معروف و مقبول افسانہ نگار، ناول نویس، مترجم، نقاد اور تجزیہ نگار خالد فتح محمد

خالد فتح محمد معروف و مقبول پاکستانی افسانہ نگار، ناول نویس، مترجم، نقاد، تجزیہ نگار ہیں اور غیر معمولی سماجی مشاہدے کی کہانیاں لکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کا خاندان گورداس پور مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے ضلع گوجرانوالہ کے ایک گاؤں میں آباد ہوا۔ گورنمنٹ کالج، گوجرانوالہ میں زیر تعلیم تھے کہ عساکر پاکستان میں ملازمت کے لیے منتخب ہوئے۔ ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد 1993ء میں لکھنے کا آغاز کیا۔ اب تک ان کے آٹھ طبع زاد ناول، پانچ افسانوی مجموعے اور چار تراجم چھپ چکے ہیں۔ خالد فتح محمد کے افسانے تجزیاتی مطالعے اور تنقیدی مضامین اردو کے موقر جرائد میں چھپتے ہیں۔ ایک ادبی پرچے ”ادراک‘‘ کے مدیر رہے ہیں جس کا شمار اہم ادبی پرچوں میں ہوتا رہا۔

خالد فتح محمد صاحب کی تین کتابیں ”خلیج‘‘ (ناول)، ”آئینے سے باہر چہرہ‘‘ (افسانے) اور ”اے عشق بلاخیز‘‘ (ناول) جُمہوری پبلیکیشنز کے تحت شائع ہو چکے ہیں۔

علاوہ ازیں آپ اسی ادارے کے لیے مایہ ناز ترک ادیب اورحان کمال (Orhan Kemal) کے چار ناولوں ”باپ کا گھر‘‘، ”بیکار کے مہ و سال‘‘، ”جمیلہ‘‘ اور ”بیرک 72 کے قیدی‘‘ کے بے مثال تراجم بھی کر چکے ہیں۔
اس ویڈیو میں خالد فتح محمد صاحب نے جُمہوری پبلیکیشنز سے برسوں پر محیط اپنی وابستگی، ادارے کے چیف ایگزیکٹو فرخ سہیل گوئندی صاحب سے اپنے دیرینہ تعلق، کتابوں کی اشاعت اور تراجم کے تجربے کے متعلق کچھ گفتگو کی ہے جس میں قارئین اور ناظرین کو شامل کیا جا رہا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں