ڈاکٹر اعجاز فاروق اکرم کی تصنیف ”قولِ مبین‘‘ – محمد اکبر خان اکبر

رمضان وہ مہینہ ہے کہ جس میں قرآن حکیم نازل ہوا. قرآن مجید دنیا کے تما لوگوں کے لیے راہِ ہدایت ہے. یہی حق و باطل میں فرق سکھاتا ہے اور یہی سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے.
اقبال کہنےہیں:

گر تو می خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جز بہ قرآن زیستن

اللہ کے کلام کی تفہیم و تدریس موجب ثواب اور توشہ آخرت ہے. ڈاکٹر اعجاز فارق اکرم صاحب کو اللہ تعالیٰ نے یہ مقام دے رکھا ہے کہ وہ قرآن کے معانی و مفاہیم عام کرنے والوں میں شامل ہیں.
”این سعادت بزور بازو نیست‘‘
یقیناً ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہوتا ہے جن کو وہ اپنے کلام کی تدریس و تعلیم کے لیے منتخب فرما لیتا ہے. ان کی کتاب ”قولِ مبین‘‘، قرآن حکیم اور ہماری زندگی کے سلسلے میں ریڈیو پاکستان پر نشر کی گئی تقاریر پر مبنی ہے. وہ اپنی کتاب کے ابتدائیہ میں لکھتے ہیں:
”ان تحاریر و تصانیف کا بنیادی محرک ریڈیو پاکستان ہے جس کے دنیا بھر میں سنے جانے والے معروف و مقبول قومی پروگرام ”حی علی الفلاح‘‘ کے سلسلے میں ”قرآن حکیم اور ہماری زندگی‘‘ میں یہ تحاریر ہوا کے دوش پر منتقل ہوکر لاکھوں افراد کی سماعتوں تک پہنچیں.‘‘
ڈاکٹر اعجاز فاروق اکرم صاحب کی ایک سال کے عرصے میں شایع ہونے والی اس سلسلے کی یہ پانچویں کتاب ہے. ان کی اس کتاب میں قرآن مجید کی کئی سورتوں کی توضیح و تشریح شامل ہے، جس میں نہایت وضاحت سے انہوں نے سورۃ میں بیان کردہ مضامین کی تفہیم فرمائی ہے.
اس کتاب میں سورۃ البقرہ، سورۃ آل عمران، سورۃ النساء، سورۃ المائدہ اور سورۃ الانعام میں بیان کردہ مضامین، احکامات، اور ہدایات کو آسان الفاظ میں تحریر کیا ہے.
اس کتاب کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ ہر باب کے آخر میں تمام آیات کے مضامین کا خلاصہ ترتیب وار رقم کیا گیا ہے. میری دانست میں اگر باب کے اس حصے کو ہی پڑھ لیا جائے تو اس باب میں بیان کردہ تمام مضامین سے آگاہی ہو جاتی ہے کہ جس کی تفصیلات باب میں درج کی گئی ہیں. ڈاکٹر صاحب کا کام بلاشبہ انتہائی اہم اور قابل صد تحسین و ستائش ہے کی وہ اپنی گوناگوں مصروفیات سے وقت نکال کر تصنیف و تالیف میں بھی ایک سے بڑھ کر ایک گوہر آبدار تراشتے رہتے ہیں. ان کی یہ کتاب 400 صفحات پر مشتمل ہے جس کی طباعت اعلیٰ معیار کی ہے اور اس کتاب کو شائع کرنے کا سہرا ”مثال پبلشرز، فیصل آباد‘‘ کے سر ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں