محترمہ فوزیہ تاج کا شعری مجموعہ ”سنگ ریزے‘‘ – محمد اکبر خان اکبر

فوزیہ تاج کی شاعری ان کے فکر و فن اور شعور کی نمائندہ ہے. ان کا لہجہ شگفتہ اور محبت کی چاشنی سے لبریز ہے. وہ رومانی اساس اور اس سے متصل احساسات کو بحور میں سمیٹنے سے آشنا ہیں. فوزیہ تاج کے اشعار دیکھ کر انہی خیالات کے نقوش محسوس ہوتے ہیں.

دل بے مہر تو الجھا تھا تیرے بالوں میں
میں خود پھنسا تھا تیری ریشمی سی چالوں میں
نکھر نکھر گئی ہر لحظہ وہ گم گشتہ حیات
سنور سنور کے میرے گمشدہ خیالوں میں

شاعرہ زیست انسانی کی مختلف کیفیات کو غزل میں سمونا خوب جانتی ہیں. ان کی غزل ان کے جذبات کی آئینہ دار ہے:

بنا کے کون گھروندے گرائے جاتا ہے
دِلوں سے آس کا دامن چھڑائے جاتا ہے

اور یہ بھی دیکھیے:

رات یہ چاند کیوں رکتا نہیں گلی میں میری
در و دیوار کی وحشت بڑھائے جاتا ہے

بلاشبہ شاعرہ کا مشاہدہ بہت گہرا ہے جس کا تعلق ان کی حساس طبیعت سے ہے. یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار خصوصاً نظموں میں منظر کشی اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے:

میں تصویر بناتی ہوں
تخیل کے رنگوں سے
ہر طرح کے رنگ بھرتی ہوں
مگر پھر بھی
کوئی چہرہ نہیں بنتا

فوزیہ تاج وجدان کے اعلٰی درجے پر چمکتی دکھائی دیتی ہیں. وہ ایک ایسی تخلیق کار ہیں جن کا فن ان کے کرافٹ اور کینوس کو بھرپور واضح کرتا ہے. علامتی انداز، وارفتگی، سلاست بیانی، الفاظ کی روانی، خوش بیانی اور خیالات کی فراوانی ان کے تغزل کو مزید نکھار دیتی ہے. فوزیہ تاج ندرت خیال، قدرت اظہار، مضمون آفرینی، معانی و مفہوم کا عمدہ اظہار خوب کرتی ہیں. ان کی نظم ”اندر کا موسم‘‘ میں بھی منظر نگاری اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے:

جب کبھی رنگ موسم بدلنے لگا
رت بدلنے لگی نکھری نکھری فضا
پھیلے کاجل کی مانند چھانے لگی
نیلے آکاش پہ کالی کالی گھٹا

رنج و الم کی ترجمانی فوزیہ تاج کی شاعری کا ایک اور زاویہ ہے بلکہ وہ اپنی شاعری کو کرب و درد ہی تصور کرتی ہیں:

شعر کہتی نہیں میں کرب لکھا کرتی ہوں
میں تو کاغذ پہ فقط درد لکھا کرتی ہوں
جو خیالات زمانے سے کہہ نہیں پاتی
بس وہی راز دل فگار لکھا کرتی ہوں

شاعرہ کے اس مجموعہ کلام ”سنگ ریزے‘‘ میں شامل مزید اشعار دیکھیے:

یہ ہوائیں تیرے آنے کا پتہ دیتی ہیں
گلوں میں رنگ سمانے کا پتہ دیتی ہیں
کتنی مشکل ہے طوالت شب تنہائی کی
یہ اندھیروں کو ریاضت کا صلہ دیتی ہیں

ذرا معنی و مفہوم کی مزید ادائیگی دیکھیے:

اتنا برا خیال بھی آیا کبھی نہ تھا
اس نے مجھے اتنا تو ستایا کبھی نہ تھا
ہم نے تمہیں ہر بار منانے میں پہل کی
روٹھے ہوؤں کو ہم نے منایا کبھی نہ تھا

فوزیہ تاج ایک اہم انتظامی عہدے پر فائز ہیں. اپنی بہت سی سرکاری اور گھریلو ذمہ داریوں کے باوجود ان کا شعری ذوق عمدہ ہے جو ان کی لاجواب اور پر اثر شاعری سے واضح ہو رہا ہے. ان کی شاعری ایک باہمت اور جری خاتون کی توانا اور پرتاثیر آواز ہے. یہ مجموعہ کلام ”سنگ ریزے‘‘ ایک اعلٰی شعری تخلیق ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں