حوروں کے مسکن میں مشرق کا ہیرا – محمد اکبر خان اکبر

ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب سے پہلی شناسائی ان کی حیرت انگیز اور تحیر خیز خودنوشت سوانح عمری ”فرشتے کی ایف آئی آر‘‘ کی بدولت ہوئی. میں اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ مجھے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا. ان کی معیت میں گزرے لمحات میرے زندگی کا انمول اثاثہ ہیں.
انہی لمحاتِ زریں کی ایک یاد آنے والی مزید کتابوں کا مختصر تذکرہ ہے. بعد ازاں فون پر انہوں نے کتاب کے منفرد نام سے آگاہ کیا، جو ان کی دل چسپ تحریروں کا خوب صورت گلدستہ ہے. ان کا اسلوب نگارش سلاست اور بے ساختگی کے ساتھ ساتھ دل کو چھو لینے والا ہے.
کتاب ”مشرق کا موتی، حوروں کا مسکن‘‘ دل لبھانے والا اچھوتا نام ہے.
دمشق کی سیر میں ایک اجبنی سے ملاقات اور اتفاقیہ طور پر اُس کے بھائی کی مصنف سے شناسائی دلچسپی کے بیشتر رنگ سموئے ہوئے ہے. دجلہ کی پری سفرنامے سے زیادہ ایک سچی محبت کی داستان ہے جس کے ایک ایک لفظ میں اس پاکیزہ جذبے کی خوشبو رچی بسی ہے. اس تحیر خیز آپ بیتی میں عشق پرورگھُلاوٹ اور عشوہ پرداز سجاوٹ کا حسین ترین امتزاج ہے. اس کتاب کا غالباً سب سے بہترین حصہ یہی ہے جو مصنف کے جذبات، احساسات اور تاثرات سے مزین ہے.
دجلہ کی پری ایک ایسی داستان ہے جو زیستِ انسانی کے سب سے لطیف جذبے کی غضب کیفیات سے عبارت ہے. مصنف اور لبنیٰ کرد کی اس کہانی کا آغاز عراق کے ایک چوراہے سے ہوتا ہے جو ایران کے کوہساروں، فارس کے سبزہ زاروں اور عرب امارات کے ریگزاروں سے ہوتی ہوئی ایک دل خراش انداز میں اختتام پذیر ہوتی ہے.
”دلی کی سیر کے سترہ دن بھی‘‘ چند چونکا دینے والے واقعات کی حامل تحریر ہے، البتہ اندازِ بیان عمومی اور قدرے خشک معلوم ہوتا ہے. ”قبر کی فریاد‘‘ ایک دل گداز داستان اور مکافات عمل کی سچی تصویر کشی کرتی تحریر ہے جو فاضل مصنف نے عمدہ انداز میں قلم بند کی ہے. ”بنگو مر گیا‘‘ اشرف المخلوقات کی کج خلقی اور ایک نجس العین کی اعلی ظرفی کی دلچسپ روداد ہے.
مصنف بے پایاں جمالیاتی حس کے دلدادہ ہیں اور ان کے لکھے ہوئے الفاظ اس امر کی سچی گواہی دیتے جابجا نظر آتے ہیں. انہیں کسی قسم کی رنگ آمیزی اور مبالغہ آرائی، کی رتی بھر ضرورت نہیں ہوتی. ان کا طرزِ تحریر شائستہ بیاں، رواں، شستہ اور کسی بھی قسم کی تصنع سے پاک ہے. وہ سیدھے سادے عام فہم انداز میں واقعات تحریر کرتے ہیں بلاوجہ تشبیہات و استعارات کے استعمال سے تحریر کو بوجھل نہیں کرتے.

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

کے مصداق وہ روانی سے اپنے خیالات ضبط تحریر میں لاتے ہیں. ان کی کتاب میں شامل دیگر مضامین ان کی اعلی تحقیقی صلاحیتوں کے غماز ہیں.
مجموعی طور پر ان کی یہ کتاب، آپ بیتی کی دلچسپی، سفرنامے کی رنگینی، دنیا کی بے ثباتی، آپس کی نااتفاقی اور مصنف کی جذباتی تحاریر کا دل آویز مرقع ہے جس میں زندگی کی بوقلمونی کیفیات، رنج و الم کے حالات، خوشی کی کیفیات، زیست انسانی کے مختلف النوع واقعات قاری کو متحیر اور سوچ کو متغیر کرنے دینے والے ہیں. ایک اور اعلٰی کتاب کی تصنیف پر انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ ان کی دیگر کتب بھی جلد اشاعت کے مراحل سے گزر کر ہمارے سامنے آئیں گی.

حوروں کے مسکن میں مشرق کا ہیرا – محمد اکبر خان اکبر” ایک تبصرہ

  1. اکبر خان نے ۔”مشرق کا موتی ۔ حوروں کا مسکن ” پہ خوب تبصرہ تحریر کیا ایک جانب مارکیٹ میں نئی کتاب کی آمد اور دوسری طرف کتاب کے مطالعہ کی تحریک نے جنم لیا ۔معاشرہ کو آج کتاب کی اشد ضرورت ہے اور کوئی بھی کتاب اپنے عہد کی زندہ اور سائنسی تاریخ مرتب کرنے کا اصل حوالہ ہوتی ہے سچ میں ڈاکٹر ادریس احمد آفتاب کی تحریر نئے پڑھنے والوں کے لئے پرکشش اور منظم کوشش کہی جاسکتی ہے ان کی کتاب میں جہاں دیدگی ،جہاں گردی اپنی جوان مردی کے ساتھ جگمگاتی نظر آتی ہے خشک موضوعات میں دلچسپی کا تڑکا لگانا تو کوئی ان ہی سے سیکھے
    ڈاکٹر محمد شہزاد رانا۔ڈائریکٹر ۔کمیونٹی براڈکاسٹ ریڈیو ٹی وی اینڈ فلم/ایسوسی ایٹ پروفیسر۔ڈیپارٹمنٹ آف میڈیا سٹڈیز دی اسلامیہ یونی ورسٹی آف بہاول پور
    drmshahzad@iub.edu.pk

اپنا تبصرہ بھیجیں