ممتاز صحافی، نواب ناظم کا پہلا شعری مجموعہ ”لمحوں کا زہر‘‘- محمد اکبر خان اکبر

نواب ناظم باخبر، مستعد اور تجربہ کار صحافی ہیں. ان کی صحافتی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی ادبی حیثیت اور بلند ادبی قدوقامت کا ایک زمانہ معترف ہے. وہ لاہور کے ادبی افق پر خوب فعال ہیں اور ملکی سطح پر ادب پروری میں مشہور و معروف ہیں.
ان کا مجموعہ کلام ”لمحوں کا زہر‘‘ ہمیں ایک ایسے شاعر سے روشناس کرواتا ہے جو اپنی گو نا گوں مصروفیات کے باوجود ادبی سرگرمیوں میں بھی خوب شامل رہتے ہیں. وہ بیک وقت محقق، شاعر، کالم نگار اور ناول نگار بھی ہیں. ان کی شاعری سماج کی سچی تصویر کشی ہے.
ان کا اولین شعری مجموعہ ”لمحوں کا زہر‘‘ شائقینِ سخن سے خوب داد پا رہا ہے. حال ہی میں اس کا دوسرا ایڈیشن طبع ہوا ہے. اس مجموعہ کلام کی ابتداء مناجات سے ہوتی ہے جس کے ایک ایک مصرعے پر بے ساختہ آمین لبوں پر آجاتی ہے.
اس کے بعد ایک عاشق رسولﷺ آٹھ نعتیں رسول مقبولﷺ کی بارگار میں پیش کرتا ہے. ان کی نعتیہ شاعری کے ہر لفظ سے عشق مصطفیﷺ کی خوشبو اور عقیدت کے پھول جھڑتے ہیں.
کتاب میں شامل نواب ناظم کی غزلیں شاعری کے قدر دانوں کی پیاس بجھاتی معلوم ہوتی ہیں. شاعر سادگی، توازن اور روانی سے اشعار کو اظہار خیال کا وسیلہ بناتے ہیں. ان کی غزل جدیدیت کے پہلو سے مطالعہ کرنے کے قابل ہے.

آج کل غارت گری کا ہے رواج
رو رہا ہے خون کے آنسو سماج
رات بھر جلسے ہیں اور دن بھر جلوس
شہر بھر میں بند ہے اب کام کاج

ان کی شاعری میں سماج کی سچی منظر کشی ملتی ہے. میری رائے میں سہل اور عام فہم انداز ان کا امتیازی وصف محسوس ہے. ایک غزل کے اشعار دیکھیے:

نیلام اب ضمیر کا ہوتا ہے شہر میں
غیرت کسی کی بِک گئی چرچا ہے شہر میں
ایسے میں اعتماد کروں جس کی ذات پر
اپنا بھی آج کل تو پرایا ہے شہر میں

ان کے اشعار میں درد و کرب کا احساس بھی دیکھا جا سکتا ہے جو ان کی حساسیت اور گہرے مشاہدے کی دلیل ہے:

پلکوں پہ آنسوؤں کو فروزاں نہ کر سکے
تنہائیوں کی شب میں چراغاں نہ کر سکے
کرنوں کی آرزو کو نمایاں نہ کر سکے
ہم قصرِ زندگی کو درخشاں نہ کر سکے

درج بالا اشعار سے کلاسیکی غزل کا سنہرا احساس ابھرتا ہے. نواب ناظم کے ہاں موضوعات کی کثرت ہے جسے حسن و خوبی سے وہ اپنے اشعار میں ڈھالتے جاتے ہیں، ملاحظہ ہو:

جو بچوں میں علم و ہنر بانٹتے ہیں
وہ ظلمت میں نورِ سحر بانٹتے ہیں

”لمحوں کا زہر‘‘ میں شاعر کی کئی اعلٰی نظمیں بھی شامل ہیں جو ان کے فکر و فن پر عبور کا ایک گہرا تاثر قائم کرتی ہیں. نواب ناظم کی نظموں میں خوش آہنگی، غنائیت اور دیگر محاسن بھر پور انداز میں جلوہ گر ہیں. نواب صاحب فی الحقیقت ان چند معاصر شعراء کرام میں شامل ہیں جن کا کلام پر تاثیر اور سماجی ناہمواریوں کی سچی منظر کشی کرتا ہے. ان کے اس ادبی فن پارے کو جو پذیرائی ملی ہے وہ اس کے یقیناً حق دار ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں