تابش دہلوی: شخصیت اور فن – محمد اکبر خان اکبر

اکادمی ادبیات پاکستان نے ”پاکستانی ادب کے معمار‘‘ کے نام سے ایک اشاعتی سلسلہ شروع کر رکھا ہے. چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان جناب ڈاکٹر یوسف خشک لکھتے ہیں ”اس سلسلے کا بنیادی مقصد پاکستانی زبانوں کے اہم لکھنے والوں کی خدمات کا اعتراف کرنے کے ساتھ ساتھ ادب کے قارئین، محققین، ناقدین اور طالب علموں کو ان ادبی شخصیات کے متعلق بنیادی تحقیقی و تنقیدی مواد فراہم کرنا بھی ہے یوں اس سلسلے کی کتابوں کی نوعیت جہاں تعارفی ہے وہیں تحقیقی و تنقیدی بھی ہے.‘‘
اسی تحقیقی و تنقیدی سلسلے کی 143 ویں کتاب ”تابش دہلوی: شخصیت اور فن‘‘ گلگت بلتستان کے خوبصورت علاقے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جابر حسین نے تحریر کی ہے. ڈاکٹر جابر حسین نے نہایت محنت سے یہ کتاب لکھ کر تحقیق کا حق ادا کر دیا ہے.
کتاب کو سات حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے. پہلا حصہ تابش دہلوی کے حالاتِ زندگی سے متعلق ہے جس میں ان کے خاندانی پس منظر، حلیہ ازدواجی زندگی، شاعری کا آغاز اور تصانیف کا تذکرہ ہے.
ڈاکٹر جابر حسین نے تحقیق کے اصولوں کو خوب برتا ہے. ان کی تحریر سے واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے ایک ایک لفظ باقاعدہ تحقیق کے بعد تحریر کیا ہے. کتاب کا دوسرا حصہ محترم تابش دہلوی کے اساتذہ فن اور حلقہ احباب اور معاصرین کے دل چسپ تذکرے پر محیط ہے. اس حصے میں بھی تحقیقی رنگ نمایاں ہے. معاصرین کے تذکرے کو انہوں نے نہایت جامعیت سے رقم کیا ہے اور یوں بلاوجہ کی طوالت سے یہ حصہ مکمل طور پر پاک ہے.
کتاب کے اگلے حصے میں تابش دہلوی کی غزل گوئی کو زیر بحث لایا گیا ہے اور ان کے طبع شدہ تینوں مجموعہ ہائے غزل کا تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے. اسی حصے میں تابش دہلوی کی غزلیات کا فکری و فنی جائزہ بھی نہایت محنت سے ضبطِ تحریر میں لایا گیا ہے. ڈاکٹر جابر حسین لکھتے ہیں کہ:
”فنی اعتبار سے تابش دہلوی کی غزلیں متعدد فنی محاسن کی حامل ہیں… فن کے معائب و محاسن سے انہیں دقیق آشنائی تھی.‘‘
چوتھا جُز تابش دہلوی کی نظم نگاری کا تحقیقی مطالعہ پیش کرتا ہے جہاں سطر سطر پر ڈاکٹر ذاکر حسین تحقیق کا حق ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں.
کتاب کے دیگر حصوں میں تابش دہلوی کی مذہبی شاعری، ان کی مرقع نثر کو موضوع تحقیق بنایا گیا ہے. تابش دہلوی کے کلام سے انتخاب تابش دہلوی کے نام چند خطوط اور تابش دہلوی مشاہیر ادب کی نظر میں بھی کتاب کا حصہ ہیں.
آخر میں تابش دہلوی کی دو تصاویر بھی شامل اشاعت کی گئی ہیں. اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے شائع شدہ یہ کتاب اعلٰی طباعتی معیار کی حامل ہے. ڈاکٹر جابر حسین کو تحقیقی و تنقیدی مقالات لکھنے میں مہارت حاصل ہے. ایک اور اعلٰی تحقیقی کارنامے پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں