1965ء کو گوجرانوالہ کے قریب ایک گاؤں تلونڈی موسیٰ خاں میں پیدا ہوئے. آپ کے والد مترم خود بھی ایک استاد تھے اسی لیے انہوں نے افتخار احمد صاحب کو بھی زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا ضروری سمجھا. آپ نے بچپن سے ہی علمی قابلیت کے جوہر دکھانا شروع کر دیے تھے جس بنا پر آپ علامہ کے لقب سے مشہور ہو گئے. ابھی آپ کی عمر صرف پندرہ برس تھی کہ آپ کے والد محترم کا ایک حادثہ میں انتقال ہو گیا. والد کے بعد علامہ افتخار کی پرورش کا ذمہ آپ کے بڑے بھائی عبد الستار طارق نہ اٹھا لیا. علامہ افتخار نے کالج کی تعلیم کے بعد سرویئر کا ڈپلومہ مکمل کیا ہے بیرونِ ملک کا سفر اختیار کیا. اس دوران آپ نے جاپان، تھائی لینڈ، ترکی، برازیل، بولیویا، پیرو اور ایکواڈور کا سفر کیا اور زندگی کے تجربات حاصل کیے. آپ کی پہلی کتاب ”گھر کیسا لگا ہے‘‘ انہی ممالک کی سیاحت اور سفروں کی رُوداد ہے. علاوہ ازیں حجاز نامہ ”سفر، نم دیدہ نم دیدہ‘‘ کے عنوان سے بھی علمی و ادبی حلقوں میں دادِ تحسین حاصل کر چکا ہے. علامہ افتخار احمد خالد آن لائن اُردو اخبار ”تلوانڈی ٹائمز‘‘ کے چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں علاوہ ازیں آپ مختلف ادبی و سماجی تنظیموں کے بھی ممبر ہیں جن میں‌ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، انجمن ترقی پسند مصنفین، پاکستان انڈیا فورم برائے امن و جمہوریت (ضلعی جنرل سیکرٹری) اور ملک ویلفیئر ٹرسٹ (نائب ناظم) اور اپنے گاؤں کے عظیم شاعر عبدالحمید عدم کے نام سے قائم بزمِ عدم (سیکرٹری نشرواشاعت) شامل ہیں.
گذشتہ دنوں آپ نے پاکستان کے نامور موٹیویشنل سپیکر قاسم علی شاہ سے ملاقات کی. اپنی اس ملاقات کو علامہ افتخار احمد خالد نے حاصل سال 2020ء قرار دیاہے. اسی ملاقات بارے قاسم علی شاہ اپنے مضمون ”علامہ افتخار کی کہانی (بچپن سے پچپن تک )‘‘ میں رقم طراز ہیں:
قارئین کرام السلام علیکم، دوستو جیسا کہ میں آپ کو بتاتا رہتا ہوں کہ ہر آدمی کی کوئی نہ کوئی کہانی ہے، ایک دوجے سے مختلف و منفرد۔ علامہ افتخار کی زندگی بھی ایسی ہی منفرد کہانی ہے۔ ان کے والد سکول ٹیچر تھے. 9 بچوں کے باپ تھے۔ صرف 45 سال کی عمر میں روڈ ایکسیڈنٹ میں انتقال کرگۓ۔ ایک اچھا اور سچا مدرس ہونے کے ناطے سے بچوں کی تعلیم و تربیت بہت اچھے انداز سے انہوں نے کی تھی۔
افتخار کو رب کریم کی عطاء سے ”علامہ‘‘ کا لقب سکول اساتذہ اور محکمہ تعلیم کےاعلیٰ افسران نے ضلعی مقابلہ شعر و ادب میں آنر کیا، جب علامہ افتخار کی عمر 9 برس تھی۔ اس کو کلامِ اقبال رح آج بھی بہت اچھی طرح سے یاد ہے۔ والد گرامی کے ناگہانی انتقال کے بعد ان کی والدہ محترمہ نے بڑی رہنمائی کی۔ بھائیوں نے بڑی یک جہتی کا مظاہرہ پیش کیا۔ ٹیچرز اور مخلص دوستوں نے بڑی حوصلہ افزائی کی اور پھر علامہ افتخار نے ایک پختہ ارادہ کرلیا:
اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے؟
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے…

16 سال کی عمر میں میٹرک کیا، ساتھ ساتھ دکانوں پر سیلز مینی، بچوں کا ٹیوٹر… کسی کام میں عار محسوس نہیں کی۔ ہمت کبھی نہیں ھاری۔ میٹرک کے فوری بعد شعری مجموعہ ”لب تشنہ‘‘ کے عنوان سے منظر عام پر آگیا۔ یار احباب کی طرف سے خوب پذیرائی ملی۔ ماں کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ اہل علاقہ کے مسائل کے حل اور سماجی خدمات بے لوث سر انجام دے کر ان کی دعا ئیں بھی سمیٹتا گیا۔ یہاں تک کہ ہندوستان کے بزرگ ماھر تعلیم و شاعر سر بلدیو راج شرما نے اس کے لیے لکھا کہ بیٹا ”علامہ افتخار یہ جو تم انسانیت کی خدمت کررہے ہو، اپنے لئے ایک چادر بہت بڑی رکھنا۔۔۔ میری اور دیگر انسانوں کی دعائیں زمین پر نہ گر جائیں۔‘‘
انسانیت کی خدمت کے اعتراف کے طور پر بچپن کے دوست سماجی رہنما اور معروف بزنس مین محترم ملک افضل نے گوجرانوالہ میں ملک ویلفئیر ٹرسٹ کے نام پر ادارے کی بنیاد رکھی اور اس ادارے کی خدمات کے لیے علامہ افتخار کو منتخب کیا، جس میں تادم تحریر اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ ملک افضل و دیگر معززین کی رفاقت و محبت میسر ہے اور ملک افضل صاحب نے اپنے ساتھ ملکوں ملک سیریں کرائی ہیں جن میں جاپان، تھائی لینڈ، ترکی، برازیل، ڈنمارک، بولیویا، پیرو، ارجنٹائن، ایکواڈور، سپین، انگلینڈ، دبئی، یوگینڈا، کینیا اور روانڈا وغیرہ شامل ہیں.
1993ء میں شادی کے بندھن میں بندھا تو ساتھ بھی اللہ والی کا ساتھ میسر آگیا جس نے قناعت، صبر تحمل و بردباری سے اس شخص کے ساتھ نئی زندگی کا سبق و سفر شروع کردیا جس میں علامہ افتخار بار بار یہی دہراتا گیا کہ:
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
2004ء میں کلاسیک پبلشرز، لاہور والوں نے اس کا سفرنامہ ”گھر کیسا لگا ہے‘‘ چھا پ دیا۔ جس کی مقتدر حلقوں میں بڑی پذیرائی کی گئی۔ اللہ نے اپنی نعمتوں سے نوازا اور رحمت بھی عطاء کردی۔ علامہ افتخار کے ماشاء اللہ چار بچے جو اب جوان ہیں اور کامیاب زندگی بسر کررہے ہیں، جن میں بڑا بیٹا انجنئیر حسنات عظیم ہے جس کی نیک نامی کی شہرت الحمد للہ کینیا کے شہر ممباسہ کے چپے چپے پر پھیلی ہوئی ہے. اس نوجوان نے اپنے والدین اور اپنے آباء کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مشکلات کو خندہ پیشانی سے استقبال کیا اور اپنے والد محترم کا حقیقی دست و بازو بن گیا. اللہ کے فضل و کرم اور اس نوجوان کی محنت لگن اور ہمت سے کمپنی نے بہترین ترقی حاصل کی کہ کمپنی نے اس سے مشورہ کے بعد دوسرے بھائی وجاہت عظیم کو بھی ہائر کرلیا اور اس طرح سے اللہ کریم علامہ افتخا ر کو نوازتا گیا۔ آج تیسرا بیٹا عرفات عظیم بھی الحمدللہ گوجرانوالہ کی نامور انٹرنیشنل یونیورسٹی سے میڈیا سٹڈیز کی ڈگری مکمل کرچکا ہے۔

ادارہ ملک ویلفئیر ٹرسٹ کے توسط سے 250 بیڈ پر مشتمل گوجرانوالہ جی ٹی روڈ، لوہیانوالہ کے قریب سردار یاسین ملک ویلفئیر ٹرسٹ ہسپتال اس ادارے کا ایک عظیم اور شاھکار ہسپتال ہے جس کے چیف پیٹرن ہلٹن فارما کے چیرمین ڈاکٹر سردار یاسین ملک ہیں جن کے زیر سایہ ادارہ مرحلہ در مرحلہ کامیابی کی منازل طے کرتا جارہا ہے۔ گزشتہ سال محسن پاکستان، ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر اے کیو خاں صاحب نے ہسپتال کا افتتاح کیا۔ علامہ افتخار کو اس کی خدمات کے صلے میں ڈاکٹر اے کیو خاں صاحب نے اپنے دست مبارک سے شیلڈ دی اور گولڈ میڈل سے نوازا۔
علامہ افتخا ر کو اللہ نے اپنے در کی حاضری بھی نصیب فرمائی پھر واپسی پر ایک اور سفر نامہ ”سفر، نم دیدہ نم دیدہ‘‘ لکھ ڈالا۔ یوں اللہ نے اس پر اپنے کرم کی برسات جاری و ساری رکھی۔

دوستو چند دن پہلے ہی ہماری دوستی ہوئی اور کل ہی میں نے اسے ملاقات کے لیے اپنے پاس بلایا۔ علامہ افتخار سے مل کر ایسے لگا کہ گویا ہم برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں… تو یہ کہانی ہے اس شخص کی جسے لوگ ”علامہ افتخار‘‘ کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں. علامہ افتخار کی جاۓ پیدایش ”شہر عدم‘‘ تلونڈی موسیٰ خاں ہے جوکہ عالمگیر شہرت یافتہ شا عر سید عبدل حمید عدم کی جاۓ پیدائش ہے. ان کے نام کی نسبت سے اپنے گاؤں میں کئی سال سے فلاحی و ادبی تنظیم ”بزمِ عدم‘‘ بنائی ہوئی ہے۔ عرصہ 15 سال سے زیادہ اپنے گاؤں کے نام پرتلونڈی ٹائمز ڈاٹ کام کے نام سے فیس بک پیج اور آن لائین اخبار بنایا جس میں اھل علاقہ و سمندر پار کو خبریں، اشتہار، کاروباری پروموشن کے لیے بلا معاوضہ سروسز دی جاتیں ہیں۔اس کا چیف ایڈیٹر علامہ افتخار ہے. ملک ویلفئیر ٹرسٹ کے زیرِ انتظام سے چھپنے والے والے میگزین ”رہنمائے ملک‘‘ کا سب ایڈیٹر علامہ افتخار ہے۔ اسی ادارے کے تحت فروغ تعلیمِ خواتین کی بہبود کے لیے مختلف دیہاتی و پسما ندہ علاقوں میں بنائے گئے سات خواتین دستکاری سکولوں کی دیکھ بھال بھی کرتا ہے۔ مختلف سماجی و ادبی تنظیموں میں بھی بڑھ چڑھ کر شامل ہوتا ہے جن میں انجمن ترقی پسند مصنفین، پاک انڈیا فورم برائے امن و جمہوریت اور ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان شامل ہیں.‘‘

2 تبصرے “ممتاز سماجی صحافتی و ادبی شخصیت، علامہ افتخار احمد خالد

  1. السلام علیکم دن بخیر ۔ میری والدہ بہنوں بھائیوں بچوں اور آپ سب پیار کرنے والے دوستوں کی نیک خواھشات اور دعا وں سے یہ خوش خبر ی پیش خدمت ہے جس پر
    الحمد لله رب ذوالجلال کا بے حد شکر گزار ہوں
    ❤🙏🏼🌹

    اہلیان تلونڈی موسیٰ خاں و گوجرانوالہ و ملک ویلفئیر ٹرسٹ پاکستان کے لیے ایک اور خوبصورت اعزاز 🌹

    اسلام آباد اردو ادب کی خدمت کے افق پر چمکتے ہوے ستارے ” کتاب نامہ” میں علامہ افتخار کے سفر ناموں کا تعارف شایع 🌹🌹

    انتہائی لگن محنت اور محبت سے لبریز اس عظیم کاوش پر پیارے دوست ممتاز صحافی ادیب و شاعر کالم نگار پروانہ اردو دیوانہ سفرنامہ محترم ثاقب بٹ صاحب (ایڈیٹر ) کتاب نامہ کا دل کی گہرائیوں سے شکرگزار ہوں اور آپ کی مزید کامیابیوں کے لئے دعا گو ۔
    نیاز مند ۔ علامہ افتخار ❤❤

    اصل کہانی بڑی دلچسپ ہے وہ یہ کہ میرا 2004 کا لکھا ہوا سفرنامہ” گھر کیسا لگا” اسلام آباد پبلک لائبریری میں پڑا ہوا تھا اب جناب ثاقب بٹ جو کہ سفر ناموں کے دیوانے ہیں آج سے کوئی ساڑھے تین مہینے پہلے انکی نگاہ میری کتاب پر پڑی تھوڑی ورق گردانی کے بعد انہوں نے اسے ا یشو کرالیا تب تک میں انکے لئے اور وہ میرے لئے بالکل اجنبی تھے ۔ کتاب کے مطالعہ سے انکی دلچسپی بڑھ گئی ۔ اتفاق سے میرا فون نمبر کتاب پر پرنٹ تھا ۔ 29 اکتوبر 2020 کو ثاقب صاحب نے پہلی بار مجھ سے رابطہ فرمایا اور کہا کہ وہ میری کتابوں کا تعارف شائع کرنا چاہتے ہیں اور اسطرح سے ہماری دوستی محبت میں بدل گئی ۔ 😂

    علامہ افتخار اور انکی کتب بارے محترمی ثاقب بٹ صاحب کے اس خوبصورت آرٹیکل کو پڑھنے کے لئے تصویر کے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں ❤

    1. This is amazing sir you are really a great man i have seen ever ♥️
      Biggest fan sir 🙂

اپنا تبصرہ بھیجیں