ہزار کتابیں پڑھو اور ہزار میل کا سفر کرو – جاوید چودھری

یہ عام سی کہاوت تھی اور اخبار کے کسی عام سے صفحے پر چھپی تھی لیکن یہ میری رہنما بن گئی ہے اور میں آج تک اس کے سحر سے نہیں نکل سکا۔

یہ چین کے کسی قدیم فلسفی کا قول تھا۔ اس کا کہنا تھا ”تم اگر علم حاصل کرنا چاہتے ہو تو ہزار کتابیں پڑھو اور ہزار میل سفر کرو“ یہ یقیناً اس دور کا قول تھا جب کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں اور یہ صرف بادشاہوں، گورنرز اور جاگیرداروں کی ملکیت ہوتی تھیں اور کسی خوش نصیب ہی کو ان تک رسائی نصیب ہوتی تھی، یہ وہ دور تھا جب طالب علموں کو کتاب پڑھنے کے لیے سو سو میل دور جانا پڑتا تھا، یہ کتاب کے مالک تک پہنچتے تھے اور کتاب پڑھنے کے لیے سال سال جانوروں کو چارہ ڈالتے تھے، اس دور میں امام بخاری اور مولانا روم جیسے عالم بھی کتابوں کے لیے رؤسا کے محتاج تھے چنانچہ اس دور میں یقیناً ہزار کتابوں کا مطالعہ علم تک رسائی تھی۔

اس دور میں سفر بھی ایک مشکل فعل تھا، شہروں، شہروں جتنے ملک ہوتے تھے، ہر ملک کا بادشاہ، قانون، زبان اور تمدن مختلف ہوتا تھا، راستوں کا علم نہیں تھا، سفر کے ذرایع محدود تھے، آپ گھوڑے یا خچر پر سفر کر سکتے تھے اور یہ بھی عموماً راستے میں مر جاتے تھے، روپیہ، پیسہ اور خوراک ساتھ لے جانا مشکل ہوتا تھا، راستوں میں جنگل بھی ہوتے تھے اور ڈاکو بھی، مسافر جانوروں سے بچتا تھا تو ڈاکوؤں کے ہتھے چڑھ جاتا تھا، ان سے بچ جاتا تو کسی ظالم بادشاہ کی تلوار کا رزق بن جاتا اور اس سے بھی محفوظ رہتا تو بھوک اور پیاس سے مر جاتاتھا۔

راستے میں دریا اور سمندر بھی آتے تھے اور انھیں عبور کرنا تقریباً ناممکن ہوتا تھا چنانچہ لوگ جس بستی، جس گاؤں یا جس شہر میں پیدا ہوتے تھے یہ پوری زندگی اسی میں گزار دیتے تھے حتیٰ کہ یہ پہاڑ کی دوسری طرف جھانکنے تک کی ہمت نہیں کرتے تھے، اس دور میں ہزار میل واقعی طویل سفر ہوتا تھا چنانچہ چین کے اس فلسفی نے ہزار کتابوں اور ہزار میل سفر کو علم کی بنیاد بنا دیا لیکن یہ قول جب ہماری نسل تک پہنچا تو اس وقت کتاب بھی عام ہو چکی تھی اور ہزار میل سفربھی ہماری روٹین بن چکا تھا چنانچہ میں نے ہزار کتابوں کو دس ہزار کتابیں اور ہزار میل کو دس ہزار میل بنا لیا۔

ہم تاریخ کے شاندار ترین دور میں زندہ ہیں، آج ہر وہ چیز عام انسان کی دسترس میں ہے جو سو سال پہلے تک صرف بادشاہوں، راجاؤں اور وڈیروں کی ملکیت ہوتی تھی، آج سے سو سال پہلے معالج اور ادویات بادشاہوں تک محدود تھیں، آج سے دو سو سال پہلے تک تعلیم صرف امراء کے لیے تھی، آج سے ڈھائی سو سال پہلے تک سفر صرف بڑے لوگ کر سکتے تھے اور وہ بھی لشکر بنا کر چلتے تھے اور آج سے پانچ سو سال پہلے تک کتابیں صرف بادشاہوں کی دسترس میں ہوتی تھیں لیکن آج یہ تمام نعمتیں عام ہیں، آج صدر اوبامہ اور کینیا کا باراک حسین دونوں ایک ہی کتاب پڑھتے ہیں، دونوںایک ہی دوا کھاتے ہیں، دونوں یکساں قسم کے اسکول جاتے ہیں اور دونوں دنیا کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک دیکھ سکتے ہیں اور اگر یہ ریکوائرمنٹس پوری کر لیتے ہیں تو انھیں دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی چنانچہ آج کے انسان پر علم کے تمام دروازے کھلے ہیں، ہم میں سے ہر شخص ہر قسم کا علم حاصل کر سکتا ہے۔

میں نے کوٹیشن پڑھی تو کتاب اور سفر دونوں کو زندگی کا حصہ بنا لیا، میں 1984ء میں میٹرک کا طالب علم تھا، میں اس وقت سوات، کاغان اور سکردو تک پہنچ گیا، میں 1986ء میں گلگت سے بائی روڈ کاشغر چلا گیا اور کراچی، کوئٹہ اور زیارت سے اکیلا ہو آیا۔ آپ اگر بچے ہیں یا آپ کے بچے میٹرک یا ایف اے کے طالب علم ہیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں پندرہ سولہ سال کی عمر میں بسوں، وینوں اور ٹرینوں پر اکیلے سفرکتنا مشکل ہوتا ہے لیکن میں ایف اے تک آدھا ملک اکیلے گھوم چکا تھا، میں 1992ء میں عملی زندگی میں آیا تو میں نے سب سے پہلے پاسپورٹ بنوایا اور 1993ء میں سفر شروع کر دیے۔

میرے پاس جوں ہی ٹکٹ کے پیسے جمع ہو جاتے تھے میں کسی نہ کسی ملک کی طرف نکل جاتا تھا، میں وہاں کیمپنگ سائیٹس، یوتھ ہاسٹلوں اور وائے ایم سی اے میں رہتا تھا، پیدل سفر کرتا تھا، چنے اور چھلیاں کھاتا تھا اور لفٹ لے لے کر شہر شہر گھومتا تھا، 1997ء میں خوشحالی شروع ہوئی تو میں ہاسٹلوں سے ہوٹلوں میں شفٹ ہونے لگا، 2000ء میں زندگی تبدیل ہو گئی تو میں نے سیاحت میں بھی اضافہ کر دیا، میں دنیا کو ایک سرے سے دیکھ رہا ہوں اور آہستہ آہستہ دوسرے سرے کی طرف بڑھ رہا ہوں، میرے ان سفروں نے میرا مشاہدہ اور وژن بدل دیا، میں نے دنیا میں ابھرتی ہوئی قومیں بھی دیکھیں اور ان قوموں کے وہ اصول بھی جن کی وجہ سے یہ تیزی سے ابھر رہی ہیں اور مجھے زوال پذیر معاشروں میں بھی جھانکنے کا موقع ملا اور ان کے زوال کی وجوہات کے مشاہدے کا اتفاق بھی ہوا۔

میں نے ان سفروں کے دوران ماحول کو صاف رکھنے، دوسروں کی رائے کا احترام کرنے، دوسروں کے مذاہب کو برداشت کرنے، مسکرانے، قہقہہ لگانے اور خوش رہنے کے اصول بھی سیکھے اور جیو اور جینے دو کا فلسفہ بھی۔ میں آج دعوے سے کہتا ہوں میں اگر مسلسل سفر نہ کرتا تو میں مینڈک کی طرح کنوئیں تک محدود رہتا اور اس کے دائرے میں ٹراتا رہتا اور اپنی اس ٹرٹراہٹ کو دنیا کی سب سے بڑی حقیقت سمجھ کر دوسروں کی ٹرٹراہٹ کا مذاق اڑاتامگر ان سفروں نے میرے اندر برداشت بھی پیدا کی اور لچک بھی اور آج مجھے دوسرے انسان بھی انسان دکھائی دیتے ہیں، میں لوگوں کا فیصلہ مذہبی، نسلی اور لسانی بنیادوں پر نہیں کرتا، میری نظر میں دوسرے لوگ بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنا میں خود کو سمجھتا ہوں۔

کتابیں دوسرا معمول تھا جس نے مجھے زندگی کے سارے رنگ ٹٹولنے، ساری آوازوں کے ذائقے چکھنے، ساری خوشبوؤں کے لمس چھونے اور سارے خوابوں کی دھوپ چھاؤں دیکھنے کا موقع دیا۔ کتاب، فلم اور سفر آج کے دور کے تین عظیم تحفے ہیں، ہم اگر آج ان سے دور ہیں تو پھر ہم 2012ء میں 1480ء کی زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ اس دور میں یہ تینوں سہولتیں نہیں تھیں، ہمارے پاس کتاب تھی، فلم تھی اور نہ ہی سفر تھے، یہ حقیقت ہے ہم اچھی کتاب سے جو کچھ سیکھ سکتے ہیں وہ شاید ہم عمر بھر کے تجربوں سے بھی نہ سیکھ سکیں۔

ہمیں ایک معیاری فلم جو کچھ سکھا سکتی ہے وہ ہمیں شاید سو کتابیں مل کر نہ سکھا سکیں اور ہم ملک سے باہر جا کر دس دنوں میں جو کچھ سیکھتے ہیں وہ شاید ہمیں سو فلمیں، سو کتابیں اور سو سال کے تجربے بھی نہ سکھا سکیں، یورپ کے لوگوں نے باررڈرز کھلنے، سیجنکنٹریز بننے اور ایک دوسرے کے ملک میں سفر کرنے سے جو کچھ سیکھا وہ یہ دو ہزار سال کی تاریخ میں نہیں سیکھ سکے اور آج جو کچھ سنٹرل ایشیا کی مسلمان ریاستیں اور مشرقی یورپ کے ملک سیکھ رہے ہیں یہ سوویت یونین کے 80 سالوں میں اس سے محروم رہے۔

یہ آہنی پردے کے دوسری طرف موجود لوگوں کو اسی سال تک اپنا جانی دشمن سمجھتے رہے لیکن یہ پردہ جوں ہی ہٹا یہ دوسری طرف اپنے جیسے لوگوں کو دیکھ کر حیران رہ گئے اور آج یہ ان لوگوں کے ساتھ خوش بھی ہیں اور انھیں اپنا دوست بھی سمجھ رہے ہیں، آج یورپ اور سوویت یونین کی پرانی ریاستوں کے درمیان جنگیں اور نفرت ختم ہو چکی ہے اور عوام ایک دوسرے سے خوش بھی ہیں اور ایک دوسرے کی اکانومی اور معاشرت کو سپورٹ دینے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

میں دل سے یہ سمجھتا ہوں ہمارے بارڈر کھلنے چاہئیں، ہمارا افغانستان، تاجکستان، ایران، ترکی، چین اور انڈیا سے عوامی رابطہ استوار ہونا چاہیے، ہم اپنی گاڑیوں میں امرتسر، دہلی، آگرہ، احمد آباد اور ممبئی جائیں اور بھارت کے لوگ ذاتی سواریوں پر لاہور، اسلام آباد، پشاور، کراچی اور کوئٹہ آئیں، ہم سری نگر دیکھیں اور وہ جھیل سیف الملوک آئیں، ہم کابل، مزار شریف، تہران، مشہد، انقرہ، قونیہ اور استنبول جائیں، بائی روڈ دوشنبے جائیں، وہاں سے بخارا اور سمر قند جائیں اور گھومتے ہوئے کاشغر اور کاشغر سے گلگت تک آ ئیں اور ہماری طرح چین کے مسلمان، تاجکستان کے تاجک، ازبکستان کے ازبک، ایران کے ایرانی، ترکی کے ترک اور انڈیا کے انڈین پورا پاکستان گھوم کر دیکھیں، ہمارا خطے کے دوسرے لوگوں کے ساتھ انٹرایکشن ہو، اس انٹرایکشن سے خطے میں استحکام بھی آئے گا اور ہم ایک دوسرے سے سیکھیں گے بھی اور ہماری برداشت میں بھی اضافہ ہو گا۔

کل پاکستان اور بھارت کے درمیان ویزے میں نرمی کا معاہدہ ہوا، اس معاہدے کے تحت ممبئی کراچی فیری اور دہلی اسلام آباد فضائی سروس شروع ہوگی، تاجروں کو 10 شہروں کے لیے ایک سال کا ملٹی پل ویزا جب کہ چھوٹے تاجروں کو5 شہروں کا 30 روز کے لیے ویزا جاری ہو گا اور فنکاروں کو ٹرپل انٹری ویزا ملے گا جب کہ سیاحتی ویزا چھ ماہ کے لیے پانچ مقامات کا ہوگا، یہ خوش آیند ڈویلپمنٹ ہے کیونکہ ہم اس سے ہسٹریا کی اس کیفیت سے نکل سکتے ہیں جس نے 65برس سے اس خطے کو غلام بنا رکھا ہے۔

آج اگر امریکا اور روس دوست بن سکتے ہیں، برطانیہ اور فرانس بھائی بھائی بن سکتے ہیں اور جرمنی اور پولینڈ کے بارڈر کھل سکتے ہیں تو ہم ایک دوسرے کے اچھے ہمسائے کیوں نہیں بن سکتے، ہم ایک دوسرے کے ساتھ پرامن طریقے سے کیوں نہیں رہ سکتے۔ بارڈر کھڑکیاں ہوتے ہیں اور ہم جب تک کھڑکیاں نہیں کھولتے ہم تازہ ہواؤں سے محروم رہتے ہیں اور تازہ ہواؤں کے بغیر معاشرے چل سکتے ہیں اور نہ ہی افراد، کھڑکیاں کھولتے رہیں تا کہ عوام پٹوں کے دوسری طرف موجود انسانوں کو محسوس کر سکیں، انھیں یہ معلوم ہو سکے دوسری طرف ہمارے جیسے انسان ہیں، نفرت نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں