جاوید عادل سوہاوی کا نعتیہ مجموعہ ’’اسمِ معطر‘‘ – محمد اکبر خان اکبر

جاوید عادل سوہاوی معاصر شعراء میں ایک منفرد مقام کے حامل ہیں. ان کی غزل گوئی اور سخن سرائی کا ایک زمانہ معترف ہے. وہ اعلٰی اور عمدہ شعروں کے تخلیق کار ہی نہیں ایک کہنہ مشق شاعر اور اردو ادب کا آزمودہ کار بھی ہیں. ان کی کتاب ”اسمِ معطر‘‘ خاتم النبیین رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم سے سچے عشق کا ایک معتبر حوالہ ہے. نعت گوئی بلاشبہ ایک عظیم سعادت ہے جو ہر ایک کے حصے میں نہیں آیا کرتی میرے خیال میں یہ وہ خداداد صلاحیت ہے جس کا فیصلہ کہیں اور ہوا کرتا ہے.

عشق نبی ص میں یہ جو تڑپ ہے مکین شوق
گویا متاعِ ارض وسما ہے رہین شوق

نعت و حمد نگاری کسی بھی شاعر کے لیے محض ذریعۂ ستائش و داد خواہی نہیں ہوا کرتا بلکہ ہر شاعر اسے توشہ آخرت تصور کرتا ہے اور عشق رسول اللہ میں ڈوب کر اشعار کہتا چلا جاتا ہے. ان کی نعت نگاری میں جابجا عشق رسول کا رنگ جھلکتا ہے.

ہیں ہر سطر پہ الفاظ سر جھکائے کھڑے
کہ لفظ لفظ بصد احترام لکھا ہے
جو وصف دیکھنے ہوں دیکھے کوئی قرآں سے
انہی کی شان میں سارا کلام لکھا ہے

جاوید عادل سوہاوی الفاظ کے چناؤ میں اعلٰی مقام پر دکھائی دیتے ہیں. ان کے اس نعتیہ مجموعے میں الفاظ مصرعوں میں نگینے کی طرح جڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں.

اب کے محفل جو گاؤں میں ہوگی
نعت تاروں کی چھاؤں میں ہوگی

ان کے الفاظ قلب و نگاہ کو منور ہی نہیں کرتے بلکہ روح کو مہکانے پر بھی قادر ہیں.

کیسے نہ بیت نعت میں خوشبو رچائے حرف
صد برگِ عشق رکھا ہے میں نے بجائے حرف

جاوید عادل کی نعت گوئی سے دینی معاملات و عبادات میں ان کی علمیت و عمیق فہم دین کا گہرا تاثر اُبھرتا ہے.

وہ سلسبیل و کوثر و تسنیم ِخلد سب
مل جائیں تو سمجھنا کہ احسانِ نعت ہیں

شاعر کے اشعار میں استعارات و تشبیہات کا استعمال ان کی بلند نگاہی اور فنی پختگی کا ثبوت ہے.

یہ گنبد پہ ہے جو سنہری ردا
نگینے میں عادل جڑی دھوپ ہے

دل کی تتلی کہ ہے مصروفِ طواف خوشبو
شہ گلہائے جہاں ہیں مرے مکی مدنی

شب کو جب کھینچتا ہے گنبد خضرا کا جمال
چاند خود سبز نگینے میں چلا آتا ہے

جاوید عادل سوہاوی کی نعتیہ شاعری، تقدس، احترام، حد درجہ ادب، توازن، اور حسن بیان سے عبارت ہے. عشق رسول اللہ میں ڈوبے ہوئے شاعر سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ اس کا ہر مصرع حب رسول اللہ کی خوشبو سے مہکتا ہوا ہو، کہ یہی ”اسمِ معطر‘‘ ہے.
یہ امر انتہائی قابل ستائش و قابل تقلید و قابل تعریف ہے کہ جرمنی میں اقامت پذیر عاشق رسول ص لاجواب الفاظ و تراکیب، تلمیحات و استعارات کا ایک خزینہ لیے مدحت خیر الورٰی میں مصروف ہیں. مجھے یقین ہے کہ نبی آخر الزماں ص کی اس مدح سرائی کے طفیل اللہ انہیں مزید عزت و احترام سے نوازے گا اور ان کے لیے ترقی و کامرانی کے نئے راستے ہمیشہ کھولتا رہے گا، انشاء اللہ.
190 صفحات پر مشتمل اس کتاب کو سوہاوی پبلیکیشنز نے اہتمام سے شائع کیا ہے اور اس کا ہدیہ 500 روپے مقرر کیا گیا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں