زیادہ کتابیں کیسے پڑھیں؟ – ڈاکٹر ذیشان الحسن عثمانی

پڑھیں کیسے؟ یہ ایک سوال ہے جو گزشتہ کئی مہینوں سے دوست احباب اور سوشل میڈیا پر فالو کرنے والے کثرت سے پوچھ رہے ہیں۔ اب میں خود کوئی پڑھنے پڑھانے والا بندہ تو ہوں نہیں تو جواب دینے سے ہمیشہ معذرت برتی، مگر اب جب کہ اِصرار در اِصرار بڑھتا ہی جا رہا ہے تو سوچا صرف اتنا لکھ دوں کہ میں کیسے پڑھتا ہوں۔ صحیح یا غلط کا فیصلہ قارئین اور اہل علم کریں گے۔
پڑھیں کیسے؟ سے پہلے بھی کئی سوال ہیں جو پوچھنے چاہئیں، مثلاً پڑھیں کیوں؟ پڑھیں کیا؟ پڑھیں کب؟ وغیرہ وغیرہ اور پڑھیں کیسے کے بعد پوچھنا چاہئے کہ پڑھنے کے کیا نقصانات ہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں۔

پڑھیں کیوں؟
ایک دنیا ہے جو خوش و خرم، موج مستی میں زندگی گزار رہی ہے، دن بھر دوستوں سے واٹس اپ اور فیس بک پر بات اور رات بھر ٹی وی اور نائٹ پیکجز، ایسے میں آخر کون اتنا وقت ”برباد‘‘ کرے کہ بیٹھ کر کتابیں پڑھے؟ پڑھنے کے کچھ فوائد جو میری سمجھ میں آتے ہیں وہ یہ ہیں:

1. بندے کو اپنے جہل کا پتہ لگتا ہے کہ کتنا نہیں معلوم۔
2. پڑھنے سے کسی فیلڈ کا اور دنیا کا ایکسپوژر ملتا ہے کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور میں کہاں کھڑا ہوں۔
3. پڑھنے سے بنیاد ملتی ہے جس پر کھڑا ہو کے کوئی کام کر سکے۔
4. پڑھنے سے دماغی و تخلیقی صلاحیتیں جِلا پاتی ہیں۔
5. پڑھنے سے ہمت و حوصلہ ملتا ہے کہ اگر دنیا یہ سب کچھ کر سکتی ہے تو میں بھی کر سکتا ہوں۔
6. پڑھنے سے تقابلی موازنہ کا موقع ملتا ہے کہ مختلف سوچ و عقائد رکھنے والے حضرات کسی مضمون کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ اختلافِ رائے کو پڑھنے سے ذہن میں وسعت آتی ہے اور برداشت بڑھتی ہے۔
7. پڑھنے سے وقت فالتو کاموں میں ضائع نہیں ہوتا۔ وہ تمام وقت جو ٹی وی ڈراموں، سوشل میڈیا اور دوستوں کی نذر ہو جاتا ہے، اب پڑھنے میں لگ رہا ہے۔
8. پڑھنے سے چیزوں کی حقیقت کھلتی ہے اور آدمی اچھے برے میں تمیز کر سکتا ہے۔
9. پڑھنے سے ادبی و جمالیاتی ذوق پیدا ہوتا ہے جو آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ آپ غالبؔ اور رکشہ والے شعر میں تفریق کر سکیں۔
10. پڑھنے سے جستجو اور طلب و پیاس بڑھتی ہے اور آدمی اصل بات کی کھوج میں لگا رہتا رہے۔
11. اور پڑھنے سے بندے اور رب کے درمیان تعلق مضبوط ہو جاتا ہے کہ جس نے اپنی کتاب کا آغاز ہی اِقرأ سے کیا ہے۔

پڑھیں کیا؟
اگر آپ پڑھنے سے شغف نہیں رکھتے تو شروع شروع میں عادت بنانے کے لیے کچھ بھی پڑھیں، بس پڑھیں۔ آن لائن بلاگز، فیس بک اور اخبارات اس پڑھائی میں شمار نہیں ہوتے نہ ہی آپ کے SMS میسجز۔ ابنِ صفی کو پڑھیں، اثر نعمانی کو پڑھیں، ممتاز مفتی، بانو قدسیہ، قدرت اللہ شہاب، شوکت تھانوی، اشفاق احمد، عصمت چغتائی، وحیدہ نسیم، قرۃ العین حیدر، اجمل نیازی، طارق بلوچ صحرائی، سعادت حسن منٹو، ڈاکٹر امجد ثاقب، مستنصرحسین تارڑ یا انتظار حسین، نیا یا پرانا جو مصنف اچھا لگے، اسے پڑھ ڈالیں شروع سے آخر تک. دینی ذوق ہو تو مولانا منظور نعمانی، اور سید سلیمان ندویؒ کے کیا کہنے۔ آسان سہل زبان میں مشکل سے مشکل بات کہہ جاتے ہیں۔ شاعری کا شوق ہو تو پروین شاکر اور ناصر کاظمی سے شروع کریں، یاس یگانہ اور چراغ حسن حسرت پر سانس بھریں اور حافظ و رومیؒ سے ہوتے ہوئے غالب اور علامہ اقبالؒ پر ختم ہو جائیں۔
کسی مخصوص شعبے میں پڑھانا چاہیں تو اس فیلڈ میں کام کرنے والے سے پوچھیں کہ فیلڈ کے استاد کون ہیں، پھر استادوں سے پوچھیں کہ فیلڈ کے کرتا دھرتا کون ہیں۔ (ان کی تعداد ہمیشہ انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے) یا پھر کچھ کتابیں اُٹھا لیں، بہت جلد احساس ہو جائے گا کہ سب لوگ معدودے چند اشخاص کا ہی ذکر کرتے ہیں، یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے فیلڈ کی بنیاد رکھی بس انہی سے شروع کر دیں. مثلاً جینٹک الگور تھم (Genetic Algorithm) کا ذکر جان ہالینڈ (John Henry Holland) کے بغیر ممکن نہیں، جینٹکس انجینئرنگ میں مارون منسکی (Marvin Lee Minsky) سرفہرست، فزکس کا تذکرہ آئن اسٹائن (Albert Einstein) اور سٹیفن ہاکنگ (Stephen William Hawking) کے بغیر ادھورا. ریاضی میں سینکڑوں نام، آپ پال آرڈش (Paul Erdős) اور رامانوجن (Srinivasa Ramanujan) سے شروع کر دیں، ایلن ٹیورنگ (Alan Mathison Turing)، جان وان نیومین (John von Neumann) کمپیوٹر سائنس کے روح رواں تو ایڈورڈ ولسن (Edward Wilson) چیونٹیوں پر اتھارٹی۔ آپ خود سوچیں کہ کسی شخص نے اپنی زندگی کے 50,40 سال ایک ہی مضمون کو دے دیے پھر کوئی کتاب لکھی جو آپ کو 1000, 500 روپے میں دستیاب ہے بلکہ انٹرنیٹ سے مفت PDF بھی شاید مل جائے۔ اب آپ اسے چھوڑ کر فیس بک پر دوستوں سے بحث و مباحثہ میں الجھے ہوئے ہیں یہ کہاں کی شرافت ہے؟ نوبل پرائز پانے والوں کو پڑھیں، کیسا لگے گا آپ کو اگر کوئی شخص بڑا صوفی ہونے کا دعویٰ کرے اور اس نے شاہ ولی اللہؒ، حضرت مجدد الف ثانیؒ اور ابن عربیؒ کا نام تک نہ سُنا ہو؟ یہی حال ہم لوگوں کا ہے جس شخص نے زندگی میں گاڑی نہیں چلائی وہ بھی جہاز کے حادثے پر گز بھر کا آرٹیکل لکھ دیتا ہے اور جس کو یہ تک نہیں پتہ کہ گلی کے نکڑ پہ پنواڑی کون ہے وہ بھی ٹاک شوز میں آ کر یہ ثابت کرتا ہے کہ نیا چیف آف آرمی سٹاف کون ہو گا۔ پڑھائی سے دوری فراست سے محروم کر دیتی ہے۔ آدمی کے تصورات تک یتیم ہو جاتے ہیں اور عقائد بھیک میں ملنے لگتے ہیں۔
ہمت کریں، فیلڈ کا انتخاب کریں اور دے دیں زندگی کے 30, 20 سال پڑھنے کو، دنیا دوڑتی، لوٹتی، رینگتی آپ کے قدموں میں خود بخود آ جائے گی۔

پڑھیں کب؟
ہر وقت پڑھیں، ایک عام آدمی زندگی میں اوسطاً 7 سال انتظار میں گزارتا ہے۔ بس اسٹاپ پر انتظار، ٹرین و جہاز میں بیٹھے منزل پر پہنچنے کا انتظار، ہاسپٹل میں ڈاکٹر کے آنے کا انتظار، سکول کے باہر بچوں کی چھٹی کا انتظار، اب اگر آپ کے ہاتھ میں ہر وقت کوئی کتاب ہو تو ایک عام آدمی کے مقابلے میں آ پ کی زندگی میں 7 سال کی پڑھائی اضافی ہو گی۔ آپ چاہیں تو پڑھائی کے لیے کوئی ٹائم مقرر کر لیں، مثلاً رات 7 بجے سے 9 بجے تک، سونے سے پہلے یا صبح 6 سے 8، آفس جانے سے پہلے یا عصر تک مغرب، اب اس پر جمے رہیں۔

پڑھیں کس سے؟
کتابوں سے، آن لائن کورسز سے، پڑھانے والے اب کم کم ہی بچے ہیں. ٹیچرز کو مال غنیمت سمجھیں، کچھ پڑھا دیا تو ٹھیک ورنہ امید نہ رکھیں، کورس ایرا، یو ڈے سٹی، MIT وغیرہ نے اپنے سارے کورس آن لائن دے رکھے ہیں۔ ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ ہر اس شخص کو جسے پڑھنا چاہئے وہ پڑھا رہا ہے. جس نے زندگی میں ایک لائن کا کوڈ نہیں لکھا وہ 110 بچوں کی کلاس میں دو سال سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ پڑھاتا ہے. پھر بچے روتے ہیں کہ جاب نہیں ملتی۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ ”پڑھنا‘‘ آپ کی ذمہ داری ہے، جیسے کہ صحت. آپ اپنے آپ کو کھلاتے ہیں، سلاتے ہیں، سردی گرمی کا خیال رکھتے ہیں بالکل اسی طرح پڑھنا بھی آپ کی ذاتی ذمہ داری و فرائض میں شامل ہے، ماں باپ، استاد اور لوگوں پر الزام دھرنا چھوڑ دیں۔

پڑھیں کیسے؟
اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف کہ پڑھیں کیسے؟ اس کا جواب سب سے زیادہ آسان ہے۔ ذہن اور روز مرہ معمول کو جتنا سادہ اور خرافات سے پاک کر سکتے ہیں وہ کر لیں۔ ہماری زندگی عموماً ریشم کے لچھے کی طرح گنجلک ہوتی ہے اور کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا۔ میں نے بچپن میں اپنے ایک استاد مولانا عبدالرحمٰن صاحب سے پوچھا کہ میں چاہتا ہوں کہ میری یادداشت تیز ہو جائے تو کیا کروں؟ انہوں نے جواب دیا کہ آنکھوں کی حفاظت کرو۔ میں بڑا حیران ہوا کہ آنکھوں کی حفاظت کا یادداشت سے کیا تعلق؟ میں تو سمجھ رہا تھا کہ وہ کوئی دماغی ورزش یا بادام کھانے کا کہیں گے۔ وہ کہنے لگے کہ علم کی آنرشپ اللہ سائیں کے پاس ہے، جب چاہے، جسے چاہے، جتنا چاہے دے دے مگر وہ گندی پلیٹ میں کھانا نہیں ڈالتا۔
اگر آپ پڑھنے بیٹھے ہیں اور دماغ میں موسیقی کی دھنیں اور فلموں کے ڈانس جاری ہیں تو نہ پڑھا جائے گا اور غلطی سے کچھ پڑھ بھی لیا تو سمجھ کچھ نہیں آئے گا یا یاد نہیں رہے گا۔ لفظ مل جائیں گے، علم اُٹھ جائے گا۔ یہ کتابیں بہت باحیا ہوتی ہیں۔ بدنظروں سے اپنا آپ چھپا لیتی ہیں۔ آپ مندرجہ ذیل امور پر توجہ دیں تو امید ہے انشاء اللہ پڑھائی آسان ہو جائے گی:

1. پڑھنے کا وقت متعین کر لیں، خواہ 15 منٹ ہی کیوں نہ ہوں۔ اب دنیا اِدھر سے اُدھر ہو جائے مگر سب کو پتہ ہو کہ یہ آپ کا پڑھنے کا وقت ہے۔ جس میں یا تو آپ کتاب پڑھیں گے یا جنازہ اور کچھ نہیں۔ ایک مرتبہ وقت پر اختیار ہو جائے تو ہلکے ہلکے دورانیہ بڑھاتے چلے جائیں۔
2. پڑھنے کے وقت کچھ اور نہ کریں، ماحول کو سازگار بنائیں۔ اگر پڑھتے وقت ہر 30 سیکنڈ میں آپ کو موبائل چیک کرنا ہے، فیس بک پر کچھ لکھنا ہے، واٹس اپ چیک کرنا ہے، فون سننا ہے، ٹی وی کا چینل بدلنا ہے، دروازہ کھولنا ہے، دودھ گرم کرنا ہے، کھانا بنانا ہے، تو ہو گئی پڑھائی، وقفہ پڑھائی (Reading Break) کے دوران کچھ بھی نہ کریں، صرف پڑھیں۔ کوشش کرکے کوئی ایسا کمرہ، کونا کھدرہ تلاش کریں جہاں آپ پر کسی کی نظر نہ پڑ سکے۔ میں اپنے بچپن میں مچان پر جا کر چھپ جاتا تھا. موبائل دراز میں لاک کر دیں، ٹی وی بند کر دیں اور دنیا و مافیہا سے بے نیاز، صرف پڑھتے رہیں۔ میں تو ہر کتاب شروع کرتے وقت اللہ سے دعا مانگتا ہوں کہ اے اللہ، عزرائیل ؑ کو نہ بھیج دینا، کتاب ادھوری رہی تو چین سے مر بھی نہیں سکوں گا، سارا مزہ کرکرا ہو جائے گا، کتاب پوری کروا دے پھر آتا ہوں۔
3. کم از کم صفحات کی تعداد طے کر لیں، مثال کے طور پر میں روز کے 100 صفحات پڑھوں گا۔ اب چاہے بارش آئے یا طوفان، دھرنا ہو یا عید، آپ نے اپنا ٹارگٹ پورا کرنا ہے۔ ایک مسلمان اب اگر مہینے کے 3 ہزار صفحات بھی نہ پڑھے تو کتنے شرم کی بات ہے۔ جب 100 پر پکے ہو جائیں تو صفحات بڑھاتے چلے جائیں۔ مصروف شخص آرام سے 4 سے 6 سو صفحات تو دن کے پڑھ ہی سکتا ہے، 4 گھنٹے ہی تو لگتے ہیں 20 گھنٹے تو پھر بھی بچے روز کے۔
4. مختلف کتابیں ایک ساتھ شروع کریں۔ آدمی کا اپنا مزاج اور طبیعت ہوتی ہے۔ طبیعت صرف اچھا لگا یا برا لگا بتاتی ہے، دلیل نہیں دیتی۔ آدمی اُکتا جاتا ہے تو مثال کے طور پر اگر آپ نے 100 صفحات پڑھنے تھے، کمپیوٹر سائنس کے اور آپ 10 پڑھ کر اُکتا گئے تو کوئی بات نہیں 40 شاعری کے پڑھ لیں، 20 اسلام کے، 30 تاریخ کے، ہو گئے پورے 100۔ بس جو نمبر آپ نے مقرر کیا ہے اس سے پیچھے نہیں ہٹنا۔
5. وقفہ لیں۔ کہتے ہیں آدمی کے فوکس کا دورانیہ 45 منٹ ہے، تو آپ 45 منٹ یا گھنٹے بعد، آنکھ بند کرکے 10 منٹ کا وقفہ لے لیں۔ اس وقفے میں دماغ ساری انفارمیشن کو بھی پراسس کرے گا۔ مسلسل پڑھائی کے بعد سونا ایک اچھا آزمودہ طریقہ کار ہے۔ پڑھائی کو یاد رکھنے کا، اور اگر بھول بھی جائیں تو فکر نہ کریں زندگی میں جب بھی اس انفارمیشن کی ضرورت محسوس ہو گی یہ خودبخود لاشعور سے نکل کر آپ کے سامنے آ جائے گی۔اور کم از کم آپ کی قوتِ فیصلہ تو بہتر ہو ہی جائے گی۔
6. نوٹس لیں، سمری بنائیں۔ کتاب ہاتھ میں ہو تو آپ اسے ہائی لائٹ کر سکتے ہیں، ضروری اور اہم جملوں کو انڈر لائن کر سکتے ہیں. جو کتاب پڑھیں اس کے باب کے آخر میں یا کتاب کے آخر میں عام فہم جملوں میں اس کا خلاصہ لکھ دیں، سمجھیں کہ آپ نے یہ کتاب کسی ایسے شخص کو سمجھانی ہے جسے پڑھنا لکھنا نہیں آتا۔ اب اگر آپ کتاب کو اس طرح مختصر الفاظ میں بیان کر سکیں تو بے فکر ہو جائیے۔ آپ نے کتاب کو سمجھ لیا ہے اور اگر نہ کر سکیں تو پھر سے پڑھیں یہ صلاحیت دھیرے دھیرے ڈویلپ ہو جائے گی۔
7. ترجیح بنائیں۔ فرض کر لیں کہ پڑھنا زندگی کا سب سے اہم کام ہے۔ بس یہی کرنا ہے، بیچ میں بریک لے لیں، جاب کا، فیملی کا، نماز کا، کھانے پینے کا، سونے کا، مگر اصل کام پڑھنا ہے، ہر بریک میں خیال پڑھنے کا ہونا چاہیے، اس سے کام آسان ہو جاتا ہے۔
8. سپیڈ ریڈنگ کریں۔ جب آپ ایک ہی مضمون کی بہت سی کتابیں پڑھیں گے تو آپ کو احساس ہو گا کہ مختلف لوگوں نے بار بار ایک ہی نظریے کو مختلف انداز میں پیش کیا ہے اور دو چار ہی عام فہم مثالیں ہیں جو ہر کوئی دیتا ہے جیسے ہی آپ کو دیکھی ہوئی جانی پہچانی تصویر، گراف یا ایکویشن نظر آئے، آپ صفحہ پلٹ دیں (اگر آپ کو معلوم ہو کہ یہ کیا ہے) ۔یہ صلاحیت زیادہ پڑھنے سے خودبخود ڈویلپ ہو جاتی ہے۔ کبھی آپ حفظ سورتوں کے پڑھنے کی رفتار کا باقی سورتوں کے پڑھنے کی رفتار سے موازنہ کریں، آپ کو یہ بات سمجھ آ جائے گی۔ ایک جیسی مثالیں بھی حفظ کی طرح ازبر ہو جاتی ہیں۔ آئی فون اور اینڈرائڈ میں درجنوں ایسی ایپلی کیشنز ہیں جو آپ کو اسپیڈ ریڈنگ سکھاتی ہیں۔ ایک اوسط آدمی کی پڑھنے کی رفتار 120 الفاظ فی منٹ ہوتی ہے۔ آپ ذرا سی پریکٹس سے اسے 400 الفاظ فی منٹ تک پہنچا سکتے ہیں۔ اور مادری زبان میں تو یہ اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایک صفحے پر کم و بیش 250 سے 300 الفاظ ہوتے ہیں۔ ایک نان فکشن کتاب 50 سے 75 ہزار الفاظ پر مشتمل ہوتی ہے، کوئی 200 سے 250 صفحات۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ صرف 400 الفاظ فی منٹ کے حساب سے ایک اوسط کتاب 2 گھنٹوں میں ختم کر سکتے ہیں۔ اگر آپ روزانہ 6 گھنٹے بھی صرف پڑھ لیں تو بآسانی 3 کتابیں ختم ہو سکتی ہیں۔ یعنی سال بھر میں ایک ہزار کتابیں پڑھنا تو بچوں کا کھیل ہے۔ میں نے ذرا سی کوشش کر کے 850 الفاظ فی منٹ تک کی رفتار بنا لی ہے۔ آپ محنت کر یں اور بہت آگے نکل جائیں۔ سپیڈ ریڈنگ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کم وقت میں دوسروں سے بہت زیادہ پڑھ لیتے ہیں اور پھر بھی وقت بچتا ہے۔ اور سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ جب تک آپ کو پتہ لگتا ہے کہ کتاب کافی بورنگ ہے، کتاب ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات اور پریکٹس کے لیے آپ ایبی مارکس اور پام ملن کی سپیڈ ریڈنگ پر کتاب دیکھ لیں یا سپیڈ ریڈنگ ورک بک پر کام شروع کر دیں یا سب سے بہتر رچرڈ سوٹز (Richard Sutz) کی ”سپیڈ ریڈنگ، احمقوں کے لیے‘‘ (Speed Reading For Dummies) پڑھ ڈالیں۔ یہ ساری کتابیں انٹر نیٹ سے مفت دستیاب ہیں۔
9. پہلا اور آخری باب۔ کوشش کریں کہ کتاب کا (Preface Introduction) یا تعارف اور Conclusion پہلے پڑھ لیں۔ ایسا کرنے سے آپ کا ذہن مصنف کی تخیلاتی حدود کا ناپ لے لے گا اور پھر بیچ کے ابواب سمجھنا آسان ہو جائیں گے اور آپ کو پتہ ہو گا کہ مصنف کدھر جا رہا ہے۔ ہاں، فکشن میں یہ حرکت نہ کریں ورنہ ساری کتاب کا مزہ خراب ہو جائے گا۔
10. مصنف کو جانیں۔ تحریر سے پہلے اگر آپ کچھ دیر کو مصنف کو پڑھ لیں تو تحریر سمجھنا آسان ہو جاتی ہے۔ کہاں پلا بڑھا، کہاں سے تعلیم حاصل کی، کہاں کام کر رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس سے اس کے اچھے یا بُرے تعصب کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے اور معاصرین کا بھی۔

پڑھنے کے نقصانات:
جی ہاں پڑھنے کے ڈھیروں نقصانات بھی ہیں۔ پہلا تو یہ کہ آدمی کو چُپ لگ جاتی ہے۔ بات کرے تو کس سے کرے۔ بولے تو کس سے بولے، کووّں کی کائیں کائیں میں کوئل کی کُوک کون سنے گا، آدمی کو چاہئے کہ کوئی پرندہ یا بلی پال لے تاکہ کم از کم تنہائی کا ڈپریشن تو نہ ہو۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ دوست کم ہونا شروع ہو جائیں گے کہ کسی کو آپ کی باتوں سے اتفاق ہی نہیں ہو گا اور اختلاف کی دلیل لانا تو انہوں نے سیکھا ہی نہیں۔ آپ کتابوں کو ہی دوست بنا لیں۔ تیسرا نقصان کہ لوگ آپ پر طعنے کسیں گے۔ بہتان باندھیں گے، آپ کے مسلک اور فرقے اس رفتار سے بدلیں گے جیسے کپڑے بدل رہے ہوں۔ فکر نہ کریں یہ علم کی زکوٰۃ ہے۔ نکلتی رہنی چاہیے۔ اور سب سے بڑا نقصان یہ کہ آپ جاہل رہ جائیں گے، پتہ چلے گا کہ کیا کیا نہیں معلوم۔
آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے، وقت ملا تو ضرور کچھ تفصیل سے لکھوں گا۔ واصف علی واصفؒ کے شعر پر ختم کرتے ہیں:

معلوم ہے اتنا کہ ہمیں کچھ نہیں معلوم
جانا ہے کہ کیا جانے گا جو جان گیا ہے


ڈاکٹر ذیشان الحسن عثمانی سے رابطہ کے ذرائع:
ویب سائٹ، یوٹیوب چینل اور فیس بُک پیج

اپنا تبصرہ بھیجیں