چلو دوستو! دودی پت سر چلیں – حافظ‌ شہزاد اسلم

مسافرانِ شوق کے ان سیاحوں کے نام ایک چھوٹا سا نذرانہ…
جو دودی پت سر جھیل کی سمت کا تعین کر چکے، اور جانے کو تیار ہیں.


محبت کی وادی کو سر کر چلیں
چلو دوستو ، دودی پت سر چلیں
ذرا چھوڑ دو شہر کو چند دن
کہ فطرت شناسی اگر جائے چھن
تو اپنے سے بھی تم کو آئے گی گھن
چلو بند اپنے یہ در کر چلیں
چلو دوستو ، دودی پت سر چلیں
مسافر، سفر کی کہانی لکھے
جو الفاظ ہیں ان کے معانی لکھے
نئے دوستوں کو وہ جانی لکھے
چلو پھر سے پربت کے در پر چلیں
چلو دوستو، دودی پت سر چلیں
یہ ذیشان، عثمان، عمران ہیں
یہ تنویر بھی ان کے شایان ہیں
شجاعت بھی ساتھ ان کے ہر آن ہیں
چلو پھر پہاڑوں کے گھر پر چلیں
چلو دوستو، دودی پت سر چلیں
چلے ہو سفر پر تو جانا ضرور
میرا سوز ان کو سنانا ضرور
پہاڑوں میں یہ گیت گانا ضرور
نئے منظر آنکھوں میں بھر کر چلیں
چلو دوستو دودی پت سر چلیں

اپنا تبصرہ بھیجیں