معروف مصنفہ ڈاکٹر تنویر انور خان کی کتاب ”مِیت رے‘‘- محمد اکبر خان اکبر

ڈاکٹر تنویر انور خان، وطن عزیز کی معروف افسانہ نویس ہیں. وہ فکشن نگاری اور اس کے جملہ لوازمات سے کماحقہ واقف ہیں. ڈاکٹر تنویر صاحبہ کی فکشن نگاری میں سماج کے کئی کرداروں کو جیتے جاگتے دیکھا جا سکتا ہے. وہ کہانی کی بنت اور کرافٹ پر کامل دسترس رکھتی ہیں جو ان کے ادبی رسوخ کی پختہ علامت ہے. مصنفہ کے کرداروں میں زندگی کے کئی رنگ واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں.
تنویر انور خان المیہ نویسی ایسی شاندار کرتی ہیں کہ قاری بے شمار مقامات پر نہایت گہرا تاثر لینے پر مجبور ہوجاتا ہے اور خود کو اس کہانی میں شامل سمجھنے لگتا ہے. ان کی کتاب ”مِیت رے‘‘ ناولٹ اور ان کے چند افسانوں پرمشتمل ہے. ان کی کردار نگاری کا جواب نہیں. وہ ایسی فکشن نگار ہیں جسے کردار نگاری کے فن پرکامل دسترس حاصل ہے. اس ناولٹ میں ”سنگھار‘‘ کا کردار ان کی ایسی تخلیق ہے جس سے ڈاکٹر تنویر انور خان کے فن اور اسلوب کی بلندی واضح ہوجاتی ہے. ان کی تحریر اختتام تک قاری کو گرفت میں لیے رکھتی ہے.
سنگھار کا کردار معاشرتی کشید کا منفرد اظہاریہ ہے جو زندگی میں پائے جانے والے عروج و زوال کے رنگوں سے آشنا کرواتا ہے. یہ کردار ظلم و ستم کی چکی میں پس کر بھی برداشت اور تحمل کی داستان رقم کرتا محسوس ہوتا ہے. سنگھار اپنوں کی بے اعتنائی اور پرائے لوگوں کی بے حسی و بے پروائی کے باوجود زمانے کے نشیب و فراز کا مقابلہ کرتی ہے اور اپنی اولاد کو خودداری اور غیرت کے جذبوں سے آشنا کرواتی ہے. اس ناولٹ میں ممتا کے جذبات بھی ہیں اور دشوار حالات میں جدوجہد کی قوی علامات بھی، جو آخر تک پڑھنے والے کو مسحور کن احساسات میں محصور رکھنے کے تقاضوں سے بہت حد تک بھرپور ہیں.
ڈاکٹر تنویر انور کی اس کتاب میں افسانے بھی شامل ہیں. ان کی افسانہ نگاری میں سماجی استفادے کا گہرا تاثر پایا جاتا ہے. مصنفہ کے یہاں موضوعات کا تنوع پوری حشر سامانیوں کے ساتھ موجود ہے. ہر افسانہ منفرد اور الگ تخلیقی اظہار کا نچوڑ ہے. افسانہ ”عید رنگ‘‘ میں ذہنی طور پر پراگندہ شوہر کی زیادتیوں سے سمجھوتہ کرنے والی وفا شعار بیوی کی کہانی بیان کی گئی ہے. افسانہ ”کیسی خوشی لے کے آیا چاند‘‘ میں اولاد کے دکھ اور پیار کرنے والے جوڑے کی بے کلی کو نمایاں کیا گیا ہے. افسانہ ”چارہ گر وہی تھا‘‘ رومانویت اور اس سے جڑے لوازمات سے جگمگا رہا ہے جس میں ایک خوبرو حسینہ الجھاﺅ کا شکار نظر آتی ہے.
”چھوٹی عورت‘‘ معکوس معنی بیان کرتا افسانہ ہے جو طبقہ نسواں کے ایک عمومی مسئلہ کے کئی روپ قاری کو دکھلاتا ہے. ڈاکٹر صاحبہ چوں کہ شعبہ طب سے متعلق ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ کرداروں کی نفسیات اور اس سے منسلک دیگر عوارض و محرکات کی نشاندہی و پیش کش خوب سے خوب تر کرتی ہیں.
ان کی کتاب کا بنظر غائر مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ وہ اپنے افسانوں میں سماجی و ثقافتی ماحول شامل کرکے تخلیق کے عمل سے گزرتی ہیں. شگفتہ اسلوب ان کی عمومی روش ہے جس کا احساس ان کی زیر تبصرہ کتاب میں مختلف مقامات پر ہوتا ہے.
ڈاکٹر صاحبہ کی خامہ فرسائی سے تخلیقیت کے نئے سوتے پھوٹتے ہیں. شاید یہی سبب ہے کہ ان کے اب تک کئی مجموعے منصئہ شہود پر آ کر استحسان کی سند پا چکے ہیں. اپنی بے شمار پیشہ ورانہ مصروفیات کے باوجود ادبی سرگرمیوں کے لیے وقت نہیں نکالنا ان کا ہی کمال ہے.

معروف مصنفہ ڈاکٹر تنویر انور خان کی کتاب ”مِیت رے‘‘- محمد اکبر خان اکبر” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں