ویلز اور ملائیشیا کے سفرناموں کی تقریبِ پزیرائی…

اسلام آباد میں انگلستان سے آئی ہوئی شاعرہ، افسانہ نگار اور سفرنامہ نگار مشرف مبشر اور ملائیشیا سے آئی ہوئی شاعرہ، سفرنامہ نویس اور ڈرامہ نگار محترمہ قدسیہ قدسی کے اعزاز میں ایک شامِ ملاقات منعقد ہوئی۔ وجہِ تقریب مشرف مبشر صاحبہ کا انگلستان کا سفرنامہ ’’ویلز…دل آویز‘‘ اور محترمہ قدسیہ قدسی کا ملائیشیا کا سفرنامہ ’’اخضریں سرزمیں‘‘ بنا۔ دونوں مصنفین پشاور سے بطور خاص اسلام آباد تشریف لائی تھیں۔
تقریب کی صدارت معروف شاعر اور نقاد ڈاکٹرنثار تیرابی نے کی۔ مہمانِ خصوصی صاحب طرز افسانہ نگار اور سفرنامہ نگار حسنین نازشؔ تھے جب کہ مہمانِ اعزاز کی کرسی پر جھنگ سے بطور خاص تشریف لائے ہوئے ڈاکٹر طارق مجید متمکن ہوئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ محفل ڈاکٹر نثار ترابی نے کہا کہ ان مذکورہ سفر نامہ نگاروں نے اپنے ان سفرناموں میں داستان کا داستانوی طرز، ناول کی فسانہ طرازی، ڈرامے کی منظر کشی، آبیتی کا مزہ اور پھر جگ بیتی کے الطاف کے رنگو ں سے مزّین کرکے سفرنامے کی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔

حسنین نازشؔ نے کہا کہ سفرنامہ دراصل ایک با شعور سیّاح کے ان تجربات، مشاہدات اور وارداتِ قلبی کا نچوڑ ہوتا ہے جو اس نے دوران سفر محسوس کیے ہوں اور اسے سفر کے دوران یا اختتام ِسفر کے بعد رقم کیا ہو۔ ایک اچھے سفرنامے کے لئے عمدہ اسلوب اور تاثرات و مشاہدات کاسلیقہ مند اظہار بھی ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قاری ان سفرناموں کے مطالعے سے سیّاح کے ساتھ سفر میں شامل ہو گیا ہے۔ قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف پڑھ نہیں رہا ہے بلکہ وہ لکھاری کے ساتھ سفر بھی کر رہا ہے اور تمام مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔
مہمانِ اعزازڈاکٹر طارق مجید نے کہا کہ مذکورہ سفرنامے غیرجانبدار اور غیر متعصب ہیں کیوں کہ اگر وہ جانبداری کا لحاظ رکھے تو صحیح نتیجہ تک نہیں پہنچ سکے گا نیز تعصب کی عینک سے اسے ہر چیز میں خرابی ہی نظر آئے گی۔ انہوں نے خواتین سفرنامہ نگاروں کی اس قلمی کاوش کو دبستان قصّہ گوئی میں ایک اہم باب قرار دیا۔
تقریب سے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے پروفیسر ڈاکٹر ناصر نے بھی خطاب کیا اور ان دو سفرناموں میں انسانی نفسیات کے جملہ پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
تقریب میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے جید اہل قلم اور ادب دوست ساتھیوں نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں