ممتاز شاعر، طاہرؔ حنفی کا تیسرا مجموعہ کلام ’’خانہ بدوش آنکھیں‘‘ – راشد منصور راشدؔ

پاگل سی ہو رہی ہیں، خانہ بدوش آنکھیں
کیوں جانے رو رہی ہیں، خانہ بدوش آنکھیں
سوچا ہے تجھ کو شب بھر، جاگی ہیں رات ساری
اب تھک کے سو رہی ہیں خانہ بدوش آنکھیں

ان خوبصورت اشعار کے خالق ہیں منفرد لب و لہجہ کے تازہ کار شاعر جناب طاہرؔ حنفی جن کا شعری مجموعہ ’’خانہ بدوش آنکھیں‘‘ حال ہی میں شائع ہوا ہے جو پیارے ماموں جان غضنفر علی بھٹی کی وساطت سے ملا۔ شاعری میرا بھی پسندیدہ مشغلہ رہا ہے اور کبھی کبھی جذبات کی تسکین کے لیے لکھ بھی لیتا ہوں ۔
طاہر حنفی صاحب سے زندگی میں دو چار ملاقاتیں ہوئی ہیں جنہیں عمر اور دیگر معاملات کے باعث صرف سلام و دعا تک ہی محدود رکھا۔ زیر نظر کتاب دیدہ زیب ٹائٹل اور معیاری پرنٹنگ کے ساتھ غزلوں اور نظموں پر مشتمل ہے۔ راقم نے ڈاکٹر ثاقب ندیم کے فلیپ سے لے کرحرف آخر تک پڑھنے کے بعد کتاب سنبھال کر رکھ دی تھی. آج دوبارہ نظر میں آئی تو سوچا کہ اظہار خیال کر کے شاعر کی کاوش پر داد تحسین پیش کیا جائے کہ یہ ان کا حق ہے۔
’’خانہ بدوش آنکھیں‘‘ طاہرؔ حنفی کا تیسرا شعری مجموعہ ہے اس سے قبل ’’شہر نارسا‘‘ اور’’ گونگی ہجرت‘‘ کے نام دو مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں۔
شاعری پر بات کریں تو شاعر نے بلا شبہ خوبصورت انداز میں اشعار کہے ہیں. غزلوں میں ہر مزاج کے قاری کے لیے دلچسپی کا سامان موجود ہے۔ اشعار میں پیغام بھی ہے اور نصیحت بھی، منظر نگاری بھی ہے اور جدیدیت بھی.

بات سن اے چشمِ تر! کچھ ہوش کر
ڈوب جائے گا یہ گھر ، کچھ ہوش کر
خود کشی مسئلے کا حل ہے کیا
بام سے واپس اُتر، کچھ ہوش کر

ایک غزل کے پر کیف اشعار ملاحظہ فرمائیں کہ:

چاروں سمت سے آکر سمیٹ لیتا ہے
نظر کو دشت کا منظر سمیٹ لیتا ہے
رہائی دینے کو پنجرہ جو کھولتا ہوں تو
عجیب پنچھی ہے پر سمیٹ لیتا ہے

ایک اور مقام پرالفاظ کا خوبصورت برتاؤ دیکھیں کہ:

انھیں بھی نیند کہاں ہے ہمیں بھی… خواب کے بعد
وہ شرمسار سے رہتے ہیں ’’اجتناب‘‘ کے بعد
وہی کتاب کہ جس کا تو انتساب ہے دوست
قلم تو بیچ دیا میں نے اس کتاب کے بعد

اور اسی غزل کا مقطع دیکھیں:

ہماری زیست میں آیا نہ آئے گا طاہر!
کوئی حضور سے پہلے ، کوئی جناب کے بعد

ایک غزل کا شعر پڑھتے ہوئے اندر کا ادیب یوں چونک اٹھا کہ جیسے یہ ہمارے بارے کہا گیا ہو:

اک روز اس زمانے کا ہوتا بڑا ادیب
جس نوجوان شخص کو فکرِ معاش ہے

غزلیات کے ساتھ ساتھ قطعات میں بھی الفاظ کا جادو جگاتے دکھائی دیتے ہیں:

کوئی موتی نکلنا چاہتا ہے
کہیں پر سیپ کوئی کھِل گئی ہے
مجھے کاغذ کی اِک کشتی بنا دو
سمندر سے اجازت مل گئی ہے

٭٭٭

ہم پہ تہمت نہ کوئی بھی کرے
زندگی ہو بس اصولوں میں
ہجر میں عارضی بھی مت کرنا
الجھے رہتے ہیں پاؤں پھولوں میں

چند مزید شعری نمونے ملاحظہ فرمائیں کہ:

چیر ڈالا گیا پہلے بے گناہ مجھے
مرے وجود کا چنتے ہیں اب برادہ لوگ

٭٭٭

آغاز تو ہوا تھا بڑی شد و مد کے ساتھ
لیکن کوئی کہانی بھی پوری نہ ہو سکی

٭٭٭

رتجگے آنکھ میں اُترے ہیں
آنکھ اب رتجگوں میں رہتی ہے

٭٭٭

پھر معافی کا ملا موقع تجھے
زندگی میں پھر نئی ترمیم کر

٭٭٭

یہ کس نے چاندنی کو سمیٹا ہے آنکھ میں
یہ کس نے سارے شہر کی بینائی چھین لی

٭٭٭

اس گاؤں کو میں چھوڑ کے کیسے چلا جاؤں
جس گاؤں کی مٹی مری پوشاک رہی ہے

کورونا وبا نے جہاں عام لوگوں کو ذہنی و جسمانی طور پر متاثر کیا ہے وہاں شاعر و ادیب بھی اپنی تحاریر میں اس کا ذکر کیے بغیر نہ رہ سکے. سو طاہر حنفی نے بھی اس وبا کے اثر کو شاعری کا حصہ بناتے ہوئے چودہ اشعار لکھ ڈالے…

تمام عمر کا دُکھ تھا وبا کے موسم میں
میں اس لیے بھی تھا رویا وبا کے موسم میں
کل آسمان جو چیخا وبا کے موسم میں
سبھی نے راستہ بدلا وبا کے موسم میں

مزید لکھتے ہیں کہ:

مری خطاؤں کو مالک مرا معاف کرے
دعا کو ہاتھ اٹھایا وبا کے موسم میں
نہ امتحاں پہ اب امتحاں لے مولا
کہ سجدہ ریز ہے دُنیا وبا کے موسم میں

زیر نظر کتاب میں گو روایتی انداز میں آغاز حمد و نعت سے نہیں کیا گیا مگر غزلوں میں حمدیہ اشعار پڑھنے کو ملتے ہیں:

مجھ پہ کرم کی خالق ، بس اک نگاہ کر دے
سجدے میں میرے مالک، کب سے جھکا ہوا ہوں

٭٭٭

اس کی عطا سے مجھ کو سارا ہنر ملا ہے
طاہرؔ! ثنا گر اس کا پھر سے بنا ہوا ہوں

٭٭٭

درِ رسولؐ پر جھکا ہوا ہوں پھر سے کبریا!
عطا ہو خاک زار کو ترے حبیب کا چراغ

کتاب کی آخری غزل کا مطلع اپنی مرحومہ اہلیہ کے نام لکھتے ہیں:

تا عمر یہ آنکھ اس لیے نمناک رہی ہے
ہم خاک رہے ہیں ، وہ تہِ خاک رہی ہے

محترم طاہرؔ حنفی نے نثری اور آزاد نظم میں بھی خوب طبع آزمائی کی ہے. غزل کے علاوہ نظم کی صنف میں بھی ان کا قلم خوب چلتا ہے. ممکن ہے کہ ان کا کوئی آنے والا مجموعہ صرف نظموں پر مشتمل ہواور قارئین نئی جہتوں سے متعارف ہوں۔
آخر میں لکھاری نے ’’قرضِ دوستاں‘‘ کے عنوان سے اپنے اُن مہربانوں کا نام لے کر شکریہ ادا کیا ہے کہ جو دورِ کرونائی میں ان کے خیر خواہ اور مسلسل رابطہ میں رہ کر دعا گو رہے ہیں۔ یہ اپنے چاہنے والوں سے محبت کا اچھا انداز ہے کہ انھیں تحریر میں سمو کر کسی کتاب کا حصہ بنا کر ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا جائے۔
آخر میں اللہ رب العزت کے حضور دعا ہے کہ وہ طاہرؔ حنفی صاحب کو صحت تن درستی، ایمان کی سلامتی، سکونِ قلبی اور وسیع النظری عطا فرمائے کہ وہ اپنی تحریری کاوشوں سے یوں ہی ادب کی خدمت کرتے رہیں (آمین)


طاہرؔ حنفی 26 نومبر 1955ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے. زمانہ طالب علمی سے شاعری اور ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے. 1974ء میں عملی صحافت کا اغاز کیا اور روزنامہ جنگ اور نواۓ وقت کے علاوہ خبر رساں ادارے پی پی آئی سے منسلک رہے. 1983ء میں قومی اسمبلی کے شعبہ تحقیق و تعلقات عامہ میں بطور ریسرچ افسر ملازمت اختیار کی. آپ پنجاب یونیورسٹی لاہور، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد، ایشیا پیسفک کالج فار سیکورٹی سٹدیز ہونولو ہوائی امریکہ اور بر منگھم یونیورسٹی برطانیہ سے فارغ التحصیل ہیں. سرکاری فرائض کی انجام دہی، حصول علم اور پارلیمانی امور کے بین الاقوامی تربیتی سہولت کار کی حیثیت سے دنیا کے پانچوں براعظموں کا دورہ کر چکے ہیں. 2015ء میں ایڈ یشنل سیکرٹری کی حیثیت سے قومی اسمبلی سے ریٹائر ہوئے. ”شہر نارسا‘‘ کے نام سے ان کا پہلا شعری مجموعہ کلام اپریل 2014ء میں شائع ہوا جس کا دوسرا ایڈیشن صرف دوماہ بعد جون 2014ء میں چھپا اور پاکستان برطانیہ اور امریکہ کے 22 شہروں میں ”شہر نارسا‘‘ کی تقاریب پزیرائی منعقد ہوئیں. دوسرا شعری مجموعہ ”گونگی ہجرت‘‘ ستمبر 2019ء میں شائع ہوا جس کی امریکہ کی چھ ریاستوں اور اسلام آباد میں منعقدہ تقاریب پزیرائی میں ”گونگی ہجرت‘‘ کو شعری ادب میں ایک گراں قدر اضافہ قرار دیتے ہوئے ادبی حلقوں میں بہت سراہا گیا. آپ کا تیسرا شعری مجموعہ ”خانہ بدوش آنکھیں‘‘ اکتوبر 2020ء میں شائع ہوا جسے ملک اور بیرون پاکستان ادبی اور ثقافتی حلقوں میں پزیرائی حاصل ہو رہی ہے. طاہرؔ حنفی آج کل اپنا بیشتر وقت قومی اسمبلی کی 32 سالہ ملازمت میں قومی پارلیمانی تاریخ کے مد وجزر کے ایک عینی شاہد کی حیثیت سے اپنی یادداشتوں کو انگریزی زبان میں ترتیب دینے میں صرف کر رہے ہیں. آپ پارلیمانی امور پر بین الاقوامی سہولت کاری میں پارلیمانی نگرانی اور بہتر طرز حکومت کے مسلمہ ماہر مانے جاتے ہیں اور مختلف ملکی و غیر ملکی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے مستقل کالم نگار اور تجزیہ کار بھی ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں