فرخ سہیل گوئندی کی نئی کتاب ’’میں ہوں جہاں گرد‘‘ شائع ہو گئی ہے.

نامور دانشور، سفرنامہ نگار، ماہرِ سیاسیات و سماجیات، ممتاز ناشر اور جہاں گرد فرخ سہیل گوئندی کی نئی کتاب ’’میں ہوں جہاں گرد‘‘ کے عنوان سے شائع ہو گئی ہے. گوئندی صاحب کی یہ کتاب جو کہ ایک سفر نامہ ہے، 820 صفحات پر مشتمل ہے. یہ ایک منفرد سفر کی داستان ہے جو لاہور سے یورپ تک زمینی راستوں پر سیاحت کرتے ہوئے مکمل ہوا۔ 1983ء میں فرخ سہیل گوئندی نے ایک سیاح کے طور پر سفر کیا اور پھر اس زمانے کو اس کتاب میں محفوظ کردیا۔ اُن کے بقول، ایک حقیقی سیاح ہم عصر تاریخ کا گواہ اور مؤرخ ہوتا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے ایسے زمانے کو محفوظ کیا ہے جو اَب بیت چکا ہے۔ ایران اور ترکی جو بدلا سو بدلا، سوشلسٹ بلغاریہ تو بالکل ہی بدل گیا جسے وہ اپنے اس سفر میں سرخ جنت قرار دیتے ہیں۔
’’میں ہوں جہاں گرد‘‘، اُردو کے جدید سفرناموں میں ایک دلچسپ، معلوماتی اور سحرانگیز سفرنامہ ہوگا کہ یہ قاری کو اپنے ساتھ ساتھ لے کر چلتا ہے۔ فرخ سہیل گوئندی نے پچھلے چند برسوں میں مختلف جرائد میں اپنے کئی سیاحتی سفروں کو لکھا اور پھر قارئین کی دلچسپی اور اصرار کے باعث انہوں نے اپنی اس یادگار سیاحت کو کتاب کی صورت میں محفوظ کر دیا ہے۔ یوں ’’میں ہوں جہاں گرد‘‘ کتابی شکل میں اُن کا پہلا سفرنامہ ہے۔
یہ سفر نامہ اَن دیکھے خطوں، بستیوں، قصبات، مقامات اور شہروں کی سیاحت اور ناقابل یقین واقعات اور داستانوں پر مشتمل اردو ادب میں اپنی نوعیت کا پہلا سفرنامہ ہے جو پڑھنے والوں کو سفرنامہ کے نئے اور شان دار پہلوئوں سے آشنا کرے گا۔ ’’میں ہوں جہاں گرد‘‘ پڑھنے والوں کو اُنہی راہوں پر سفر پر اکسانے کی طاقت رکھتا ہے جن راہوں پر فرخ سہیل گوئندی نے سیاحت کی۔ کتاب میں بے شمار تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں.
اس کتاب کی قیمت 1,380 روپے مقرر کی گئی ہے اور اسے ’’جُمہوری پبلیکیشنز، لاہور‘‘ نے بہت اہتمام سے شائع کیا ہے. کتاب منگوانے کے لیے درج ذیل نمبر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے:
92-333-4463121+

فرخ سہیل گوئندی کی نئی کتاب ’’میں ہوں جہاں گرد‘‘ شائع ہو گئی ہے.” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں