فخرالدین کیفی کی ”تک بندیاں‘‘ – ندیم عالم وہرہ

”تک بندیاں‘‘ ہمیں موصول ہونے والی کتابوں میں سے، سب سے زیادہ قیمتی ہے، جی ہاں قیمتی سے مراد مہنگی ہی ہے. کتاب کی طبع شدہ قیمت مبلغ پندرہ صد روپے، نصف جس کا ساڑھے سات صد روپے، ہے. کتابوں سے عدم دلچسپی کے اس دور میں اس قدر مہنگی کتاب چھاپنا بالیقیں حیران کن حرکت ہے. لیکن جو شخص اپنے کلام کو خود ہی ”تک بندیاں‘‘ قرار دے، اس سے کچھ بھی بعید نہیں.
کتاب انتہائی اعلیٰ معیار کی طبع شدہ ہے، روغنی کاغذ، چار رنگوں کی پرنٹنگ، رنگین تصاویر، سب قابل تعریف اور حیران کن. چار رنگوں والی پرنٹنگ ہم نے صرف ٹائٹل کور کی حد تک دیکھی تھی. اس کتاب کا مواد بھی چار حصوں میں چار مختلف رنگوں پر مشتمل ہے.
کیفی محترم خود اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہیں. بات کہنے کا جذبہ انہیں چین سے نہیں بیٹھنے دیتا. کتاب پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قاری مصنف کے پاس بیٹھا گپ شپ کر رہا ہو. موضوعات کا تنوع، سلیس انداز اور بے تکلفانہ کلام… قاری کی توجہ ہٹنے نہیں دیتا.
محترم فخرالدین کیفی نے شاید حفظ ماتقدم کے طور پر یا حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کلام کو تک بندیاں قرار دیا ہے. ان کی اس کامیاب کوشش کے سبب فائدہ تو انہیں یہ حاصل ہوا کہ ان کے کلام پر فن کے حوالے سے تنقید کا باب بند ہو گیا، لیکن اس کا ایک نقصان بھی ہے کہ قاری کی سنجیدگی میں ایک حد تک کمی واقع ہو گئی. اگرچہ شاعر موصوف ، موضوعات کے تنوع سے قاری کو متوجہ کیے رکھتے ہیں. چوں کہ مصنف عمدہ حسِ مزاح کے مالک ہیں لہٰذا اپنے کلام کو دلچسپ بنانے میں انہیں کوئی دقت نہیں ہوتی. کتاب کے ابتدائی نثری حصے میں، مصنف نے دس مختلف موضوعات کے تحت تک بندیوں کی تعریف، وجوہات، کتاب کی طباعت کی ابتدائی صورت حال اور دوستوں کے رویوں پر اظہار خیال کیا ہے. مصنف تُک بندی کی وجوہات بتانے میں کافی حد تک کامیاب رہے اور یہ حصہ ثابت کرتا ہے کہ مصنف نہایت عمدہ نثر نگار بھی ہیں. مصنف کا یہ کہنا ہے کہ بہت سارے موضوعات محض فنِ شاعری یعنی عروض پر دسترس نہ ہونے کے سبب ناگفتہ رہ جاتے ہیں. تو اس کا حل یہ نکالا کہ تک بندی کی جائز آڑ لیتے ہؤئے وہ سب بھی کہہ دیا جائے. آزاد اور نثری نظم کے اس دور میں یہ دلیل باوزن محسوس ہوتی ہے.
کتاب میں چھ اہل علم افراد کے مضامین شامل ہیں اور سب ہی اس بات پر متفق کہ مصنف میں ایک اچھا شاعر بننے کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں.
مصنف کی ادبی تخلیقی توانائیاں کتاب میں پوری خوبی کے ساتھ جلوہ گر ہیں. ایک ہوش مند شہری کی طرح آپ بھی ہر موضوع پر بات کرتے نظر آتے ہیں. حالاتِ حاضرہ ہوں، سیاست، مذہب یا سماجیات، شاعر موصوف ہر موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں اور حق ادا کرتے ہیں.
”تک بندیاں‘‘، اس سادہ اور بے تکلف نام نے ہمیں خوب زچ کیا. کتاب کھولنے سے پہلے یہ ذہن بن چکا تھا کہ ہلکی پھلکی بے تکی سی شاعری ہو گی. پڑھ کر کچھ ریلیکس ہو جائیں گے. لیکن کتاب کھولنے پر علم ہوا کہ نام تو صرف کیموفلاج ہے. جیسے فوج میں ہوتا ہے. پتا ہی نہیں چلتا کہ جھاڑ جھنکاڑ میں کیسے مہلک اسلحہ سے لیس ٹینک چھپا ہوا ہے.
”تک بندیاں‘‘ اگرچہ پہلی نظر میں ہلکی پھلکی تفریحی کتاب ہی لگتی ہے، جس میں کچھ کالم نما مضامین، غزلیں، سہ مصرعیاں، قطعے اور مفرد اشعار شامل ہیں. لیکن تنقیدی نظر سے جائزہ لینے پر صورت حال مختلف نظر آتی ہے. سب سے اہم بات جو توجہ حاصل کرتی ہے، وہ موضوعات کا تنوع ہے. شاعر کی تخلیقی توانائی قابل تعریف ہے. آپ ہر قابل ذکر موضوع پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں اور صاف نظر ٓآتا ہے کہ شاعر کی حساسیت اسے یہ سب کہنے پر اکساتی ہے.
سماجی، سیاسی، مذہبی، مسلکی، غرض ہر طرح کے رویوں کا تذکرہ کتاب میں موجود ہے. اگرچہ ان تمام موضوعات کا تعلق ذاتی ذوق اور پسند سے ہے، لیکن مصنف جس پہلو سے یہ تمام موضوعات زیرِ بحث لاتے ہیں اس سے موصوف کی طبع سلیم اور ذوقِ لطیف کا خوب اندازہ ہوتا ہے. مصنف نہایت ذہانت سےدرپیش صورتِ حال کا نہ صرف تجزیہ کرتے ہیں بلکہ اتنی ہی خوبصورتی سے بیان بھی کرتے ہیں.
طنز اور مزاح کا پیرایہ اختیار کرنا بظاہر آسان نظر آتا ہے، لیکن یہ کام آسان نہیں ہے. نہ یہ ہر کسی کے بس کی بات ہے. سنجیدہ اور اہم موضوعات کو اس طرح بیان کرنا کہ قاری کے مزاج پر بوجھ بھی نہ ہو اور بات بھی پہنچ جائے، مصنف اس کوشش میں کامیاب نظر آتے ہیں.
یاد رہے ”تک بندیاں‘‘ کے مصنف پہلے ہی شاعری کے فنی پہلو سے اپنی ناواقفیت کا اعتراف کرچکے ہیں. لیکن ان کی شاعری میں واضح طور پر ایک شاعر کو چھپا ہوا دیکھا جا سکتا ہے. متعدد اشعار، شاعری کے فنی قوانین پر پورے بھی اترتے ہیں.
شاعری کا نمونہ ملاحظہ کیجیے:

زبان پتھر کو حاصل ہے، شجر خاموش بیٹھے ہیں
لبِ اظہار رکھتے ہیں، مگر خاموش بیٹھے ہیں
منافق ہی منافق ہیں جہاں تک دیکھ سکتا ہوں
کہ آیا وقت کہنے کا، مگر خاموش بیٹھے ہیں

جو ہو سکے تو آج ہر اک بات بھلا دوں
گذرے تھے تیرے ساتھ جو لمحات بھلا دوں
خلوت ہو یا جلوت ہو میرے پاس رہے تو
ممکن ہو تو ایسے خیالات بھلادوں
تجھ کو، تیرے غم کو، تیری ہر ایک ادا کو
تڑپاتی ہے جو بات، وہ ہر بات بھلا دوں
مجھ کو ہی نہیں، دل کو میرے، روح کو میری
بے چین جو کرتے ہیں وہ حالات بھلا دوں
جس رات کو دیدار، مجھے، تیرا ہوا تھا
بس میں جو میرے ہو تو وہ رات بھلا دوں
روتا ہوں جن کو دیکھ کر دن رات مسلسل
کوشش تو بہت ہے وہ نشانات مٹا دوں
کیسے ہو، کہا ں ہو، اب کب آؤ گے کیفیؔ
کرتے تھے وہ مجھ سے یہ سوالات بھلا دوں

مصنف سے فیس بک پر دوستی کا ایک بڑا سبب ان کی ابنِ صفی سے متعلق ایک تحریر تھی، چوں کہ ہم بھی یہ رائے رکھتے ہیں کہ ابنِ صفی کو اگرچہ جاسوسی ناول نگار کے طور پر غیر معمول پذیرائی اور شہرت ملی لیکن بطور ادیب اور نثر نگار، ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا، ان کی تحریریں نثری ادب کے تمام معروف محاسن سے بھرپور ہوتی تھیں. اس پر ہم الگ سے کچھ لکھیں گے. فی الحال تو ”تک بندیاں‘‘ زیرِ گفتگو ہے. کوئی بھی علمی و ادبی کاوش ایسی نہیں ہوتی کہ جس میں بہتری کی گنجائش نہ ہو، سو ”تک بندیاں‘‘ پر اس زاویے سے بھی گفتگو ہو سکتی ہے.
مصنف کی علمی قابلیت، موضوعات پر نظر، گفتگو کا سلیقہ، تحریر کا اسلوب، الفاظ کا انتخاب اور استعمال میں مہارت، اس بات کا متقاضی ہے کہ آپ نسبتاً بردبار اندازِ تحریر اپنائیں، یہاں بردباری سے ہماری مراد روکھا پھیکا اور غیر مزاحیہ رویہ نہیں ہے، بلکہ ایسا پرمزاح اور خوش گوار انداز ہے جس میں ادب کی چاشنی موجود ہو. کتاب کے مطالعہ کے دوران بعض مقامات پر سطحی موضوعات بھی نظر آئے جس سے کتاب کے معیار پر کچھ فرق ضرور پڑا. بعض سنجیدہ طبع قارئین پر مسلسل غیر سنجیدگی گراں بھی گزرتی ہے. یہاں ہم غیر سنجیدگی اور مزاح کا فرق، مصنف کے ذہنِ رسا پر چھوڑتے ہؤئے آگے چلتے ہیں.
عاجزانہ مشورہ یہ ہے کہ کتاب کی طباعت اس قدر مہنگی کروانے کی ہرگز ضرورت نہ تھی . یہ کتاب نصف خرچ پر چھپتی اور تعداد میں زیادہ ہوتی تو بھی اچھی خاصی معیاری ہوتی اور زیادہ قارئین تک پہنچ پاتی.
موصوف نثر بہت اچھی لکھتے ہیں. یقیناً وہ نثر پر بھی بہت اچھی گرفت رکھتے ہیں اور اپنے مخصوص بے تکلفانہ انداز میں روانی سے گفتگو کرتے ہوئے، ثقیل الفاظ کے غیر ضروری استعمال سے اجتناب کرتے ہوئے بہت آسانی سے اپنا مدعا بیان کرتے ہیں.
اختتام پریہی کہنا مناسب ہو گا کہ ”تک بندیاں‘‘ کتابوں کے ذخیرے میں ایک اچھا اضافہ ہے اور کتاب اس قابل ہے کہ اس کا توجہ سے مطالعہ کیا جائے. اس میں کوئی شک نہیں کہ کتاب میں موجود مواد کے موضوعات میں اس قدر تنوع ہے کہ مثالیں پیش کرنے کے لیے کلام کا انتخاب مشکل ہو جاتا.
اللہ موصوف کو ہمت دے اور وہ اسی طرح ادبی میدان میں کامیابیاں حاصل کرتے رہیں، آمین.

اپنا تبصرہ بھیجیں