صحرائے تھل کا ہیرا، دنیائے ادب کی منفرد کتاب، ’’کلیاتِ ناصر ملک‘‘ – سید فیاض الحسن

نامور شاعر، ادیب، دانشور اور محقق، ناصر ملک کی کتاب ’’کلیاتِ ناصر ملک‘‘، بذریعہ ڈاک، محبتوں کی مخملی غلاف میں لپٹی ہوئی، ذوق مطالعہ و علمیت میں اضافہ کی غرض سے موصول ہوئی. پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے بڑے صوبے پنجاب کے جنوب میں واقع لیہ، صحرائے تھل، خشک و گرم علاقے سے دریافت ہونے والا ہیرا ناصر ملک نے، اپنی کلیات میں ”لایموت‘‘، ”لاثان‘‘، ”غبارِ ہجراں‘‘، ”یہ سوچ لینا‘‘، ”جان، جگنو اور جزیرہ‘‘، ” ہتھیلی‘‘، ”سامعہ‘‘ اور ”راکھ‘‘ کو شامل کرتے ہوئے آٹھ کتابوں کو مجموعہ کی شکل دی. اس مجموعہ میں اہمیت اور خصوصیت کی حامل ”لا یموت‘‘ ہے جس میں 99، اسماءالحسنی پر 99 حمدات کہیں ہیں، اور اس میں رب ذوالجلال کو جزوردیف کیا گیا ہے. نہ صرف یہ بلکہ قرآن مجید میں جہاں بھی ذکر آیا اس کا حوالہ بھی دیا ہے. ”لایموت‘‘ میں ہر ایک حمد صفاتِ خداوندی کے گرد گھومتی ہوئی نظر آتی ہے. رب کریم کی جیسی صفت، ویسی ہی حمد، جب کہ ہر حمد کے ساتھ اس کی بحر کے ارکان اور نام کو بھی لکھا گیا ہے تاکہ شعر و سخن سے وابستہ افراد اس پر تحقیق یا استفادہ حاصل کرنا چاہیں تو بآسانی کر سکیں. یہاں یہ امر وضاحت کے لیے لازمی ہے کہ اس قسم کا منفرد و جداگانہ انداز دورانِ عمرہ، خانہ کعبہ ذہن میں آیا اور اس خیال کو حقیقت کا روپ دینے کی سعادت ناصر ملک کو بخشی جو کہ تین سالہ مشقت کے بعد قارئین کے لیے موجود ہے.
”لایموت‘‘ کی طرح ”لاثان‘‘ میں بھی 99 اسماءالنبیﷺ پر بھی 99 نعت مختلف صفات کے ساتھ 99 بحور میں موجود ہیں. ہر نعت کو جزو ردیف کیا گیا ہے جس کی بناء پر ہر ایک شعر صفتِ نبی ﷺ کے گرد گھومتا نظر آتا ہے. مثال کے طور پر ”ناصر‘‘، جس کے معنی نصرت، فتح کے ہیں، جب ناصر ردیف ہوگا تو ہر نعت کا شعر اسی محور میں گھومتا نظر آئے گا. جب کہ ہر نعت کی بحر و ارکان کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاکہ شعرو سخن سے وابستہ علم عروض سے دلچسپی رکھنے والے احباب یا جو استفادہ حاصل کرنا چاہیں کر سکتے ہیں.
جنوبی پنجاب لیہ کے خشک و گرم صحرائے تھل سے ناصر ملک نے جس عقیدت و احترام کے ساتھ حمد و نعت کو تازگی اور رعنائی دی ہے اس کا اندازہ قاری کو ’’کلیاتِ ناصر ملک‘‘ پڑھ کر بخوبی ہو سکتا ہے.
میری نظر سے تاحال ایسی کلیات نہیں گزر سکی جس میں یہ خصوصیات موجود ہوں کہ اسماءالحسنی، اسماء النبیﷺ کو بحور کے ساتھ اسلوب پر خاص توجہ دی گئی ہو اور کوشش کی گئی ہو. صحرائے تھل کے ہیرے ناصر ملک نے عقیدت کے زنداں میں مقید ہو کر جس محبتِ خدا اور رسولﷺ میں لفظوں کے معطر پھول و موتی پیش کیے ہیں، اس کی مثال نہیں ملتی. بلا شبہ ربِ کائنات نے ناصر ملک کو یہ سعادت بخشی اور اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا موقع بھی فراہم کیا. اس میں وہ کس قدر کامیاب ہوئے، یہ قاری کی رائے ہی ثابت کرے گی.
اسلامی و اُردو ادب کے مسافر ناصر ملک کی یہ کاوشیں یقیناً ان کی آخرت میں بخشش کا ساماں ہوں گیں اور شفاعت رسول اکرمﷺ بھی میسر ہو گی.
ناصر ملک کی یہ کلیات اس اعتبار سے اسلامی و اردو ادب میں اہمیت کی حامل ہے کہ اس سے قبل اللہ کریم نے کسی کو اس سعادت سے نہیں نوازہ. یہ کتاب دنیائے ادب کی واحد اور پہلی کتابہے جو اپنی انفرادیت کے لحاظ سے صحرائے تھل کا قیمتی و نایاب ہیرا اور ادب کی قابل مطالعہ کلیات بھی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں