انکل سرگم، ماسی مصیبتے کو یاد کیسے رکھیں؟ – ہارون رشید

تین نسلوں کو اپنے فن سے متاثر کرنے والے انکل سرگم یا فاروق قیصر خاموشی سے دل کی بات دل میں لے کر گذشتہ روز چلے گئے۔ مردوں کے اکثریتی معاشرے میں تمام میڈیا میں انکل سرگم ان کے تعارف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے لیکن ماسی مصیبتے کا کوئی زیادہ ذکر نہیں۔
انسان تو فانی ہے لیکن جو وہ کر جاتا ہے وہ دائمی ہوسکتا ہے۔ اور اگر وہ کام غموں کو دور بھگائے اور قہقہے لگوائے تو کیا ہی بات ہے۔ اپنے ایک آخری انٹرویوں میں سے ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے غم یا اداسی کیسے بھلاتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ بچوں کی کتابیں پڑھنا شروع کر دیتے ہیں جن میں بقول ان کے معصومیت ہوتی ہے۔ ’ہم میں معصومیت کی کمی ہے۔ معصومیت کبھی نہیں کھونی چاہیے۔‘

اپنے منفرد کرداروں انکل سرگم اور ماسی مصیبتے رہیں گے چاہیے انہیں تخلیق کرنے والا نہ رہے۔ لیکن آج سے دس گیارہ سال پہلے فاروق قیصر کو فکر ضرور لاحق ہوئی کہ ان کے جانے کے بعد ان کے کردار بھی کہیں فنا نہ ہو جائیں۔ انہوں نے نواز شریف اور بےنظیر جب وہ اقتدار کی کرسی پر براجمان تھے، لکھا کہ ان دو کرداروں کے لیے کچھ کریں لیکن جیسا کہ ہوتا ہے شاید کوئی نالی یا گلی پکی کروانی ہوتی جس کے بدلے ووٹ مل سکتے تھے تو فوراً شاید ہو جاتا لیکن کچھ نہیں ہوا۔ بلاآخر اس وقت کے گورنر پنجاب خالد مقبول نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے انتظامی ادارے، سی ڈی اے کو لکھا تو فاروق قیصر کی رہائش گاہ کے قریب ایک چھوٹے سے پارک میں دونوں کے فائبر گلاس کے بنے بڑے مجسمے نصب کر دیئے گئے۔ دونوں کی حالت کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔
مئی کے تیز دھوپ میں دونوں کے رنگ اڑ چکے ہیں اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہیں۔ یہ نہیں معلوم کہ اس مجسمے نصب کرنے کے لیے یہ کونہ کیوں منتخب کیا گیا۔ شاید فاورق قیصر کی رہائش گاہ اس فیصلے کی بڑی بنیاد تھی۔ لیکن نہ تو اس پارک کو جانے والی کسی سڑک گلی میں ان مجمسوں کا کوئی ذکر ہے۔ پارک کی تلاش مشکل سے ہوسکتی ہے۔ میں بھی دوسری مرتبہ گیا پھر بھی راستہ بھول گیا لیکن اندزے پر بلآخر پہنچ گیا۔
ایف الیون ٹو کے اس پارک کے باہر بھی اس پارک کو انکل سرگم کا نام دینے یا تعارف کروانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ پارک کے گیٹ پر تالہ پڑا ہے تاہم ادھر ادھر سے داخل ہوا جاسکتا ہے۔
ماسی مصیبتے کے نام کے چناؤ پر بھی بعض فیمنسٹوں کو شکایت ہوسکتی ہے۔ یہاں شاید مرحوم نے متوازن فیصلہ نہیں کیا۔ کہاں انکل سرگم اور کہاں ماسی مصیبتے کا نام۔ ان سے پوچھا گیا کہ ان دونوں میں سے بڑا کون کو چھوٹا کون تو فاروق قیصر کا جواب تھا کہ انکل سرگم پہلے بنے تھے لیے وہ بڑے ہیں۔ ’اکیلا تھا آغاز میں تو خود ہی کردار ادا کرنا تھا تو مرد کا ہی بنا سکتا تھا۔‘
انکل سرگم دراصل ان کے رومانیہ میں گرافک آرٹ کی تعلیم کے دوران ایک استاد تھے، موہن لعل یہ کردار انہوں نے ہوبہو اسے دیکھ کر بنایا۔ جنوری 1976ء میں اس کی تخلیق کی گئی۔
’میں نے انہیں شکل بنا کر تصویر بھیجی تو انہوں نے کہا یہ کن کاموں میں لگ گئے ہو۔‘ اسے پروفیسر کا نام دیا تھا لیکن پی ٹی وی والوں نے کہا اچھا نہیں لگتا تو اسے انکل میں تبدیل کر دیا تھا۔ ماسی ان سے ایک سال چھوٹی ہیں۔ اس سال پی ٹی وی میں رنگین پروگرام شروع ہوئے تھے اور میرے جیسے بچوں کے لیے ان کرداروں کو اصل رنگوں میں دیکھنا یقینا ایک اپنا ہی لطف رکھتا تھا۔ وہ تصاویر اب بھی کہیں نہ کہیں دماغ کے کونے کھدرے میں پھنسی ہیں۔
صبح نو بجے کا وقت تھا لہٰذا فاروق قیصر کے گھر کے باہر کوئی موجود نہیں تھا۔ تاہم ایک شخص تعزیت کے لیے آنے والوں کے لیے لگے تمبو پر سے رات بھر بارش سے بھرا پانی گرانے میں مصروف تھا۔ پوچھا کوئی جاگا ہے؟ کہا نہیں ابھی سب سو رہے ہیں۔
اب فاروق قیصر نہیں رہے تو ان کے ان دو کرداروں کو اس پارک میں اکیلے پن سے پچانے کی ضرورت ہے۔ ان کا پتہ کچھ عام کرنے کی ضرورت ہے۔ انٹرنیٹ کی نئی نسل کو ان سے روشناس کروانے کی ضرورت ہے۔ ان کا نصیحت کا پیغام ہنسی ہنسی میں زیادہ پھیلانے کی ضرورت ہے۔ باہر کے کرداروں کی بجائے اپنوں کو اپنایت کا احساس دلانے کی اشد ضرورت ہے۔

(انڈپینڈنٹ اُردو)

اپنا تبصرہ بھیجیں